"main tha sadiyon ke safar men 'ahmad' aur sadiyon ka safar tha mujh men"

Ahmad Khayal
Ahmad Khayal
Ahmad Khayal
Sherشعر
See all 20 →main tha sadiyon ke safar men 'ahmad'
میں تھا صدیوں کے سفر میں احمدؔ اور صدیوں کا سفر تھا مجھ میں
ain mumkin hai ki bina.i mujhe dhoka de
عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے
dasht men vadi-e-shadab ko chhu kar aaya
دشت میں وادئ شاداب کو چھو کر آیا میں کھلی آنکھ حسیں خواب کو چھو کر آیا
koi to dasht samundar men Dhal gaya akhir
کوئی تو دشت سمندر میں ڈھل گیا آخر کسی کے ہجر میں رو رو کے بھر گیا تھا میں
dil kisi bazm men jaate hi machalta hai 'khayal'
دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیالؔ سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی
hava ke haath pe chhale hain aaj tak maujud
ہوا کے ہاتھ پہ چھالے ہیں آج تک موجود مرے چراغ کی لو میں کمال ایسا تھا
Popular Sher & Shayari
40 total"ain mumkin hai ki bina.i mujhe dhoka de ye jo shabnam hai sharara bhi to ho sakta hai"
"dasht men vadi-e-shadab ko chhu kar aaya main khuli-ankh hasin khvab ko chhu kar aaya"
"koi to dasht samundar men Dhal gaya akhir kisi ke hijr men ro ro ke bhar gaya tha main"
"dil kisi bazm men jaate hi machalta hai 'khayal' so tabi.at kahin be-zar nahin bhi hoti"
"hava ke haath pe chhale hain aaj tak maujud mire charagh ki lau men kamal aisa tha"
ye bhi ejaaz mujhe ishq ne bakhshaa thaa kabhi
us ki aavaaz se main diip jalaa saktaa thaa
havaa ke haath pe chhaale hain aaj tak maujud
mire charaagh ki lau mein kamaal aisaa thaa
ye bhi tiri shikast nahin hai to aur kyaa
jaisaa tu chaahtaa thaa main vaisaa nahin banaa
main thaa sadiyon ke safar mein 'ahmad'
aur sadiyon kaa safar thaa mujh mein
ain mumkin hai ki binaai mujhe dhoka de
ye jo shabnam hai sharaara bhi to ho saktaa hai
mahakte phuul sitaare damaktaa chaand dhanak
tire jamaal se kitnon ne istifaada kyaa
Ghazalغزل
dast-baston ko ishaara bhi to ho saktaa hai
دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیالؔ پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے
jaisi honi ho vo raftaar nahin bhi hoti
جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی راہ اس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں عقیدوں میں جدا گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی وہ مری ذات سے انکار کیے رکھتا ہے گر کبھی صورت انکار نہیں بھی ہوتی جس کو بے کار سمجھ کر کسی کونے میں رکھیں ایسا ہوتا ہے کہ بے کار نہیں بھی ہوتی دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیالؔ سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی
dasht o junun kaa silsila mere lahu mein aa gayaa
دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا چاروں طرف ہی تتلیوں کے رقص ہونے لگ گئے تو آ گیا تو باغ سارا رنگ و بو میں آ گیا میں جھومتے ہی جھومتے احمدؔ تماشا بن گیا جب عکس اس کے رقص کا میرے سبو میں آ گیا
sukut toDne kaa ehtimaam karnaa chaahiye
سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے ادب میں جھکنا چاہیئے سلام کرنا چاہیئے خرد تجھے جنون کو امام کرنا چاہیئے الجھ گئے ہیں سارے تار اب مرے خدا تجھے طویل داستاں کا اختتام کرنا چاہیئے تمام لوگ نفرتوں کے زہر میں بجھے ہوئے محبتوں کے سلسلوں کو عام کرنا چاہیئے مرے لہو تو چشم اور اشک سے گریز کر تجھے رگوں کے درمیاں خرام کرنا چاہیئے
un ko mein karbalaa ke mahine mein laaungaa
ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں لاؤں گا جی بھر کے میں نے خاک اڑا لی نگر نگر اب زندگی کو ایک قرینے میں لاؤں گا
koi an-dekhi fazaa tasvir karnaa chaahiye
کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے خواب کی بنیاد پر تعمیر کرنا چاہیئے میں بھٹکتا پھر رہا ہوں واہموں کے درمیاں گرد لپٹی روح کی تطہیر کرنا چاہیئے جن دنوں دیوانگی ٹھہری ہوئی ہو ذات میں ایک دنیا ان دنوں تسخیر کرنا چاہیئے جس صدا میں سو طرح کے رنگ جھلمل کرتے ہوں وہ صدا ہر حال میں تصویر کرنا چاہیئے جلد بازی دے گئی ہے رت جگوں کے سلسلے فیصلے میں تھوڑی سی تاخیر کرنا چاہیئے اب بگولے مجھ میں ہیں اور میں بگولوں میں خیالؔ دشت میں دیوانگی زنجیر کرنا چاہیئے





