SHAWORDS
Abdur Rahim Nashtar

Abdur Rahim Nashtar

Abdur Rahim Nashtar

Abdur Rahim Nashtar

poet
14Shayari
20Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

اکھڑتی سانس کی انتم پکار ہو جاؤں زمیں پہ خوں نہ گرے انگلیاں بھگو جاؤں ہوائیں ڈھونڈ رہی ہیں کسے چہار طرف میں کس دشا میں چلوں کس دیار کو جاؤں یہ لمحہ لمحہ مناظر کی تتلیاں اڑ کر چلی نہ جائیں کہیں یوں کہ میں بھی کھو جاؤں اکیلے رہ کے بھی قیمت نہ لگ سکی اس کی تو اب یہ بوند سمندر میں ہی ڈبو جاؤں تو پھول ہے نہ گہر کس طرح سجاؤں تجھے ہر ایک سانس میں دھڑکن تری پرو جاؤں بلا رہی ہے مجھے میری خاک اپنی طرف میں اپنے آپ سے نکلوں تمام ہو جاؤں بچھی ہوئی ہے زمیں میرے واسطے نشترؔ یہیں کہیں اسی مٹی کا انگ ہو جاؤں

ukhaDti saans ki antim pukaar ho jaaun

41 views

غزل · Ghazal

پھول سا جسم نہ رستے میں جلایا کیجئے میں صنوبر ہوں مری چھاؤں میں آیا کیجئے اور کیا چاہئے اس دور کے انسانوں کو صرف دو چار گھڑی ساتھ بتایا کیجئے آپ ساگر ہیں تو سیراب کریں پیاسے کو آپ بادل ہیں تو مجھ دشت پہ سایا کیجئے آپ سے نور کی خیرات طلب کرتے ہیں بن کے خورشید نہ پھولوں کو جلایا کیجئے کم سے کم دیکھ سکوں اپنی حقیقت کیا ہے میری آنکھوں سے نہ آئینہ چھپایا کیجئے

phuul saa jism na raste mein jalaayaa kijiye

41 views

غزل · Ghazal

وہ سو رہا ہے خدا دور آسمانوں میں فرشتے لوریاں گاتے ہیں اس کے کانوں میں زمیں پہ گرتے ہیں کٹ کٹ کے سر فرشتوں کے عجیب زلزلہ آیا ہے آسمانوں میں سڑک پہ آ گئے سب لوگ بلبلاتے ہوئے نہ جانے کون مکیں آ گئے مکانوں میں پھٹے پرانے بدن سے کسے خرید سکوں سجے ہیں کانچ کے پیکر بڑی دکانوں میں وہیں پگھل کے نہ رہ جائے میرا سنگ صدا کہ زرد زہر کا پردہ ہے اس کے کانوں میں نکل کے زرد چراغوں سے زہر کا آسیب پہنچ گیا ہے مرے گھر مری دکانوں میں

vo so rahaa hai khudaa duur aasmaanon mein

41 views

غزل · Ghazal

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے کل تری یاد کے معتوب رسولوں سے ملے اپنی ہی ذات کے صحرا میں سلگتے ہوئے لوگ اپنی پرچھائیں سے ٹکرائے ہیولوں سے ملے گاؤں کی سمت چلی دھوپ دوشالا اوڑھے تاکہ باغوں میں ٹھٹھرتے ہوئے پھولوں سے ملے کون اڑتے ہوئے رنگوں کو گرفتار کرے کون آنکھوں میں اترتی ہوئی دھولوں سے ملے اس بھرے شہر میں نشترؔ کوئی ایسا بھی کہاں روز جو شام میں ہم جیسے فضولوں سے ملے

dasht-e-afkaar mein sukhe hue phulon se mile

41 views

غزل · Ghazal

ہوا کے ہاتھ میں پتھر دبا کر بھیج دیتا ہے مرا انعام وہ مجھ کو برابر بھیج دیتا ہے نظر آتا ہے میرا ہاتھ ہر تخریب میں اس کو کوئی تہمت کہیں اٹھے مرے سر بھیج دیتا ہے مجھے بھی اب کسی تعمیر کا سودا نہیں ہوتا اسے بھی ضد ہے بربادی کے منظر بھیج دیتا ہے کھلونوں سے بہل جاتا ہوں یہ معلوم ہے اس کو تبھی تو وہ نئی افتاد اکثر بھیج دیتا ہے

havaa ke haath mein patthar dabaa kar bhej detaa hai

41 views

غزل · Ghazal

اگر ہو خوف زدہ طاقت بیاں کیسی نوائے حق نہ سنائے تو پھر زیاں کیسی اٹھاؤ حرف صداقت لہو کو گرم کرو جو تیر پھینک نہیں سکتی وہ کماں کیسی انہیں یہ فکر کہ میری صدا کو قید کریں مجھے یہ رنج کہ اتنی خموشیاں کیسی ہوا کے رخ پہ لیے بیٹھا ہوں چراغ اپنا مرے خدا نے مجھے بخش دی اماں کیسی ہوا چلے تو اسے کون روک سکتا ہے اٹھا رکھی ہے یہ دیوار درمیاں کیسی اگر یہ موسم گل ہے تو زرد رو کیوں ہے دل و نظر پہ یہ کیفیت خزاں کیسی نہ تار تار قبا ہے نہ داغ داغ بدن مجاہدوں کے سروں سے گئی اذاں کیسی

agar ho khauf-zada taaqat-e-bayaan kaisi

41 views

Similar Poets