SHAWORDS
Abdul Mateen Niyaz

Abdul Mateen Niyaz

Abdul Mateen Niyaz

Abdul Mateen Niyaz

poet
10Sher
10Shayari
25Ghazal

Sherشعر

See all 10

Popular Sher & Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

gham-e-hayaat gham-e-dil nishaat-e-jaan guzraa

غم حیات غم دل نشاط جاں گزرا تمہارے ساتھ ہر اک لمحہ شادماں گزرا تڑپ کے درد سے فریاد کو جو لب کھولے ستم شعار زمانے پہ یہ گراں گزرا بدل دے رخ جو مری زندگی کے دھاروں کا وہ حادثہ مرے دل پر ابھی کہاں گزرا جواب طور‌ و تجلی کہیں گے اہل نظر جو دل کی راہ سے وہ حسن مہرباں گزرا بسا کے دل میں ترے غم ترے ستم اے دوست جہاں جہاں سے بھی گزرا میں نغمہ خواں گزرا

غزل · Ghazal

shaam aai dard kaa bistar khulaa

شام آئی درد کا بستر کھلا اب رہے گا زخم دل شب بھر کھلا قتل کا الزام مجھ پر کس لیے خون اس کی آستینوں پر کھلا پاؤں کے نیچے زمیں دوزخ ہوئی اور سر پر دھوپ کا خنجر کھلا امن کا دفتر بھی اس کے گھر میں ہے چھوڑ رکھا ہے اسی نے شر کھلا نفرتوں کے اس کنوئیں کو چھوڑیئے آئیے باہر کہ ہے باہر کھلا تل گئے آدرش سب دولت کے بھاؤ اس صدی کا کیا عجب منظر کھلا منہ سے اس کے پھول جھڑتے ہیں نیازؔ ہاتھ میں رکھتا ہے وہ نشتر کھلا

غزل · Ghazal

tajrabon ke mausam jab saazgaar aaeinge

تجربوں کے موسم جب سازگار آئیں گے فکر کے درختوں میں برگ و بار آئیں گے جرأتیں اڑانوں کی پار لے گئیں ہم کو گھات میں رہے جنگل اب شکار آئیں گے ٹکڑے ٹکڑے امیدیں جوڑ لوں گا میں جس دن ہنستے گاتے موسم خود میرے دوار آئیں گے ہم کو دیکھنا یہ ہے بوجھ تو نہیں جیون مرحلے تو دکھ سکھ کے بار بار آئیں گے پھول بنتے جائیں گے زخم زخم تلووں سے میری راہ میں جتنے خار زار آئیں گے ڈوب جا نیاز اب تو سطح کی چمک مت دیکھ تجھ کو گہرے پانی ہی سازگار آئیں گے

غزل · Ghazal

hamein to jism se baahar khulaa saa lagtaa hai

ہمیں تو جسم سے باہر کھلا سا لگتا ہے یہ جسم روح پہ لپٹی ردا سا لگتا ہے ہر ایک چہرے پہ کچھ رنگ ہے کدورت کا تمام شہر کا موسم خفا سا لگتا ہے سخن فریبوں کو رکھتا ہے وہ عزیز مگر مرا خلوص اسے بے مزا سا لگتا ہے وجود اس کا منور ہے اس کی سیرت سے وہ آدمی ہے مگر آئنہ سا لگتا ہے تمہاری ذات پہ کرتا ہے جب کوئی تنقید خدا ہی جانے مجھے کیوں برا سا لگتا ہے امیر شہر کا کردار ہی نہیں کھلتا کبھی حریف کبھی ہم نوا سا لگتا ہے نیازؔ فکر دکھاتی ہے جب کبھی اعجاز پرانا لفظ بھی بالکل نیا سا لگتا ہے

غزل · Ghazal

barg piile kyaa hue shor-e-khizaan uThne lagaa

برگ پیلے کیا ہوئے شور خزاں اٹھنے لگا بے شرر ہی سینۂ گل سے دھواں اٹھنے لگا نام پر ہم کو تحفظ کے ملے اتنے فریب دھیرے دھیرے اعتبار آسماں اٹھنے لگا رحمتیں شاید کہ ہم سے بھی گریزاں ہو گئیں ورنہ کیوں اس شہر سے امن و اماں اٹھنے لگا کہہ کے دیوانہ مجھے دنیا نے رسوا کر دیا آنکھ سے جب پردۂ وہم و گماں اٹھنے لگا بٹ گئی اک دن جزیروں میں ہماری زندگی اور کہانی سے شعور داستاں اٹھنے لگا کاش پہلے جاگتے تو دھوپ میں جلتے نہ ہم نیند جب ٹوٹی کہ سر سے سائباں اٹھنے لگا آگ پھر لگنے لگی نفرت کی شہروں میں نیازؔ دیکھیے چاروں طرف پھر سے دھواں اٹھنے لگا

غزل · Ghazal

hamaare dast-e-sakhaa kaasa-e-gadaai hain

ہمارے دست سخا کاسۂ گدائی ہیں جو رہنما تھے وہ محتاج رہنمائی ہیں جو مل بھی جائے تو کیسے اٹھائیں گے تلوار یہ بد نصیب تو ٹوٹی ہوئی کلائی ہیں حریف جو بھی ہیں وہ سب کے سب مقابل ہیں جو وار کرتے ہیں پیچھے سے اپنے بھائی ہیں بس ایک نام کی تسبیح روز و شب پڑھنا مجھے یہ لگتا ہے یہ دھڑکنیں پرائی ہیں یہ آپ ہی کی نوازش ہے مہربانی ہے ہماری پلکوں پہ جو شمعیں جگمگائی ہیں میں منتظر تھا بہاروں کے لوٹنے کا مگر مرے دکھوں کی رتیں پھر سے لوٹ آئی ہیں کہیں بچھڑنے کی ساعت قریب ہی تو نہیں نیازؔ آنکھیں اچانک جو ڈبڈبائی ہیں

Similar Poets