miraa vajud jo patthar dikhaai detaa hai
tamaam umr ki shishagari kaa haasil hai

Ain Irfan
Ain Irfan
Ain Irfan
Popular Shayari
13 totalbe-maqsad mahfil se behtar tanhaai
be-matlab baaton se achchhi khaamoshi
bahut nazdik the tasvir mein ham
magar vo faasla jo dikh rahaa thaa
jahaan tak Dubne kaa Dar hai tum ko
chalo ham saath chalte hain vahaan tak
bas ek dhun thi samundar ko paar karne ki
main jaantaa thaa samundar ke paar kuchh bhi na thaa
gaamzan hain ham musalsal ajnabi manzil ki samt
zindagi ki aarzu mein zindagi khote hue
haadisa kaun saa huaa pahle
raat aai ki din Dhalaa pahle
kabhi sochun ki khud main lauT aauun
kabhi sochun ki aisaa kyuun karun main
meri taraf sabhi ki nigaahein thiin aur main
jis kashmakash mein sab the usi kashmakash mein thaa
ho din ki chaahe raat koi masala nahin
mere liye hayaat koi masala nahin
gharq hote jahaaz dekhe hain
sail-e-vaqt-e-ravaan samajhtaa huun
kartaa hai kaar-e-raushni mujh ko jalaa ke din
karti hai kaar-e-tirgi mujh ko bujhaa ke raat
Ghazalغزل
ہمارا ذکر جو آیا تو یوں پکارا وہ انا پرست فریبی سخن کا مارا وہ دھوئیں میں ڈھلتا ہوا بے ایمان دیپک میں فلک نشین چمکتا ہوا ستارا وہ شب وصال کا تم مانگتے ہو ہم سے حساب مگر جو وقت تمہارے بنا گزارا وہ عجیب رشتہ نے باندھا ہوا ہے دونوں کو میں نقش دھوپ کا شبنم کا استعارہ وہ سمجھ رہا تھا جسے میں بس ایک موج سراب جڑیں اکھاڑ گیا میری تیز دھارا وہ نہ جانے کس کی نظر کو فریب دیتا ہے ہماری آنکھ سے اوجھل ہوا نظارا وہ جھلک رہا تھا جو تصویر سے مری عرفانؔ ہے ایک خواب سے منسوب رنگ سارا وہ
hamaaraa zikr jo aaya to yuun pukaaraa vo
40 views
ہر کسی سے تو محبت نہیں ہوتی مجھ سے اور تبدیل یہ عادت نہیں ہوتی مجھ سے اپنی وحشت کا سبب خوب سمجھتا ہوں مگر کوئی پوچھے تو وضاحت نہیں ہوتی مجھ سے اک فقط وہ ہے مری ساری خرابی کا سبب اک فقط اس سے شکایت نہیں ہوتی مجھ سے مجھ کو ہر گام پہ رہتی ہے ضرورت اپنی اور پوری یہ ضرورت نہیں ہوتی مجھ سے تیرگی تھوڑی بہت پھر بھی میں کر لیتا ہوں روشنی تو کسی صورت نہیں ہوتی مجھ سے عمر در عمر یوں بے رنگ ہوا جاتا ہوں اپنے رنگوں کی حفاظت نہیں ہوتی مجھ سے
har kisi se to mohabbat nahin hoti mujh se
40 views
ساتھ بہتی ندی کے دھارے سے گفتگو کیجیے نظارے سے میں کہ دنیا کی سمت جاتا تھا اس نے روکا مجھے اشارے سے آ گرا روشنی کا اک ٹکڑا میرے گھر ٹوٹ کر ستارے سے تھی زمیں سوکھنے پہ آمادہ کیا شکایت ہو ابر پارے سے دن ڈھلا اور گھر کو لوٹ آئے ٹوٹے ٹوٹے سے ہارے ہارے سے ڈوبتی کشتیوں کے ہم راہی جا لگے خود بخود کنارے سے شب بھر آکاش پر چمکتے ہیں دن میں پھرتے ہیں مارے مارے سے
saath bahti nadi ke dhaare se
40 views
ہو دن کہ چاہے رات کوئی مسئلہ نہیں میرے لیے حیات کوئی مسئلہ نہیں الجھا ہوا ہوں کب سے سوالوں کے دشت میں کیسے کہوں میں ذات کوئی مسئلہ نہیں چلنا ہے ساتھ ساتھ کہ راہیں بدل لیں ہم تو سوچ میرے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں جو ہو مفید آپ وہی فیصلہ کریں مانیں نہ میری بات کوئی مسئلہ نہیں صحرا کی تیز دھوپ مجھے آ گئی ہے راس جنگل کی سرد رات کوئی مسئلہ نہیں عرفانؔ اپنے ساتھ کبھی رہ کے دیکھنا خود سے تعلقات کوئی مسئلہ نہیں
ho din ki chaahe raat koi masala nahin
40 views
رات اک حادثہ ہوا مجھ میں ایک دروازہ سا کھلا مجھ میں میرے اندر چراغ جلتے ہیں رقص کرتی ہے اک ہوا مجھ میں پھر سے آکار لے رہا ہے کہیں ایک چہرہ نیا نیا مجھ میں مجھ کو یہ کام خود ہی کرنا تھا عمر بھر کون جاگتا مجھ میں اب بھی سینہ جلا رہا ہے مرا ایک سورج بجھا ہوا مجھ میں جانے وہ کون ہے جو رہتا ہے سہما سہما ڈرا ڈرا مجھ میں
raat ik haadsa huaa mujh mein
40 views
آہوں کی آزاروں کی آوازیں تھیں راہ میں غم کے ماروں کی آوازیں تھیں دور خلا میں ایک سیاہی پھیلی تھی بستی میں انگاروں کی آوازیں تھیں آنکھوں میں خوابوں نے شور مچایا تھا آسمان پر تاروں کی آوازیں تھیں گھر کے باہر آوازیں تھیں رستوں کی اور گھر میں دیواروں کی آوازیں تھیں اب مجھ میں اک سناٹے کی چیخیں ہے پہلے کچھ بیماروں کی آوازیں تھیں اس بستی پہ مجبوری کا سایہ تھا گھر گھر میں بازاروں کی آوازیں تھیں
aahon ki aazaaron ki aavaazein thiin
40 views





