"va'iz main koi chor huun jo tujh se dabunga munh toD ke rakh dunga agar talkh hua tu"

Ali Zaryoun
Ali Zaryoun
Ali Zaryoun
Sherشعر
See all 9 →va'iz main koi chor huun jo tujh se dabunga
واعظ میں کوئی چور ہوں جو تجھ سے دبوں گا منہ توڑ کے رکھ دوں گا اگر تلخ ہوا تو
ada-e-ishq huun puuri ana ke saath huun main
ادائے عشق ہوں پوری انا کے ساتھ ہوں میں خود اپنے ساتھ ہوں یعنی خدا کے ساتھ ہوں میں
baat bhi kijiye dekh bhi lijiye
بات بھی کیجیے دیکھ بھی لیجیے دیکھ بھی لیجیے بات بھی کیجیے
asr ke vaqt mere paas na baiTh
عصر کے وقت میرے پاس نہ بیٹھ مجھ پہ اک سانولی کا سایہ ہے
sukut-e-sham ka hissa tu mat bana mujh ko
سکوت شام کا حصہ تو مت بنا مجھ کو میں رنگ ہوں سو کسی موج میں ملا مجھ کو
main paanv dho ke piyun yaar ban ke jo aa.e
میں پاؤں دھو کے پیوں یار بن کے جو آئے منافقوں کو تو میں منہ لگانے والا نہیں
Popular Sher & Shayari
18 total"ada-e-ishq huun puuri ana ke saath huun main khud apne saath huun ya.ani khuda ke saath huun main"
"baat bhi kijiye dekh bhi lijiye dekh bhi lijiye baat bhi kijiye"
"asr ke vaqt mere paas na baiTh mujh pe ik sanvli ka saaya hai"
"sukut-e-sham ka hissa tu mat bana mujh ko main rang huun so kisi mauj men mila mujh ko"
"main paanv dho ke piyun yaar ban ke jo aa.e munafiqon ko to main munh lagane vaala nahin"
adaa-e-ishq huun puuri anaa ke saath huun main
khud apne saath huun yaani khudaa ke saath huun main
asr ke vaqt mere paas na baiTh
mujh pe ik saanvli kaa saaya hai
sukut-e-shaam kaa hissa tu mat banaa mujh ko
main rang huun so kisi mauj mein milaa mujh ko
main paanv dho ke piyun yaar ban ke jo aae
munaafiqon ko to main munh lagaane vaalaa nahin
kyaa hai jo mujhe hukm nahin maanne aate
divaana to hotaa hi baghaavat ke liye hai
Dare huon ne tumhein bhi Daraa diyaa varna
khudaa to pyaar sikhaataa hai kuchh nahin kahtaa
Ghazalغزل
tere aage sar-kashi dikhlaaungaa?
تیرے آگے سرکشی دکھلاوں گا؟ تو تو جو کہہ دے وہی بن جاؤں گا اے زبوری پھول اے نیلے گلاب مت خفا ہو میں دوبارہ آؤں گا سات صدیاں سات راتیں سات دن اک پہیلی ہے کسے سمجھاؤں گا یار ہو جائے سہی تجھ سے مجھے تیرے قبضے سے تجھے چھڑواؤں گا تم بہت معصوم لڑکی ہو تمہیں نظم بھیجوں گا دعا پہناؤں گا کوئی دریا ہے نہ جنگل اور نہ باغ میں یہاں بالکل نہیں رہ پاؤں گا یاد کرواؤں گا تجھ کو تیرے زخم تیری ساری نعمتیں گنواؤں گا چھوڑنا اس کے لئے مشکل نہ ہو مجھ سے مت کہنا میں یہ کر جاؤں گا میں علیؔ زریون ہوں کافی ہے یہ میں ظفر اقبال کیوں بن جاؤں گا
is tarah se na aazmaao mujhe
اس طرح سے نہ آزماؤ مجھے اس کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے میں پلٹ آؤں اس کی آواز میں بلاؤ مجھے دوستوں کو نہ آگ لگ جائے اپنی ڈی پی میں مت لگاؤ مجھے
zan-e-hasin thi aur phuul chun ke laati thi
زن حسین تھی اور پھول چن کے لاتی تھی میں شعر کہتا تھا وہ داستاں سناتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہو یہ اس کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہو یہاں وہ آتی تھی منافقوں کو مرا نام زہر لگتا تھا وہ جان بوجھ کے غصہ انہیں دلاتی تھی عرب لہو تھا رگوں میں بدن سنہرا تھا وہ مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور وہ میں نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی میں اس کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا وہ مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی علیؔ یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے لگا کے مرا حوصلہ بڑھاتی تھی علیؔ سے دور رہو لوگ اس سے کہتے تھے وہ میرا سچ ہے بہت چیخ کر بتاتی تھی میں کچھ بتا نہیں سکتا وہ میرا کیا تھی علیؔ کہ اس کو دیکھ کے بس اپنی یاد آتی تھی
paagal kaise ho jaate hain
پاگل کیسے ہو جاتے ہیں دیکھو ایسے ہو جاتے ہیں خوابوں کا دھندا کرتی ہو کتنے پیسے ہو جاتے ہیں میرے کام خدا کرتا ہے تیرے ویسے ہو جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تیرے جیسے ہو جاتے ہیں
main jab vajud ke hairat-kade se mil rahaa thaa
میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا مجھے لگا میں کسی معجزے سے مل رہا تھا میں جاگتا تھا کہ جب لوگ سو چکے تھے تمام چراغ مجھ سے مرے تجربے سے مل رہا تھا ہوس سے ہوتا ہوا آ گیا میں عشق کی سمت یہ سلسلہ بھی اسی راستے سے مل رہا تھا خدا سے پہلی ملاقات ہو رہی تھی مری میں اپنے آپ کو جب سامنے سے مل رہا تھا عجیب لے تھی جو تاثیر دے رہی تھی مجھے عجیب لمس تھا ہر زاویے سے مل رہا تھا میں اس کے سینۂ شفاف کی ہری لو سے دہک رہا تھا سو پورے مزے سے مل رہا تھا ثواب و طاعت و تقویٰ فضیلت و القاب پڑے ہوئے تھے کہیں میں نشے سے مل رہا تھا ترے جمال کا بجھنا تو لازمی تھا کہ تو بغیر عشق کئے آئنے سے مل رہا تھا زمین بھی مرے آغوش سرخ میں تھی علیؔ فلک بھی مجھ سے ہرے ذائقے سے مل رہا تھا
sab ko hotaa hai hamaaraa to nahin ho saktaa
سب کو ہوتا ہے ہمارا تو نہیں ہو سکتا عشق تھا عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا میں تو پہلے ہی تجھے ہار کے بیٹھا ہوں یہاں اب خسارے میں خسارہ تو نہیں ہو سکتا ہاں مرے پاس محبت کے علاوہ کیا ہے اور محبت سے گزارا تو نہیں ہو سکتا چاہتا ہوں کہ اسے پاس بلا لوں لیکن اتنے لوگوں میں اشارہ تو نہیں ہو سکتا





