ghiste ghiste paanv mein zanjir aadhi rah gai
aadhi chhuTne ki hui tadbir aadhi rah gai
Agha Hajju Sharaf
Agha Hajju Sharaf
Agha Hajju Sharaf
Popular Shayari
25 totalshaakh-e-gul jhuum ke gulzaar mein sidhi jo hui
phir gayaa aankh mein naqsha tiri angDaai kaa
ishq ho jaaegaa meri daastaan-e-ishq se
raat bhar jaagaa karoge is kahaani ke liye
likkhaa hai jo taqdir mein hogaa vahi ai dil
sharminda na karnaa mujhe tu dast-e-duaa kaa
be-vafaa tum baa-vafaa main dekhiye hotaa hai kyaa
ghaiz mein aane ko tum ho mujh ko pyaar aane ko hai
kabhi jo yaar ko dekhaa to khvaab mein dekhaa
miri muraad bhi aai to mustaaar aai
kahaa jo main ne mere dil ki ik tasvir khinchvaa do
mangaa kar rakh diyaa ik shisha chaknaachur pahlu mein
dekhne bhi jo vo jaate hain kisi ghaayal ko
ik namak-daan mein namak piis ke bhar lete hain
ragDi hain eDiyaan to hui hai ye mustajaab
kis aajizi se ki hai duaa kuchh na puchhiye
qarib-e-marg huun lillaah aaina rakh do
gale se mere lipaT jaao phir nikhar lenaa
duniyaa jo na main chand nafas ke liye letaa
jannat kaa ilaaqa miri jaagir mein aataa
mujid jo nuur kaa hai vo meraa charaagh hai
parvaana huun main anjuman-e-kaaenaat kaa
Ghazalغزل
عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے نا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئے کیا درد عشق کا ہے مزا کچھ نہ پوچھئے کہتا ہے دل کسی سے دوا کچھ نہ پوچھئے محشر کے دغدغے کا میں احوال کیا کہوں ہنگامہ جو ہوا سو ہوا کچھ نہ پوچھئے جب پوچھئے تو پوچھئے کیا گزری عشق میں ہم سے تو اور اس کے سوا کچھ نہ پوچھئے کیا کیا یہ سبز باغ دکھاتی ہے نزع میں دم دے رہی ہے جو جو قضا کچھ نہ پوچھئے پوچھا جو ہم نے گور غریباں کا جا کے حال آئی یہ تربتوں سے صدا کچھ نہ پوچھئے قسمت سے پائیے جو کبھی اس کو خوش مزاج کیا کچھ نہ کہئے یار سے کیا کچھ نہ پوچھئے رگڑی ہیں ایڑیاں تو ہوئی ہے یہ مستجاب کس عاجزی سے کی ہے دعا کچھ نہ پوچھئے چھوڑا جو مردہ جان کے صیاد نے مجھے کیوں کر اڑا میں ہو کے رہا کچھ نہ پوچھئے ترسا کیا میں دولت دیدار کے لیے قسمت نے جو سلوک کیا کچھ نہ پوچھئے الفت کا نام لے کے نظر بند ہو گئے پائی جو پیار کر کے سزا کچھ نہ پوچھئے کیا سرگزشت گور غریباں کی میں کہوں احوال بندگان خدا کچھ نہ پوچھئے خوشبو نے آپ کی جو سرافراز اسے کیا کس ناز سے چلی ہے صبا کچھ نہ پوچھئے پوچھا شرفؔ کے مرنے کا ان سے جو واقعہ آنکھوں میں اشک بھر کے کہا کچھ نہ پوچھئے
ishq-e-dahan mein guzri hai kyaa kuchh na puchhiye
40 views
ترچھی نظر نہ ہو طرف دل تو کیا کروں لیلیٰ کے ناپسند ہو محمل تو کیا کروں ٹھہرے نہ خوں بہا سوئے قاتل تو کیا کروں حق ہو جو خود بخود مرا باطل تو کیا کروں اک رنگ کو جہاں میں نہیں کوئی مانتا ہر رنگ میں رہوں نہ میں شامل تو یا کروں پسواؤں بے گناہ جو دل کو حنا کے ساتھ پرسان حال ہو کوئی عادل تو کیا کروں پروانہ ہونے کی بھی اجازت نہیں مجھے عالم فریب ہے تری محفل تو کیا کروں جاتا گلو بریدہ بھی اڑ کر گلوں کے پاس بازو گیا ہے توڑ کے بسمل تو کیا کروں لیلہ یہ کہہ کے جلوہ دکھاتی ہے قیس کو اڑنے لگے جو پردۂ محمل تو کیا کروں خود چاہتا ہوں ضبط کروں درد شوق میں دل ہی مرا نہ ہو متحمل تو کیا کروں منہ چوم لوں کہ گرد پھروں دوڑ دوڑ کے اے دل جو ہاتھ روک لے قاتل تو کیا کروں دم راہ شوق و ذوق میں لیتا نہیں کہیں اس پر بھی طے نہ ہو جو یہ منزل تو کیا کروں کیوں کر نہ جبر دل پہ کروں اپنے اختیار راحت میں آ پڑے کوئی مشکل تو کیا کروں اک اک سے پوچھتے ہیں وہ آئینہ دیکھ کر معشوق پاؤں پیار کے قابل تو کیا کروں دے دوں میں راہ عشق میں جان اس کے نام پر ناچار ہوں نہ ہو کوئی سائل تو کیا کروں ٹانکے جگر کے زخم میں کیوں کر لگانے دوں گل تیرے باغ کا ہو مقابل تو کیا کروں آنے کو منع کرتے ہو اچھا نہ آؤں گا یہ تو کہو نہ مانے مرا دل تو کیا کروں شاید مجھے جمال دکھا دے وہ اے کلیم نظارے کا نہ ہوں متحمل تو کیا کروں مر جاؤں ڈوب کر شرفؔ اس پار یار ہے کشتی نہ ہو کوئی لب ساحل تو کیا کروں
tirchhi nazar na ho taraf-e-dil to kyaa karun
40 views
موسم گل میں جو گھر گھر کے گھٹائیں آئیں ہوش اڑ جاتے ہیں جن سے وہ ہوائیں آئیں چل بسے سوئے عدم تم نے بلایا جن کو یاد آئی تو غریبوں کی قضائیں آئیں روح تازی ہوئی تربت میں وہ ٹھنڈی ٹھنڈی باغ فردوس کی ہر سو سے ہوائیں آئیں میں وہ دیوانہ تھا جس کے لیے بزم غم میں جا بجا بچھنے کو پریوں کی ردائیں آئیں منکر ظلم جو جلاد ہوئے محشر میں خود گواہی کے لیے سب کی جفائیں آئیں مجرموں ہی کو نہیں ظلم کا فرمان آیا بے گناہوں کو بھی لکھ لکھ کے سزائیں آئیں اس کا دیوانہ ہوں سمجھاتی ہیں پریاں مجھ کو سر پھرانے کو کہاں سے یہ بلائیں آئیں ترے بندے ہوے کی جن سے لگاوٹ تو نے اے پری رو تجھے کیوں کر یہ ادائیں آئیں حشر موقوف کیا جوش میں رحمت آئی زار نالے کی جو ہر سو سے صدائیں آئیں لشکر گل جو گلستاں میں خزاں پر امڈا ساتھ دینے کو پہاڑوں سے گھٹائیں آئیں میری تربت پہ کبھی دھوپ نہ آنے پائے شام تک صبح سے گھر گھر کے گھٹائیں آئیں منہ چھپانے لگے معشوق جواں ہو ہو کر نیک و بد کی سمجھ آئی تو حیائیں آئیں خاک اڑانے جو صبا آئی مری تربت پر سر پٹکتی ہوئی رونے کو گھٹائیں آئیں بخش دی اس نے مرے بعد جو پوشاک مری قیس و فرہاد کے حصوں میں قبائیں آئیں راحتیں سمجھے حسینوں نے جو ایذائیں دیں پیار آیا تو پسند ان کی جفائیں آئیں آ گیا رحم اسے دیں سب کی مرادیں اس نے عاجزوں کی جو سفارش کو دعائیں آئیں میرے صحرا کی زیارت کو ہزاروں پریاں روز لے لے کے سلیمان کو رضائیں آئیں اے شرفؔ حسن پرستوں کو بلا کے لوٹا ان حسینوں کے دلوں میں جو دغائیں آئیں
mausam-e-gul mein jo ghir ghir ke ghaTaaein aaiin
40 views
دل کو لٹکا لیا ہے گیسو میں جب وہ بیٹھیں ہیں آ کے پہلو میں ڈبڈباتے ہی آنکھیں پتھرائی کیا ہی حسرت بھری تھی آنسو میں سرکشی کی جو بوئے گیسو نے چھپ رہا مشک ناف آہو میں زندگی بھر کریں گے اس کی تلاش چل بسیں گے اسی تکابو میں درد دل روئی سے نہ سکوانا آگ ہے اس طرف کے پہلو میں کون کہتا ہے خال مشکیں ہے دل ہے کسریٰ کا طاق ابرو میں بزم میں ان کی جب گئے ہیں ہم عطر بھر بھر دیا ہے چلو میں بلبلوں میں ہمارا دل ہوگا روح ہوگی گلوں کی خوشبو میں دل تو تھا اختیار سے باہر اب جگر بھی نہیں ہے قابو میں بحر غم میں مریں گے ڈوب کے ہم قبر اک دن بنے گی ٹاپو میں خوں رلاتی ہیں انکھڑیاں تیری ایک ہی ہیں یہ دونوں جادو میں حوریں پاسنگ کی کریں گی ہوس مل وہ بیٹھیں گے جس ترازو میں کس کو غش آ گیا جو چھڑکو گے کیوں بھرا ہے گلاب چلو میں عالم وجد دل کو رہتا ہے مست ہیں نعرہ ہائے یاہو میں اے شرفؔ جب مزا ہے رونے کا نکلیں لخت جگر بھی آنسو میں
dil ko laTkaa liyaa hai gesu mein
40 views
کس کے ہاتھوں بک گیا کس کے خریداروں میں ہوں کیا ہے کیوں مشہور میں سودائی بازاروں میں ہوں غم نہیں جو بیڑیاں پہنے گرفتاروں میں ہوں ناز ہے اس پر کہ تیرے ناز برداروں میں ہوں تیرے کوچے میں جو میرا خون ہو اے لالہ رو سرخ رو یاروں میں ہوں گل رنگ گلزاروں میں ہوں اس قدر ہے اے پری رو زور پر جوش جنوں سر سے توڑوں قید اگر لوہے کی دیواروں میں ہوں عشق سے مطلب نہ تھا دل زلف میں الجھا نہ تھا تھا جب آزادوں میں تھا اب تو گرفتاروں میں ہوں ہوگی معشوقوں کو خواہش مجھ نحیف و زار کی گل کریں گے آرزو میری میں ان خاروں میں ہوں دل کو دھمکانا ہے دھیان اس نرگس بیمار کا جان لے کر چھوڑتا ہوں میں ان آزاروں میں ہوں اس مرے سودے کا دنیا میں ٹھکانا ہے کہیں جان کا گاہک جو ہے اس کے خریداروں میں ہوں کس سے پوچھوں کیا کروں صیاد کی مرضی کی بات تازہ وارد ہوں قفس میں تو گرفتاروں میں ہوں آرزو ہے میں وہ گل ہو جاؤں اے رشک چمن باغ میں دن بھر رہوں شب کو ترے ہاروں میں ہوں آ گیا دم ضیق میں لیکن نہ یہ ثابت ہوا کون ہے عیسیٰ مرا میں کس کے بیماروں میں ہوں ڈریے ایسی آنکھ سے جو صاف اشارے سے کہے نرگس بیمار ہوں پر مردم آزاروں میں ہوں دل تو میں صدقہ کروں تم اس پہ میری جان لو تم ہی منصف ہو کہ میں ایسے گنہ گاروں میں ہوں کون ہوں کیا ہوں کہاں ہوں میں نہیں یہ بھی خبر خود غلط خود رفتہ ہوں میں خاک ہوشیاروں میں ہوں ہے یہ ابرو کا اشارا تھی جہاں کی ذو الفقار اے شرفؔ میں اس سلح خانے کی تلواروں میں ہوں
kis ke haathon bik gayaa kis ke kharidaaron mein huun
40 views
اڑ کر سراغ کوچۂ دلبر لگائیے کس طرح دونوں بازوؤں میں پر لگائیے اک تیر دل پر ایک جگر پر لگائیے حصہ لگائیے تو برابر لگائیے پھولوں میں توپئے مجھے نازک دماغ ہوں للہ اس لحد میں نہ پتھر لگائیے جب بزم یار میں ہے تکلف رسائی کا خلوت سرائے خاص میں بستر لگائیے ہر دم کیا کرے رگ جاں مرحبا کا شور اس نوک جھونک سے کوئی نشتر لگائیے برسوں سے بے قرار ہے تسکین کے لیے جھکئے ذرا جگر سے مرے سر لگائیے کیا بستنی قفس کی یہ بلبل کو بھیجئے حصے میں اس کے پھولوں کی چادر لگائیے جا اپنے دل میں دیجئے مجھ صاف قلب کو آئینے میں شبیہ سکندر لگائیے یاور نصیب ہو تو حسینوں کو چاہئے دل ان سے آزما کے مقدر لگائیے اکثر وہ کہتے ہیں کہ جو بوسہ طلب کرے اس گفتگو پہ منہ اسے کیوں کر لگائیے آئے دہان زخم سے آواز اور اور اس اس ادا و ناز سے خنجر لگائیے پرزے مرے اڑائیے بھیجا ہے میں نے خط بے جرم کیوں کباب کبوتر لگائیے صورت جو ایک ایک کی تکتا ہے آئنہ حسرت یہ ہے سراغ سکندر لگائیے ہیں آپ تو تمام خدائی کے ناخدا میرا جہاز بھی لب کوثر لگائیے برہم مزاج ہو کے وہ برگشتگی کرے دفتر میں جس کے فرد مقدر لگائیے دولت جو مجھ غریب کی لوٹی ہے آپ نے کیا کیجئے گا حصۂ لشکر لگائیے جتنوں کی جانیں لیں ہیں انہیں خوں بہا ملے پورا حساب دیکھ کے دفتر لگائیے اس گل کی آ ہی جائے گی خوشبو دماغ میں چلئے ریاض عشق میں چکر لگائیے افشا کیا جو عشق تو جھنجھلا کے بولے وہ لکھوا کے اشتہار یہ گھر گھر لگائیے سو جا سے دل پھٹا ہے کلیجا ہے چاک چاک پیوند پھاڑ پھاڑ کے چادر لگائیے پھر اٹھ کے تیرے ہاتھ سے کٹوائیے گلا کیوں کر دوبارہ جسم میں پھر سر لگائیے ساتھ اس قدر ہیں اس شہ خوباں کے سرفروش برسوں حساب کثرت لشکر لگائیے کہتے ہیں لخت دل کو وہ بازار حسن میں سودا یہ میرے اردو سے باہر لگائیے مجھ سے لگاوٹ آپ کی شمشیر کرتی ہے مرتا ہوں اس پہ اس کو مرے سر لگائیے سیلاب اشک نے مرے رستے کیے ہیں بند کشتی منگا کے متصل در لگائیے خلعت شہید ناز کو بھجواتے ہیں جواب کشتی میں پہلے پھولوں کی چادر لگائیے پہنچا کے خط حلال ہوا ہے یہ اے شرفؔ آنکھوں سے لے کے خون کبوتر لگائیے
uD kar suraagh-e-kucha-e-dilbar lagaaiye
40 views





