aasmaan par garajnaa baadalon kaa
tere lahje kaa istiaara hai

Ahmad Tariq
Ahmad Tariq
Ahmad Tariq
Popular Shayari
6 totalpyaar apni jagah par ek shikaayat hai mujhe
tum ne aane mein bahut der ki aane vaale
teri aankhon teri zulfon kaa gila kaise utaarun
tere honTon par safar kartaa qalam thaktaa nahin hai
bataa khud ko bhalaa kaise sanvaarun
mujhe gham aainon mein dikh rahaa hai
hatheli pe likh le miraa naam tu
lakiron mein rachnaa miraa kaam hai
meri aankhon kaa raat din ronaa
mere khvaabon ki aab-yaari hai
Ghazalغزل
ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئنے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں وحشت آج تتلی کے ساتھ بیٹھک ہے آج تھوڑا ملے سکوں وحشت
Dar ke baiThaa huun sar-nigun vahshat
40 views
تمہاری ہاں سے بہت روشنی نکلتی ہے یہ کس بیاں سے بہت روشنی نکلتی ہے وہ ذات پردہ نشیں ہے مگر میں حیراں ہوں کہ آسماں سے بہت روشنی نکلتی ہے بسا ہوا ہے ترے تل میں ایک انوکھا جہان اور اس جہان سے بہت روشنی نکلتی ہے میں چپکے چپکے ترا نام لے تو لوں لیکن مری زباں سے بہت روشنی نکلتی ہے جہاں جہاں سے مجھے چومتا رہا ہے وہ وہاں وہاں سے بہت روشنی نکلتی ہے تو کس کی یاد میں روتا ہے رات بھر احمدؔ ترے مکاں سے بہت روشنی نکلتی ہے
tumhaari haan se bahut raushni nikalti hai
40 views
ڈر کے بیٹھا ہوں سرنگوں وحشت مجھ کو بتلا میں کیا کروں وحشت ہجر کافی ہے دل لگی کے لیے اب میں تیرا بھی کیا بنوں وحشت چاہے جتنا سنوار لوں خود کو آئنے میں مگر لگوں وحشت جا چلی جا کہیں میں چھپ جاؤں تب تو آنا میں جب کہوں وحشت در کھٹکنے پہ میں نے جب پوچھا کوئی کہنے لگا میں ہوں وحشت آج تتلی کے ساتھ بیٹھک ہے آج تھوڑا ملے سکوں وحشت تم سناؤ نا کوئی شعر احمدؔ آج جی کرتا ہے سنوں وحشت
Dar ke baiThaa huun sar-nigun vahshat
40 views
میری افسردگی سے لطف اٹھانے والے کتنے ظالم ہیں یہ سب لوگ زمانے والے لوگ ہنستے ہیں اداسی میں تڑپتا ہوں جب ایک تو درد ہے اوپر سے ستانے والے پیار اپنی جگہ پر ایک شکایت ہے مجھے تم نے آنے میں بہت دیر کی آنے والے میں کبھی پاس چلا جاتا تھا رونے کے لیے اور کبھی ذہن میں آ جاتے رلانے والے اک طرف رنج بلاتا ہے مسلسل مجھ کو دوسری اور مجھے رنج بلانے والے مرکز کرب کا احمدؔ جو چھڑے ذکر کہیں جانے کیوں تیرا بتاتے ہیں بتانے والے
meri afsurdagi se lutf uThaane vaale
40 views
لگتا ہے تیری عقل ترے سر میں چھید ہے اڑتے ہوئے بھی کہہ رہا ہے پر میں چھید ہے ہم لوگ مطمئن ہیں اور اس درجہ مطمئن کمرے میں چھپ کے بیٹھے ہیں اور در میں چھید ہے میرے معاملے میں ہے وہ شخص سنگ دل اوروں کے واسطے اسی پتھر میں چھید ہے لالچ میں آ کے نیکی سمندر میں ڈال دی اور پھر پتا چلا کہ سمندر میں چھید ہے اپنے زیاں پہ آپ اکیلے ہی روئیے احمدؔ کے ہاں تو اپنے مقدر میں چھید ہے
lagtaa hai teri aql tire sar mein chhed hai
40 views
وہ مجھے معتبر نہ دیکھ سکا اور پھر عمر بھر نہ دیکھ سکا اس کو منزل تو دکھ گئی فوراً پر وہ دور سفر نہ دیکھ سکا کیا بتاؤں ستم ظریف کا حال وہ مجھے اک نظر نہ دیکھ سکا تجھ کو کیسے دکھائی دیتا میں تو مجھے اس قدر نہ دیکھ سکا وہ مجھے بار بار اڑاتا رہا اور مرے خستہ پر نہ دیکھ سکا میرے مالک نے بھر دیا کاسہ وہ مجھے در بدر نہ دیکھ سکا سب کے سب دیکھتے رہے تصویر کوئی دیوار پر نہ دیکھ سکا تو بھی دیکھ آ کے حالت احمدؔ اور اقرار کر نہ دیکھ سکا
vo mujhe mo'atabar na dekh sakaa
40 views





