SHAWORDS
Akhtar Muslimi

Akhtar Muslimi

Akhtar Muslimi

Akhtar Muslimi

poet
24Sher
24Shayari
11Ghazal

Sherشعر

See all 24

Popular Sher & Shayari

48 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

naale mire jab tak mire kaam aate raheinge

نالے مرے جب تک مرے کام آتے رہیں گے اے ذوق نظر وہ لب بام آتے رہیں گے اے ذوق طلب تو جو سلامت ہے تو کیا غم لب تک مرے خود جام پہ جام آتے رہیں گے دل زندہ اگر ہو تو پھر اے زیست کے طالب ہر گام پہ جینے کے پیام آتے رہیں گے منزل کی تمنا ہے تو ٹھکرا کے نکل جا صیاد لیے دانہ و دام آتے رہیں گے کھا جاؤ نہ دھوکا کہیں منزل کے گماں پر رستے میں کچھ ایسے بھی مقام آتے رہیں گے اخترؔ اگر آباد رہے گل کدۂ دل! پھر اس میں تو کچھ مست خرام آتے رہیں گے

غزل · Ghazal

aansuon ke tufaan mein bijliyaan dabi rakhnaa

آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا سرد سرد آہوں میں گرمیاں دبی رکھنا کیفیت غم دل کی ہو عیاں نہ چہرے سے پردۂ تبسم میں تلخیاں دبی رکھنا کون سننے والا ہے بے حسوں کی دنیا میں اپنے غم کی سینے میں داستاں دبی رکھنا کس قدر انوکھا ہے شیوہ اہل دنیا کا میٹھی میٹھی باتوں میں تلخیاں دبی رکھنا خوب ہے تمہارا بھی یہ کمال فن اخترؔ سادہ سادہ شعروں میں شوخیاں دبی رکھنا

غزل · Ghazal

maail-e-lutf hai aamaada-e-be-daad bhi hai

مائل لطف ہے آمادۂ بیداد بھی ہے وہ سراپائے محبت ستم ایجاد بھی ہے شب تنہائی بھی ہے ساتھ تری یاد بھی ہے دل کا کیا حال کہوں شاد بھی ناشاد بھی ہے دولت غم سے ہر اک گوشہ ہے اس کا معمور دل کی دنیا مری آباد بھی برباد بھی ہے بے سبب تو نہیں احساس خلش کا مجھ کو بھولنے والے ترے دل میں مری یاد بھی ہے کیوں نہ آساں ہو رہ عشق کہ میرے ہمراہ جذبۂ قیسؔ بھی ہے ہمت فرہادؔ بھی ہے جل گیا اپنا نشیمن مگر افسوس یہ ہے پھونکنے والوں میں اک برق چمن زاد بھی ہے میرا وجدان محرک ہے مرے نغموں کا طبع موزوں مری پابند بھی آزاد بھی ہے کیا بتاؤں میں تمہیں کیا ہے نوائے اخترؔ نغمے کا نغمہ ہے فریاد کی فریاد بھی ہے

غزل · Ghazal

tum apni zabaan khaali kar ke ai nukta-varo pachhtaaoge

تم اپنی زباں خالی کر کے اے نکتہ ورو پچھتاؤ گے میں خوب سمجھتا ہوں اس کو جو بات مجھے سمجھاؤ گے اک میں ہی نہیں ہوں تم جس کو جھوٹا کہہ کر بچ جاؤ گے دنیا تمہیں قاتل کہتی ہے کس کو کس کو جھٹلاؤ گے یا راحت دل بن کر آؤ یا آفت دل بن کر آؤ! پہچان ہی لوں گا میں تم کو جس بھیس میں بھی تم آؤ گے ہر بات بساط عالم میں مانند صدائے گنبد ہے اوروں کو برا کہنے والو تم خود بھی برے کہلاؤ گے پھر چین نہ پاؤ گے اخترؔ اس درد کی ماری دنیا میں اس در سے اگر اٹھ جاؤ گے در، در کی ٹھوکر کھاؤ گے

غزل · Ghazal

shikva is kaa to nahin hai jo karam chhoD diyaa

شکوہ اس کا تو نہیں ہے جو کرم چھوڑ دیا ہے ستم یہ کہ ستم گر نے ستم چھوڑ دیا لے گیا چھین کوئی سب سر و سامان حیات ہاں مگر ایک سلگتا ہوا غم چھوڑ دیا لگ گئی ان کو بھی شاید ترے کوچے کی ہوا مے کدہ رند نے زاہد نے حرم چھوڑ دیا ہائے اس رہ رو برباد کی منزل اے دوست جس نے گھبرا کے ترا نقش قدم چھوڑ دیا

غزل · Ghazal

kahaan jaaein chhoD ke ham use koi aur us ke sivaa bhi hai

کہاں جائیں چھوڑ کے ہم اسے کوئی اور اس کے سوا بھی ہے وہی درد دل بھی ہے دوستو وہی درد دل کی دوا بھی ہے مری کشتی لاکھ بھنور میں ہے نہ کروں گا میں تری منتیں یہ پتا نہیں تجھے ناخدا مرے ساتھ میرا خدا بھی ہے یہ ادا بھی اس کی عجیب ہے کہ بڑھا کے حوصلۂ نظر مجھے اذن دید دیا بھی ہے مرے دیکھنے پہ خفا بھی ہے مری سمت محفل غیر میں وہ ادائے ناز سے دیکھنا جو خطائے عشق کی ہے سزا تو مری وفا کا صلہ بھی ہے جو ہجوم غم سے ہے آنکھ نم تو لبوں پہ نالے ہیں دم بدم اسے کس طرح سے چھپائیں ہم کہیں راز عشق چھپا بھی ہے یہ بجا کہ اخترؔ مسلمی ہے زمانے بھر سے برا مگر اسے دیکھیے جو خلوص سے تو بھلوں میں ایک بھلا بھی ہے

Similar Poets