"khamoshi meri lai men gungunana chahti hai kisi se baat karne ka bahana chahti hai"

Abdur Rauf Urooj
Abdur Rauf Urooj
Abdur Rauf Urooj
Sherشعر
khamoshi meri lai men gungunana chahti hai
خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے
ye tabassum ka ujala ye nigahon ki sahar
یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں
zindagi azmat-e-hazir ke baghair
زندگی عظمت حاضر کے بغیر اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا
nafas ke loch ko khanjar banana chahti hai
نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے
zulmaten vahshat-e-farda se niDhal
ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا
Popular Sher & Shayari
10 total"ye tabassum ka ujala ye nigahon ki sahar log yuun bhi to chhupate hain andhere dil men"
"zindagi azmat-e-hazir ke baghair ik tasalsul hai magar khvabon ka"
"nafas ke loch ko khanjar banana chahti hai mohabbat apni tezi azmana chahti hai"
"zulmaten vahshat-e-farda se niDhal DhunDhti phirti hain ghar khvabon ka"
khamoshi meri lai mein gungunaanaa chaahti hai
kisi se baat karne kaa bahaanaa chaahti hai
ye tabassum kaa ujaalaa ye nigaahon ki sahar
log yuun bhi to chhupaate hain andhere dil mein
zindagi azmat-e-haazir ke baghair
ik tasalsul hai magar khvaabon kaa
nafas ke loch ko khanjar banaanaa chaahti hai
mohabbat apni tezi aazmaanaa chaahti hai
zulmatein vahshat-e-fardaa se niDhaal
DhunDhti phirti hain ghar khvaabon kaa
Ghazalغزل
na jaane kyaa miri vahshat ne khvaab dekhaa hai
نہ جانے کیا مری وحشت نے خواب دیکھا ہے تمام شہر پہ راتوں کا سخت پہرا ہے خود آج اپنی لکیروں میں ڈھونڈھتا ہے پناہ وہ ایک ہاتھ جو تقدیر کو بدلتا ہے معیشتوں کے جہنم میں جل رہے ہیں بدن جہاں میں روح کی آسودگی کا چرچا ہے کسی کو صرف شگوفے کسی کو صرف شرر نہ جانے اب کے بہاروں کا فیض کیسا ہے نہیں ہے ہم میں سلیماں کوئی مگر ہم سے زمانہ قاف کی پریوں کی بات کرتا ہے کچھ اب کے اور بھی زخموں کی آگ تیز ہوئی عروجؔ ان کے تبسم میں زہر کیسا ہے
chaand se pyaar sitaaron se shanaasaai bhi
چاند سے پیار ستاروں سے شناسائی بھی ہم نے دیکھی ہے غم دوست کی رسوائی بھی جلوۂ شہر نگار اور نکھر اور سنور ہم میں دیوانے بھی موجود ہیں سودائی بھی جلوۂ شہر نگار اور نکھر اور سنور ہم میں دیوانے بھی موجود ہیں سودائی بھی ذہن میں یوں تری یادوں کے نشے لہرائے بن گیا گیت سکوت شب تنہائی بھی آؤ پھر لہجۂ گل میں کوئی افسانہ کہیں سلب ہوتی ہے کہیں قوت گویائی بھی اے غم دوست ترا کیسے برا چاہیں گے جن سے دیکھی نہ گئی غیر کی رسوائی بھی ہے وہی قافلۂ فکر و نظر اور عروجؔ زندگی شاہ نشینوں سے اتر آئی بھی
khun-e-dil hai nikhaar kaanTon par
خون دل ہے نکھار کانٹوں پر دیکھتا جا بہار کانٹوں پر انقلاب چمن کی بات کرو ہم نے دیکھی بہار کانٹوں پر میری دیوانگی بھی دیکھ چکی دامن تار تار کانٹوں پر فصل گل بھی گزار دی ہم نے اے غم روزگار کانٹوں پر دل کی بے خوابیاں نہ جائیں گی نیند آئے ہزار کانٹوں پر بات کیا ہے کہ اس کے غم کی طرح لوٹتی ہے بہار کانٹوں پر ہائے وہ چند حسن کار عروجؔ جن کو آتا ہے پیار کانٹوں پر
ba-qadr-e-did na the teri anjuman ke charaagh
بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ مری نگاہ فروزاں ہوئی ہے بن کے چراغ ہزار باد حوادث ہزار صرصر غم جلا رہا ہوں مگر عظمت چمن کے چراغ نقوش شہر نگاراں ابھارتے ہی رہے مرے جنوں کے اجالے تری لگن کے چراغ سواد عصر میں فردا کی تابناکی ہے بجھا دیے گئے اندیشۂ کہن کے چراغ ہجوم غم میں ہوا تھا یہ کون نغمہ سرا جلی ہے تیرگئ شام درد بن کے چراغ نہ باد دشت و بیاباں نہ شام رنج و بلا لہو سے اپنے جلاتے ہیں ہم وطن کے چراغ جلو میں تابش قندیل آگہی لے کر بجھا دئے ہیں محبت نے اہرمن کے چراغ زمانہ شام بلا سے سوال کرتا ہے کدھر گئے وہ ترے دور پر فتن کے چراغ شرار نطق ہوا صرف ہر خیال عروجؔ جلے تو بجھ نہ سکے شوخئ سخن کے چراغ
chand paaband-e-salaasil hue aazaad ab ke
چند پابند سلاسل ہوئے آزاد اب کے جانے دیوانوں پہ کیا آئے گی افتاد اب کے جن کی یک جہتیٔ احساس تھی آئین جنوں ہیں وہی لوگ تو مجموعۂ اضداد اب کے یوں اڑایا گیا ارباب محبت کا مذاق ہو گئے ہم ہوس نام میں برباد اب کے ہم نے بیداریٔ تحریک مسرت کے لیے ہر رگ جاں پہ رکھا دشنۂ فریاد اب کے ان فضاؤں میں بجھے سیکڑوں خورشید مگر خیر سے چپ ہیں شب مرگ کے نقاد اب کے اور تو کچھ نہ رہا اہل وفا کے بس میں نذر کو لائے ہیں بھولی ہوئی اک یاد اب کے دیر سے سوچ میں ہے عشرت پرویز عروجؔ جانے کس طرح اٹھے تیشۂ فرہاد اب کے
nazar mein loch na haijaan manzaron mein hai
نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے عروس صبح ابھی شب کی چادروں میں ہے نہ سوچ تاجوروں کا مآل کیا ہوگا یہ دیکھ تیشہ بکف کون پتھروں میں ہے بھڑک رہی ہیں کناروں کی بستیاں اب تک بلا کی آگ ہمارے سمندروں میں ہے نگار خانۂ معنی سے سرسری نہ گزر لہو کا رنگ بھی دو چار منظروں میں ہے سکوت سنگ کو آسائش بیاں دے دے عجب کمال ہنر آئنہ گروں میں ہے گلی کے موڑ پہ کس نے دیا جلایا تھا اسی کی روشنی تاریک سے گھروں میں ہے نگل نہ جائیں اسے بھی یہ کج کلاہ عروجؔ ذرا سی آن جو باقی سخنوروں میں ہے





