SHAWORDS
Ahmad Ashfaq

Ahmad Ashfaq

Ahmad Ashfaq

Ahmad Ashfaq

poet
11Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

11 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں کوئی صورت پس تصویر نہیں چاہتا میں چاہتا ہوں کہ رفاقت کا بھرم رہ جائے عہد و پیمان کی تفسیر نہیں چاہتا میں حکم صادر ہے تو نافذ بھی کرو میرے حضور فیصلے میں کوئی تاخیر نہیں چاہتا میں چاہتا ہوں تجھے گفتار سے قائل کر لوں بات میں لہجۂ شمشیر نہیں چاہتا میں مدعا ہے کہ مرا حق مجھے واپس مل جائے تیرے اجداد کی جاگیر نہیں چاہتا میں

ab kisi khvaab ki taabir nahin chaahtaa main

40 views

غزل · Ghazal

ہم ترے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں ریگ زاروں میں پھریں خاک اڑانے لگ جائیں ڈھونڈتا رہتا ہوں ہاتھوں کی لکیروں میں تجھے چاہتا ہوں مرے ہاتھوں میں خزانے لگ جائیں یہ الگ بات کہ تجدید تعلق نہ ہوا پر اسے بھولنا چاہوں تو زمانے لگ جائیں شہر بے شکل میں اے کاش کبھی ایسا ہو حسب ترتیب کئی آئینہ خانے لگ جائیں

ham tire ishq mein kuchh aaise Thikaane lag jaaein

40 views

غزل · Ghazal

انا منہ آنسوؤں سے دھو رہی ہے ضرورت سر بہ سجدہ ہو رہی ہے مری دشمن مری بے باک گوئی مری راہوں میں کانٹے بو رہی ہے ریا کاری لیے جاتی ہے سبقت حقیقت سر جھکائے رو رہی ہے مسلسل اک اذیت زندگانی غموں کے بوجھ سر پر ڈھو رہی ہے زمانہ مصلحت پرور ہوا ہے ضرورت آدمیت کھو رہی ہے کسی کی شخصیت مجروح کر دی زمانے بھر میں شہرت ہو رہی ہے

anaa munh aansuon se dho rahi hai

40 views

غزل · Ghazal

وہ مری جرأت کم یاب سے ناواقف ہیں ہاں وہی لوگ جو گرداب سے ناواقف ہیں ایسی راتیں کہ جنہیں نیند کی لذت نہ ملی ایسی آنکھیں جو ابھی خواب سے ناواقف ہیں میری کم گوئی پہ جو طنز کیا کرتے ہیں میری کم گوئی کے اسباب سے ناواقف ہیں ان سے کیا کیجے توقع وہ ہیں نو وارد دشت دشت وحشت کے جو آداب سے ناواقف ہیں وہ جو بیگانۂ تہذیب و تمدن ہیں وہ لوگ محفلوں کے ادب آداب سے ناواقف ہیں

vo miri jurat-e-kamyaab se naa-vaaqif hain

40 views

غزل · Ghazal

دے کے وہ سارے اختیار مجھے اور کرتا ہے شرمسار مجھے زخم ترتیب دے رہا ہوں میں اور کچھ وقت دے ادھار مجھے پارسائی کا زعم ہے ان کو کہہ رہے ہیں گناہ گار مجھے فاصلے یہ سمٹ نہیں سکتے اب پرایوں میں کر شمار مجھے دل کے گلشن میں تم چلے آؤ اور کر دو سدا بہار مجھے ترک الفت کے بعد بھی اشفاقؔ تیرا رہتا ہے انتظار مجھے

de ke vo saare ikhtiyaar mujhe

40 views

غزل · Ghazal

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے مری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں مری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں میری دنیا مری تحریر اب تھوڑی سی فرصت چاہتی ہے ادھر منہ زور موجیں دندناتی پھر رہی ہیں مگر اک ناؤ دریا سے بغاوت چاہتی ہے

zamin vaalon ki basti mein sukunat chaahti hai

40 views

Similar Poets