SHAWORDS
Afzal Parvez

Afzal Parvez

Afzal Parvez

Afzal Parvez

poet
9Sher
9Shayari
8Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

khush-qismat hain vo jo gaanv mein lambi taan ke sote hain

خوش قسمت ہیں وہ جو گاؤں میں لمبی تان کے سوتے ہیں ہم تو شہر کے شور میں شب بھر اپنی جان کو روتے ہیں کس کس درد کو اپنائیں اور کس کس زخم کو سہلائیں دیکھتی آنکھوں قدم قدم پر کئی حوادث ہوتے ہیں دل کی دلی لٹ گئی اس کے ایوانوں میں غدر مچی خودداری کے مغل شہزادے شہر میں ٹھلیا ڈھوتے ہیں خوش لحنوں کے لیے گلشن بھی کنج قفس بن جائے تو جبر کے گن گاتے ہیں یا نغموں میں درد سموتے ہیں شام نے دن کا ساتھ چھڑایا رات نے دشت میں آن لیا ایسے سفر میں رہ گیروں پر سانس بھی دوبھر ہوتے ہیں میں تو اپنی جان پہ کھیل کے پیار کی بازی جیت گیا قاتل ہار گئے جو اب تک خون کے چھینٹے دھوتے ہیں دل کے زیاں کا سبب کیا پوچھو ان طوفانوں کو دیکھو جن کے بھنور ساحل کے سفینوں کو بھی آن ڈبوتے ہیں پرویزؔ آج نہیں ملتی ہے خم کے بھاؤ تلچھٹ بھی اس پر طرہ یہ ہے کہ ساقی نشتر طعن چبھوتے ہیں

غزل · Ghazal

main ne dil-e-be-taab pe jo jabr kiyaa hai

میں نے دل بے تاب پہ جو جبر کیا ہے خوں ہو کے میری آنکھوں سے اب چھوٹ بہا ہے جس کو کسی آذر نے ہے پتھر سے تراشا اب شومیٔ تقدیر سے وہ میرا خدا ہے اس کے ستم و جور کا احساس کسے ہو اس شوخ کی صورت ہی بڑی ہوش ربا ہے مجھ بیکس و آوارہ کی پھر آ گئی شامت سنتا ہوں کہ بستی میں کہیں قتل ہوا ہے تم ان کو سزا کیوں نہیں دیتے کہ جنہوں نے مجرم کا ضمیر اور سکوں لوٹ لیا ہے اب دعویٔ انصاف کی اوقات کھلے گی خود شیخ مرے شہر کا مختار بنا ہے

غزل · Ghazal

husn hiire ki kani ho jaise

حسن ہیرے کی کنی ہو جیسے اور مری جاں پہ بنی ہو جیسے تیری چتون کے عجب تیور ہیں سر پہ تلوار تنی ہو جیسے ریزہ ریزہ ہوئے مینا و ایاغ رند و ساقی میں ٹھنی ہو جیسے اپنی گلیوں میں ہیں یوں آوارہ کہ غریب الوطنی ہو جیسے ہر مسافر ترے کوچے کو چلا اس طرف چھاؤں گھنی ہو جیسے تیری قربت کی خمار‌ آگینی رت شرابوں میں سنی ہو جیسے یہ کشاکش کی مئے مرد افگن تیری پلکوں سے چھنی ہو جیسے

غزل · Ghazal

kaarzaar-e-ishq-o-sar-masti mein nusrat-yaab hon

کار زار عشق و سر مستی میں نصرت یاب ہوں وہ جنونی دار تک جانے کو جو بیتاب ہوں کوہساروں پر سوا نیزے پہ سورج آئے تو چوٹیوں کی برف پگھلے وادیاں سیراب ہوں دوسرے ساحل پہ کوئی سوہنی ہو منتظر ہم مہینوالوں کے آگے بحر بھی پایاب ہوں عافیت پاتے ہیں خوابوں کے حسیں بحروں میں لوگ جب ہر اک موج حقائق میں نہاں گرداب ہوں

غزل · Ghazal

lailaa sar-ba-garebaan hai majnun saa aashiq-e-zaar kahaan

لیلیٰ سر بہ گریباں ہے مجنوں سا عاشق زار کہاں ہیر دہائی دیتی ہے رانجھے سا یار غار کہاں اپنا خون جگر پیتے ہیں تجھ کو دعائیں دیتے ہیں تیرے میخانے میں ساقی ہم سا بادہ خوار کہاں ہجر کا ظلم ہماری قسمت وصل کی دولت غیر کا مال زخم کسے اور مرہم کس کو درد کہاں ہے قرار کہاں ہجر کا ظلم ہماری قسمت وصل کی دولت غیر کا مال زخم کسے اور مرہم کس کو درد کہاں ہے قرار کہاں پیر مغاں کیا کم تھا محتسبوں کا بھی اب دخل ہوا مینا پر کیا گزرے گی سر پھوڑیں گے مے خوار کہاں سنتے ہیں کہ چمن مہکے بلبل چہکے بن لہکے ہیں اپنے نشیمن تک جو نہ پہنچی ایسی بہار بہار کہاں کنج محن ہے دار و رسن ہے ظلمت ہے تنہائی ہے کون سی جا ہے ہم سفرو لے آئی تلاش یار کہاں گل چینوں کو آج چمن بندی کا دعویٰ ہے پرویزؔ اب دیکھیں لٹ کر بکتا ہے کلی کلی کا سنگھار کہاں

غزل · Ghazal

gard uDe yaa koi aandhi hi chale

گرد اڑے یا کوئی آندھی ہی چلے یہ امس تو کسی عنوان ٹلے انگ پر زخم لیے خاک ملے آن بیٹھے ہیں ترے محل تلے اپنا گھر شہر خموشاں سا ہے کون آئے گا یہاں شام ڈھلے دل پروانہ پہ کیا گزرے گی جب تلک دھوپ بجھے شمع جلے روپ کی جوت ہے کالا جادو اک چھلاوا کہ فرشتوں کو چھلے دلدلوں میں بھی کنول کھلتے ہیں نخل امید بہر طور بھلے اپنے ہی رین بسیروں کی طرف لوٹ آئے ہیں سبھی شام ڈھلے میکدے میں تو نشہ بٹتا ہے کون یاں جانچے برے اور بھلے روشنی دیکھ کے چندھیا جائیں جو اندھیروں میں بڑھے اور پلے خار تو سیف بنے گا گل کی یہ بھلے ہی کسی گلچیں کو کھلے رات باقی ہے ابھی تو پرویزؔ بادہ سرجوش رہے دور چلے

Similar Poets