SHAWORDS
Adeel Zaidi

Adeel Zaidi

Adeel Zaidi

Adeel Zaidi

poet
23Sher
23Shayari
21Ghazal

Sherشعر

See all 23

Popular Sher & Shayari

46 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

vaqt mushkil hai ataa kar do zaraa thoDi si

وقت مشکل ہے عطا کر دو ذرا تھوڑی سی بعد میں دینا جو دینی ہو سزا تھوڑی سی بس اک امید پہ چلتے رہے ہم ساتھ اس کے شاید اس شخص میں باقی ہو وفا تھوڑی سی حبس جاں قابل برداشت نہیں رب کریم کھول دے سینہ چلا اس میں ہوا تھوڑی سی یوں تو اک عمر گزاری ہے عبادت میں عدیلؔ جا کے مسجد میں بھی کر لیں گے ادا تھوڑی سی

غزل · Ghazal

ye zamini bhi hai zamaani bhi

یہ زمینی بھی ہے زمانی بھی فطرت عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائیے پہلے ہے عجب عمر جاودانی بھی تم نے جو داستاں سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے ہیں میرے قصے تری زبانی بھی ہیں ضروری بہت ہمارے لیے یہ فضا آگ اور پانی بھی ہو گئی ختم اک کرن کے ساتھ رات بھی نیند بھی کہانی بھی مت انہیں جانیے در و دیوار ان میں یادیں ہیں کچھ سہانی بھی ان دیواروں پہ ہی ہوئی تحریر میرے ماں باپ کی جوانی بھی ہم جو گھر چھوڑ کر چلے آئے تھے وہ اجداد کی نشانی بھی لا مکاں ہی کا ذکر خیر عدیلؔ گو ہیں قصے بہت مکانی بھی

غزل · Ghazal

naam suntaa huun tiraa jab bhare sansaar ke biich

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ لفظ رک جاتے ہیں آ کر مری گفتار کے بیچ ایک ہی چہرہ کتابی نظر آتا ہے ہمیں کبھی اشعار کے باہر کبھی اشعار کے بیچ ایک دل ٹوٹا مگر کتنی نقابیں پلٹیں جیت کے پہلو نکل آئے کئی ہار کے بیچ کوئی محفل ہو نظر اس کی ہمیں پر ٹھہری کبھی اپنوں میں ستایا کبھی اغیار کے بیچ ایسے زاہد کی قیادت میں تو توبہ توبہ کبھی ایمان کی باتیں کبھی کفار کے بیچ کبھی تہذیب و تمدن کا یہ مرکز تھا میاں تم کو بستی جو نظر آتی ہے آثار کے بیچ جس طرح ٹاٹ کا پیوند ہو مخمل میں عدیلؔ مغربی چال چلن مشرقی اقدار کے بیچ

غزل · Ghazal

bas lamhe bhar mein faisla karnaa paDaa mujhe

بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے سب چھوڑ چھاڑ گھر سے نکلنا پڑا مجھے جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے پاؤں میں آبلے تھے تھکن عمر بھر کی تھی رکنا تھا بیٹھنا تھا پہ چلنا پڑا مجھے اپنی پرکھ کے واسطے طوفاں کے درمیاں مضبوط کشتیوں سے اترنا پڑا مجھے تیری انا کے ہاتھ میں تھے تیرے فیصلے تو تو بدل نہ پایا بدلنا پڑا مجھے بے انتہا تضاد تھا دونوں کی سوچ میں کچھ یوں بھی راستے کو بدلنا پڑا مجھے یہ بھی ہوا کہ بادل نا خواستہ کبھی زندہ حقیقتوں سے مکرنا پڑا مجھے یکجا رہا اک عمر مگر تیری دید کو مانند مشت خاک بکھرنا پڑا مجھے آغاز اپنے بس میں نہ انجام ہی عدیلؔ اک زندگی گزار کے مرنا پڑا مجھے

غزل · Ghazal

rah-e-khizaan mein talaash-e-bahaar karte rahe

رہ خزاں میں تلاش بہار کرتے رہے وہ ایک طرفہ سہی تم سے پیار کرتے رہے ہے کیا تماشا ادھر رنجشیں ہی بڑھتی رہیں تعلقات ہمیں استوار کرتے رہے گزر گئی جو گھڑی لوٹ کر نہ آئی کبھی تلاش شام و سحر بار بار کرتے رہے تمہاری چاہ میں جتنے بھی زخم ہم کو ملے محبتوں میں ہم ان کا شمار کرتے رہے تری انا پہ ہمیں اختیار ہی کب تھا تمام عمر ترا انتظار کرتے رہے عدیلؔ لوگ گھروں کو سجائے بیٹھے ہیں فروغ حسن فقط برگ و بار کرتے رہے

غزل · Ghazal

rah-e-hayaat mein jo log jaavedaan nikle

رہ حیات میں جو لوگ جاوداں نکلے وہی وفا و محبت کے ترجماں نکلے عجیب سحر کا عالم تھا اس کی محفل میں زباں پہ ناز تھا جن کو وہ بے زباں نکلے وہاں وہاں پہ وفاداریوں کا زور بڑھا تمہارے چاہنے والے جہاں جہاں نکلے سفر کی حسرتیں نکلیں بہت مری یا رب مگر جو دل میں تھے ارمان وہ کہاں نکلے عزیز یوں تو بہت ہیں عزیز کیا کہیے کئی عزیز مگر مجھ سے بد گماں نکلے یقیں بہت تھا محبت پہ تم کو اپنی عدیلؔ یقیں کے بدلے وہاں بھی فقط گماں نکلے

Similar Poets