SHAWORDS
Akhtar Shahjahanpuri

Akhtar Shahjahanpuri

Akhtar Shahjahanpuri

Akhtar Shahjahanpuri

poet
20Shayari
16Ghazal

Popular Shayari

20 total

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

جو فقط شوخیٔ تحریر بھی ہو سکتی ہے وہ مرے پاؤں کی زنجیر بھی ہو سکتی ہے صرف ویرانہ ہی غمگینی کا باعث تو نہیں عہد ماضی کی وہ تصویر بھی ہو سکتی ہے چشم حسرت سے جو ٹپکی ہے لہو کی اک بوند صبح امید کی تنویر بھی ہو سکتی ہے رنج و غم ٹھوکریں مایوسی گھٹن بے زاری میرے خوابوں کی یہ تعبیر بھی ہو سکتی ہے بد گماں ہے تو وہی مورد الزام ہو کیوں کچھ نہ کچھ تو مری تقصیر بھی ہو سکتی ہے ہوش قائم رہیں طوفان حوادث میں اگر بچ نکل جانے کی تدبیر بھی ہو سکتی ہے تیرگی بخت کی سمجھو نہ اسے تم اخترؔ ملتفت زلف گرہ گیر بھی ہو سکتی ہے

jo faqat shokhi-e-tahrir bhi ho sakti hai

40 views

غزل · Ghazal

اداسی مقدر ہے برسات میں کوئی آئے کیسے خرابات میں ہمیں کیا خبر ہے کہ دن کب ہوا رہے منہمک ہم مناجات میں چلو شیخ صاحب سے ملنے چلیں دکھاتے ہیں کیا کیا کرامات میں سبھی تو ہیں ماضی میں کھوئے ہوئے نیا کچھ نہیں ہے خیالات میں وہ لمحہ بھی کس درجہ سفاک تھا بہا لے گیا سب کو جذبات میں نئی نسل کے مشغلے ہیں عجب کوئی فرق رکھا نہ دن رات میں یہ ممکن ہے اخترؔ کہ وہ مہ جبیں کھلے ہم سے پہلی ملاقات میں

udaasi muqaddar hai barsaat mein

40 views

غزل · Ghazal

ہاتھ جب موسم کے گیلے ہو گئے ہیں زخم دل کے اور گہرے ہو گئے ہیں بانٹتے تھے جو بہار زندگانی بند اب وہ بھی دریچے ہو گئے ڈوب جائے گا ہمارے ساتھ وہ بھی یہ جو سوچا ہاتھ ڈھیلے ہو گئے ہیں لاج رکھنی پڑ گئی ہے دوستوں کی ہم بھری محفل میں جھوٹے ہو گئے ہیں اے غم ماضی تجھے میں نذر کیا دوں خشک آنکھوں کے کٹورے ہو گئے ہیں اب مدد خار بیاباں ہیں کریں گے سد رہ پیروں کے چھالے ہو گئے ہیں سو سکے گا وہ بھی اخترؔ چین سے اب ہاتھ بیٹی کے جو پیلے ہو گئے ہیں

haath jab mausam ke giile ho gae hain

40 views

غزل · Ghazal

وقت بے رحم ہے مقتل کی زمینوں جیسا اور ہمدرد ہے مخلص کی دعاؤں جیسا کوئی منظر نہیں برسات کے موسم میں بھی اس کی زلفوں سے پھسلتی ہوئی دھوپوں جیسا آبلوں کی طرح رہنے نہ دیا اشکوں کو میری پلکوں نے کیا کام ببولوں جیسا سنگ دل ہے نہ فریبی نہ جفاکار ہے وہ میرا محبوب ہے معصوم فرشتوں جیسا میں تو انسان ہوں تم جیسا ہوں ٹھہرو لوگو مجھ پہ الزام لگاؤ نہ رسولوں جیسا ذہن سے محو ہوئے گزرا زمانہ اخترؔ ایک چہرہ ہے مگر اب بھی گلابوں جیسا

vaqt be-rahm hai maqtal ki zaminon jaisaa

غزل · Ghazal

یاران تیز گام سے رنجش کہاں ہے اب منزل پہ جا پہنچنے کی خواہش کہاں ہے اب زنداں میں دن بھی رات ہی جیسا گزر گیا اہل جنوں وہ پہلی سی شورش کہاں ہے اب جام شراب اب تو مرے سامنے نہ رکھ آنکھوں میں نور ہاتھ میں جنبش کہاں ہے اب حلقہ بگوش کوئی نہ اب یار ہے یہاں وہ روز و شب کی داد و ستائش کہاں ہے اب جینے کا حق جو مانگا تو تیور بدل گئے وہ میرے محسنوں کی نوازش کہاں ہے اب چہرے پہ گرد عمر رواں کا ظہور ہے بانہوں کے بالے بوسوں کی بارش کہاں ہے اب خنجر ہو یا کہ دشنہ ہو یا تیغ یا قلم اخترؔ وہ آب اور وہ برش کہاں ہے اب

yaaraan-e-tez-gaam se ranjish kahaan hai ab

غزل · Ghazal

دل بہلنے کے وسیلے دے گیا وہ اپنی یادوں کے کھلونے دے گیا وہ ہم سخن تنہائیوں میں کوئی تو ہو سونے سونے سے دریچے دے گیا وہ لے گیا میری خودی میری انا بھی اے جبین شوق سجدے دے گیا وہ رنج و غم سہنے کی عادت ہو گئی ہے زندہ رہنے کے سلیقے دے گیا وہ میری ہمت جانتا تھا اس لیے بھی ڈوبنے والے سفینے دے گیا وہ زندگی بھر جوڑتے رہنا ہے ان کو ٹوٹی زنجیروں سے رشتے دے گیا وہ زر فشاں ہر لفظ زریں ہر ورق ہے اخترؔ ایسے کچھ صحیفے دے گیا وہ

dil bahalne ke vasile de gayaa vo

Similar Poets