SHAWORDS
Ahmad Tariq

Ahmad Tariq

Ahmad Tariq

Ahmad Tariq

poet
6Shayari
14Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئنے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں وحشت آج تتلی کے ساتھ بیٹھک ہے آج تھوڑا ملے سکوں وحشت

Dar ke baiThaa huun sar-nigun vahshat

40 views

غزل · Ghazal

تمہاری ہاں سے بہت روشنی نکلتی ہے یہ کس بیاں سے بہت روشنی نکلتی ہے وہ ذات پردہ نشیں ہے مگر میں حیراں ہوں کہ آسماں سے بہت روشنی نکلتی ہے بسا ہوا ہے ترے تل میں ایک انوکھا جہان اور اس جہان سے بہت روشنی نکلتی ہے میں چپکے چپکے ترا نام لے تو لوں لیکن مری زباں سے بہت روشنی نکلتی ہے جہاں جہاں سے مجھے چومتا رہا ہے وہ وہاں وہاں سے بہت روشنی نکلتی ہے تو کس کی یاد میں روتا ہے رات بھر احمدؔ ترے مکاں سے بہت روشنی نکلتی ہے

tumhaari haan se bahut raushni nikalti hai

40 views

غزل · Ghazal

ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئنے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں وحشت آج تتلی کے ساتھ بیٹھک ہے آج تھوڑا ملے سکوں وحشت تم سناؤ نا کوئی شعر احمدؔ آج جی کرتا ہے سنوں وحشت

Dar ke baiThaa huun sar-nigun vahshat

40 views

غزل · Ghazal

میری افسردگی سے لطف اٹھانے والے کتنے ظالم ہیں یہ سب لوگ زمانے والے لوگ ہنستے ہیں اداسی میں تڑپتا ہوں جب ایک تو درد ہے اوپر سے ستانے والے پیار اپنی جگہ پر ایک شکایت ہے مجھے تم نے آنے میں بہت دیر کی آنے والے میں کبھی پاس چلا جاتا تھا رونے کے لیے اور کبھی ذہن میں آ جاتے رلانے والے اک طرف رنج بلاتا ہے مسلسل مجھ کو دوسری اور مجھے رنج بلانے والے مرکز کرب کا احمدؔ جو چھڑے ذکر کہیں جانے کیوں تیرا بتاتے ہیں بتانے والے

meri afsurdagi se lutf uThaane vaale

40 views

غزل · Ghazal

لگتا ہے تیری عقل ترے سر میں چھید ہے اڑتے ہوئے بھی کہہ رہا ہے پر میں چھید ہے ہم لوگ مطمئن ہیں اور اس درجہ مطمئن کمرے میں چھپ کے بیٹھے ہیں اور در میں چھید ہے میرے معاملے میں ہے وہ شخص سنگ دل اوروں کے واسطے اسی پتھر میں چھید ہے لالچ میں آ کے نیکی سمندر میں ڈال دی اور پھر پتا چلا کہ سمندر میں چھید ہے اپنے زیاں پہ آپ اکیلے ہی روئیے احمدؔ کے ہاں تو اپنے مقدر میں چھید ہے

lagtaa hai teri aql tire sar mein chhed hai

40 views

غزل · Ghazal

وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا اور پھر عمر بھر نہ دیکھ سکا اس کو منزل تو دکھ گئی فوراً پر وہ دور سفر نہ دیکھ سکا کیا بتاؤں ستم ظریف کا حال وہ مجھے اک نظر نہ دیکھ سکا تجھ کو کیسے دکھائی دیتا میں تو مجھے اس قدر نہ دیکھ سکا وہ مجھے بار بار اڑاتا رہا اور مرے خستہ پر نہ دیکھ سکا میرے مالک نے بھر دیا کاسہ وہ مجھے در بدر نہ دیکھ سکا سب کے سب دیکھتے رہے تصویر کوئی دیوار پر نہ دیکھ سکا تو بھی دیکھ آ کے حالت احمدؔ اور اقرار کر نہ دیکھ سکا

vo mujhe mo'atabar na dekh sakaa

40 views

Similar Poets