SHAWORDS
Akbar Hyderabadi

Akbar Hyderabadi

Akbar Hyderabadi

Akbar Hyderabadi

poet
21Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

کہکشاں کے تناظر میں ہم کیا ہمارا ستارہ ہے کیا ان گنت آفتابوں کی اقلیم میں اک شرارہ ہے کیا کون سمجھے زباں برگ و اشجار کی دشت و کہسار کی کون جانے کہ اس بے کراں خامشی میں اشارہ ہے کیا ہم محبت کو اک منصب عاشقانہ سمجھتے رہے یہ نہ سوچا محبت کی سوداگری میں خسارہ ہے کیا یہ طلسم تماشا ہے سارا جہاں اک طلسم نظر روشنی کا سمندر ہیں آنکھیں مگر آشکارہ ہے کیا وہ ہے بے مثل اس کو اسی کے حوالے سے سمجھا کرو اس کے ادراک میں دخل تشبیہ کیا استعارہ ہے کیا ایک مٹی کے گھر میں جیے عمر بھر اور مٹی ہوئے کل جہاں یوں تو اکبرؔ ہمارے لیے پر ہمارا ہے کیا

kahkashaan ke tanaazur mein ham kyaa hamaaraa sitaara hai kyaa

40 views

غزل · Ghazal

جب صبح کی دہلیز پہ بازار لگے گا ہر منظر شب خواب کی دیوار لگے گا پل بھر میں بکھر جائیں گے یادوں کے ذخیرے جب ذہن پہ اک سنگ گراں بار لگے گا گوندھے ہیں نئی شب نے ستاروں کے نئے ہار کب گھر مرا آئینۂ انوار لگے گا گر سیل خرافات میں بہہ جائیں یہ آنکھیں ہر حرف یقیں کلمۂ انکار لگے گا حالات نہ بدلے تو تمنا کی زمیں پر ٹوٹی ہوئی امیدوں کا انبار لگے گا کھلتے رہے گر پھول لہو میں یوں ہی اکبرؔ ہر فصل میں دل اپنا سمن زار لگے گا

jab subh ki dahliz pe baazaar lagegaa

40 views

غزل · Ghazal

ہاں یہی شہر مرے خوابوں کا گہوارہ تھا انہی گلیوں میں کہیں میرا صنم خانہ تھا اسی دھرتی پہ تھے آباد سمن زار مرے اسی بستی میں مری روح کا سرمایہ تھا تھی یہی آب و ہوا نشوونما کی ضامن اسی مٹی سے مرے فن کا خمیر اٹھا تھا اب نہ دیواروں سے نسبت ہے نہ بام و در سے کیا اسی گھر سے کبھی میرا کوئی رشتہ تھا زخم یادوں کے سلگتے ہیں مری آنکھوں میں خواب ان آنکھوں نے کیا جانیے کیا دیکھا تھا مہرباں رات کے سائے تھے منور ایسے اشک آنکھوں میں لیے دل یہ سراسیمہ تھا اجنبی لگتے تھے سب کوچہ و بازار اکبرؔ غور سے دیکھا تو وہ شہر مرا اپنا تھا

haan yahi shahr mire khvaabon kaa gahvaara thaa

40 views

غزل · Ghazal

ہیں سو طرح کے رنگ ہر اک نقش پا میں دیکھ انساں کا حسن آئنۂ ارتقا میں دیکھ یوں ہی نہیں یہ برتریٔ نسل آدمی گزرے ہیں کیسے حادثے سعئ بقا میں دیکھ صرف نظر ہیں وقت کی پنہائیاں تمام دنیائے نارسا مری فکر رسا میں دیکھ یہ روشنی تو لو ہے اسی اک چراغ کی تزئین دہر ذہن کی نشو و نما میں دیکھ اس کاروبار جان و جسد پر نگاہ ڈال ہیں کیسی کیسی نعمتیں آب و ہوا میں دیکھ یاں کتنے لوگ مر کے امر ہو گئے نہ پوچھ کیا صورتیں بقا کی ہیں راہ فنا میں دیکھ سن تو خرام وقت میں ہیں کیسی آہٹیں کیا رنگ پر فشاں ہیں غبار ہوا میں دیکھ اکبرؔ ہے ایک محشر علم و خبر دماغ شور حیات خانۂ بیم و رجا میں دیکھ

hain sau tarah ke rang har ik naqsh-e-paa mein dekh

40 views

غزل · Ghazal

دور تک بس اک دھندلکا گرد تنہائی کا تھا راستوں کو رنج میری آبلہ پائی کا تھا فصل گل رخصت ہوئی تو وحشتیں بھی مٹ گئیں ہٹ گیا سایہ جو اک آسیب صحرائی کا تھا توڑ ہی ڈالا سمندر نے طلسم خود سری زعم کیا کیا ساحلوں کو اپنی پہنائی کا تھا اور مبہم ہو گیا پیہم ملاقاتوں کے ساتھ وہ جو اک موہوم سا رشتہ شناسائی کا تھا خاک بن کر پتیاں موج ہوا سے جا ملیں دیر سے اکبرؔ گلوں پر قرض پروائی کا تھا

duur tak bas ik dhundalkaa gard-e-tanhaai kaa thaa

40 views

غزل · Ghazal

شاخ بلند بام سے اک دن اتر کے دیکھ انبار برگ و بار خزاں میں بکھر کے دیکھ مٹی کے سادگی میں الگ سا جمال ہے رنگوں کی نکہتوں کی قبا تار کرکے دیکھ امکاں کی وسعتوں کے افق زار کھل گئے پر تولنے لگے ہیں پرندے سحر کے دیکھ ظلمت کی کشتیوں کو بھنور ہے یہ روشنی در کھل رہے ہیں دانش و علم و خبر کے دیکھ کیا جانے غم کی آنچ کا پرتو کہاں پڑے انگڑائی لے رہے ہیں ہیولے شرر کے دیکھ سنگین حادثوں کی حکایت طویل ہے کوہ گراں کی بات نہ کر زخم سر کے دیکھ اپنی بصارتوں کو جسارت کی آنچ دے منظر اسی نظر سے جہان دگر کے دیکھ پندار سرنگوں کا جنوں معتبر نہیں بجھتے ہوئے چراغ کی لو تیز کرکے دیکھ اکبرؔ ندائے شب کو نوائے سحر سمجھ لو دے رہے ہیں حوصلے اہل نظر کے دیکھ

shaakh-e-buland-e-baam se ik din utar ke dekh

40 views

Similar Poets