SHAWORDS
Ahmad Khayal

Ahmad Khayal

Ahmad Khayal

Ahmad Khayal

poet
20Sher
20Shayari
27Ghazal

Sherشعر

See all 20

Popular Sher & Shayari

40 total

Ghazalغزل

See all 27
غزل · Ghazal

dast-baston ko ishaara bhi to ho saktaa hai

دست بستوں کو اشارہ بھی تو ہو سکتا ہے اب وہی شخص ہمارا بھی تو ہو سکتا ہے میں یہ ایسے ہی نہیں چھان رہا ہوں اب تک خاک میں کوئی ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے عین ممکن ہے کہ بینائی مجھے دھوکہ دے یہ جو شبنم ہے شرارہ بھی تو ہو سکتا ہے اس محبت میں ہر اک شے بھی تو لٹ سکتی ہے اس محبت میں خسارہ بھی تو ہو سکتا ہے گر ہے سانسوں کا تسلسل مری قسمت میں خیالؔ پھر یہ گرداب کنارا بھی تو ہو سکتا ہے

غزل · Ghazal

jaisi honi ho vo raftaar nahin bhi hoti

جیسی ہونی ہو وہ رفتار نہیں بھی ہوتی راہ اس سمت کی ہموار نہیں بھی ہوتی میں تہی دست لڑائی کے ہنر سیکھتا ہوں کبھی اس ہاتھ میں تلوار نہیں بھی ہوتی پھر بھی ہم لوگ تھے رسموں میں عقیدوں میں جدا گر یہاں بیچ میں دیوار نہیں بھی ہوتی وہ مری ذات سے انکار کیے رکھتا ہے گر کبھی صورت انکار نہیں بھی ہوتی جس کو بے کار سمجھ کر کسی کونے میں رکھیں ایسا ہوتا ہے کہ بے کار نہیں بھی ہوتی دل کسی بزم میں جاتے ہی مچلتا ہے خیالؔ سو طبیعت کہیں بے زار نہیں بھی ہوتی

غزل · Ghazal

dasht o junun kaa silsila mere lahu mein aa gayaa

دشت و جنوں کا سلسلہ میرے لہو میں آ گیا یہ کس جگہ پہ میں تمہاری جستجو میں آ گیا وہ سرو قامت ہو گیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے جانے کہاں سے زور سا اس کی نمو میں آ گیا بس چند لمحے پیشتر وہ پاؤں دھو کے پلٹا ہے اور نور کا سیلاب سا اس آب جو میں آ گیا چاروں طرف ہی تتلیوں کے رقص ہونے لگ گئے تو آ گیا تو باغ سارا رنگ و بو میں آ گیا میں جھومتے ہی جھومتے احمدؔ تماشا بن گیا جب عکس اس کے رقص کا میرے سبو میں آ گیا

غزل · Ghazal

sukut toDne kaa ehtimaam karnaa chaahiye

سکوت توڑنے کا اہتمام کرنا چاہیئے کبھی کبھار خود سے بھی کلام کرنا چاہیئے ادب میں جھکنا چاہیئے سلام کرنا چاہیئے خرد تجھے جنون کو امام کرنا چاہیئے الجھ گئے ہیں سارے تار اب مرے خدا تجھے طویل داستاں کا اختتام کرنا چاہیئے تمام لوگ نفرتوں کے زہر میں بجھے ہوئے محبتوں کے سلسلوں کو عام کرنا چاہیئے مرے لہو تو چشم اور اشک سے گریز کر تجھے رگوں کے درمیاں خرام کرنا چاہیئے

غزل · Ghazal

un ko mein karbalaa ke mahine mein laaungaa

ان کو میں کربلا کے مہینے میں لاؤں گا کوفہ کے سارے لوگ مدینے میں لاؤں گا یہ زر بھی ایک روز دفینے میں لاؤں گا سارے جہاں کے درد کو سینے میں لاؤں گا مٹی کچھ اجنبی سے جزیروں کی لازمی لوٹا تو اپنے ساتھ سفینے میں لاؤں گا پہلے کروں گا چھت پہ بہت دیر گفتگو پھر اس کے بعد چاند کو زینے میں لاؤں گا جی بھر کے میں نے خاک اڑا لی نگر نگر اب زندگی کو ایک قرینے میں لاؤں گا

غزل · Ghazal

koi an-dekhi fazaa tasvir karnaa chaahiye

کوئی ان دیکھی فضا تصویر کرنا چاہیئے خواب کی بنیاد پر تعمیر کرنا چاہیئے میں بھٹکتا پھر رہا ہوں واہموں کے درمیاں گرد لپٹی روح کی تطہیر کرنا چاہیئے جن دنوں دیوانگی ٹھہری ہوئی ہو ذات میں ایک دنیا ان دنوں تسخیر کرنا چاہیئے جس صدا میں سو طرح کے رنگ جھلمل کرتے ہوں وہ صدا ہر حال میں تصویر کرنا چاہیئے جلد بازی دے گئی ہے رت جگوں کے سلسلے فیصلے میں تھوڑی سی تاخیر کرنا چاہیئے اب بگولے مجھ میں ہیں اور میں بگولوں میں خیالؔ دشت میں دیوانگی زنجیر کرنا چاہیئے

Similar Poets