SHAWORDS
Akhtar Imam Rizvi

Akhtar Imam Rizvi

Akhtar Imam Rizvi

Akhtar Imam Rizvi

poet
15Sher
15Shayari
11Ghazal

Sherشعر

See all 15

Popular Sher & Shayari

30 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

jo sang ho ke mulaaem hai saadgi ki tarah

جو سنگ ہو کے ملائم ہے سادگی کی طرح پگھل رہا ہے مرے دل میں چاندنی کی طرح مجھے پکارو تو دیوار ہوں سنو تو صدا میں گونجتا ہوں فضاؤں میں خامشی کی طرح میں اس کو نور کا پیکر کہوں کہ جان خیال جو میرے دل پہ اترتا ہے شاعری کی طرح کسی کی یاد نے مہکا دیا ہے زخم طلب صبا کے ہاتھ سے مسلی ہوئی کلی کی طرح تھکا ہوا ہوں کسی سائے کی تلاش میں ہوں بچھڑ گیا ہوں ستاروں سے روشنی کی طرح میں اپنے کرب میں غلطاں وہ اپنے کیف میں گم ہے اس کی جیت بھی میری شکست ہی کی طرح خزاں کے زہر کا تریاک اگر نہیں یارو گلوں کی بات ہے بے وقت راگنی کی طرح

غزل · Ghazal

jurm-e-hasti ki sazaa kyuun nahin dete mujh ko

جرم ہستی کی سزا کیوں نہیں دیتے مجھ کو لوگ جینے کی دعا کیوں نہیں دیتے مجھ کو صرصر خوں کے تصور سے لرزتے کیوں ہو خاک صحرا ہوں اڑا کیوں نہیں دیتے مجھ کو کیوں تکلف ہے مرے نام پہ تعزیروں کا میں برا ہوں تو بھلا کیوں نہیں دیتے مجھ کو اب تمہارے لیے خود اپنا تماشائی ہوں دوستو داد وفا کیوں نہیں دیتے مجھ کو میں مسافر ہی سہی رات کی خاموشی کا تم سحر ہو تو صدا کیوں نہیں دیتے مجھ کو جنس بازار کی صورت ہوں جہاں میں اخترؔ لوگ شیشوں میں سجا کیوں نہیں دیتے مجھ کو

غزل · Ghazal

chaandni ke haath bhi jab ho gae shal raat ko

چاندنی کے ہاتھ بھی جب ہو گئے شل رات کو اپنے سینے پر سنبھالا میں نے بوجھل رات کو رات بھر چھایا رہا گھر کی فضا پر اک ہراس دستکیں دیتا تھا در پر کوئی پاگل رات کو چاندنی میں گھل گیا جب دل کی مایوسی کا زہر میں نے خود کفنا دیا سایوں میں کومل رات کو کرب کے لاوے ابلتے تھے سکوں کے آس پاس اف وہ نیندیں وہ گراں خوابی کی دلدل رات کو آج پھر دھندلا گئی اخترؔ مری شام فراق سوچتا ہوں آج پھر برسیں گے بادل رات کو

غزل · Ghazal

vo khud to mar hi gayaa thaa mujhe bhi maar gayaa

وہ خود تو مر ہی گیا تھا مجھے بھی مار گیا وہ اپنے روگ مری روح میں اتار گیا سمندروں کی یہ شورش اسی کا ماتم ہے جو خود تو ڈوب گیا موج کو ابھار گیا ہوا کے زخم کھلے تھے اداس چہرے پر خزاں کے شہر سے کوٹی تو پر بہار گیا اندھیری رات کی پرچھائیوں میں ڈوب گیا سحر کی کھوج میں جو بھی افق کے پار گیا وہ روشنی کا مسافر میں تیرگی کا دھواں تو پھر بھلا وہ مجھے کس لیے پکار گیا میں اپنے سوچ کے ہم زاد کا پجاری تھا ترا جلال مری عاقبت سنوار گیا

غزل · Ghazal

dil vo pyaasaa hai ki dariyaa kaa tamaashaa dekhe

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھے رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن آنکھ اس پھول کی تصویر میں کیا کیا دیکھے کوئی چوٹی نہیں اب تو مرے قد سے آگے یہ زمانہ تو ابھی اور بھی اونچا دیکھے پھر وہی دھند میں لپٹا ہوا پیکر ہوگا کون بے کار میں اٹھتا ہوا پردہ دیکھے ایک احساس ندامت سے لرز اٹھتا ہوں جب رم موج مری وسعت صحرا دیکھے

غزل · Ghazal

DhunDte ho jise dafinon mein

ڈھونڈتے ہو جسے دفینوں میں وہی وحشی ہے سب کے سینوں میں میرے قابیل کی روایت ہیں پرزے جتنے بھی ہیں مشینوں میں صبح دم پھر سے بانٹ دی کس نے تیرگی شہر کے مکینوں میں بھوک بوئی گئی ہے اب کے برس دانت اگ آئے ہیں زمینوں میں زندگی گاؤں کی حسیں لڑکی گھر گئی ہے تماش بینوں میں کس مسافر کی بات کرتے ہو اب تو طوفان ہیں سفینوں میں کس مشقت کے سانس لیتا ہوں یہ غزل بھی ہوئی مہینوں میں

Similar Poets