SHAWORDS
Anjum Khaleeq

Anjum Khaleeq

Anjum Khaleeq

Anjum Khaleeq

poet
39Sher
39Shayari
23Ghazal

Sherشعر

See all 39

Popular Sher & Shayari

78 total

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

jab tak fasil-e-jism kaa dar khul na jaaegaa

جب تک فصیل جسم کا در کھل نہ جائے گا اس دل کی یورشوں کا تسلسل نہ جائے گا خیموں سے تا فرات جو دریائے خوں ہے یہ اس پر سے مصلحت کا کوئی پل نہ جائے گا اس کو گماں نہیں تھا کہ عہد خزاں میں بھی یہ ذوق نغمہ ریزئ بلبل نہ جائے گا یہ ابر آگہی جو برستا رہا یونہی مٹی کا یہ وجود مرا گھل نہ جائے گا گرتا رہے گا یونہی بلاؤں کا آبشار جب تک غبار قلب و نظر دھل نہ جائے گا وہ شخص تو خدائی کے دعوے پہ تل گیا اس حد پہ ہم سمجھتے تھے بالکل نہ جائے گا بس اے نگار زیست یقیں آ گیا ہمیں یہ تیری بے رخی یہ تامل نہ جائے گا انجمؔ نگار زیست کو پھر چاہیئے وہی اک سر جو خواہشوں کے عوض تل نہ جائے گا

غزل · Ghazal

sitamgaron se Darun chup rahun nibaah karun

ستم گروں سے ڈروں چپ رہوں نباہ کروں خدا وہ وقت نہ لائے میں یہ گناہ کروں مری نظر میں انا کے شرر سلامت ہیں انہیں بجھاؤں تو تعظیم کم نگاہ کروں مری زباں کو سلیقہ نہیں گزارش کا میں اپنے حق سے زیادہ نہ کوئی چاہ کروں پہاڑ میرے تہور کا استعارہ ہے میں پستیوں سے بھلا کیسے رسم و راہ کروں مصاف زیست میں مجھ کو بس آگہی دے دو حرام ہے جو طلب پھر کوئی سپاہ کروں کسی کو خوف سلاسل کسی کو حرص کرم میں اپنے حق میں خدایا کسے گواہ کروں ستم تو یہ ہے کہ فوج ستم میں بھی انجمؔ بس اپنے لوگ ہی دیکھوں جدھر نگاہ کروں

غزل · Ghazal

badal chuke hain sab agli rivaayaton ke nisaab

بدل چکے ہیں سب اگلی روایتوں کے نصاب جو تھے ثواب و گنہ ہو گئے گناہ و ثواب نمو کے باب میں وہ بے بسی کا عالم ہے بہار مانگ رہی ہے خزاں رتوں سے گلاب بدل کے جام بھی ہم تو رہے خسارے میں ہمارے پاس لہو تھا تمہارے پاس شراب مرے کہے کو امانت سمجھنا موج ہوا میں آنے والے زمانوں سے کر رہا ہوں خطاب سو میری پیاس کا دونوں طرف علاج نہیں ادھر ہے ایک سمندر ادھر ہے ایک سراب خود آگہی کا سلیقہ سکھا گیا انجمؔ مرے خلاف مرے دوستوں کا استصواب

غزل · Ghazal

khaak kaa rizq yahaan har kas-o-naa-kas niklaa

خاک کا رزق یہاں ہر کس و ناکس نکلا یہ بدن سینچنے والا بڑا بے بس نکلا وہ جو کرتا تھا سدا خرقۂ درویش کی بات وہ بھی دربار میں وارفتۂ اطلس نکلا زرفشاں ہے مری زرخیز زمینوں کا بدن ذرہ ذرہ مرے پنجاب کا پارس نکلا میری حیرت کو بھی تاریخ میں محفوظ کرو میرے احباب میں ہر شخص بروٹس نکلا تتلیاں پیار کی تھک ہار کے لوٹ آئی ہیں غنچہ چشم ہی اس شخص کا بے رس نکلا یہ قلم مجرم توصیف غزالاں انجمؔ وقت پڑنے پہ تو یہ فیل کا آنکس نکلا

غزل · Ghazal

mire junun ko havas mein shumaar kar legaa

مرے جنوں کو ہوس میں شمار کر لے گا وہ میرے تیر سے مجھ کو شکار کر لے گا مجھے گماں بھی نہیں تھا کہ ڈوبتا ہوا دل محیط جسم کو اک روز پار کر لے گا میں اس کی راہ چلوں بھی تو فائدہ کیا ہے وہ کوئی اور روش اختیار کر لے گا فصیل شہر میں رکنے کی ہی نہیں یہ خبر جو کام ہم سے نہ ہوگا غبار کر لے گا وہ گل بدن کبھی نکلا جو سیر صحرا کو تو اپنے ساتھ ہوائے بہار کر لے گا جہاں پہ بات فقط نقد جاں سے بنتی ہو وہ خوش کلام وہاں بھی ادھار کر لے گا ہم ایسے لوگ بہت خوش گمان ہوتے ہیں یہ دل ضرور ترا اعتبار کر لے گا کھلے گا اس پہ ہی انجمؔ خلیق باب قبول جو اپنا حق طلب استوار کر لے گا

غزل · Ghazal

kuchh 'uzr pas-e-vaada-khilaafi nahin rakhte

کچھ عذر پس وعدہ خلافی نہیں رکھتے ہو کیسے مسیحا دم شافی نہیں رکھتے ایسے تو نہ تھے زخم کہ جو بھر ہی نہ پاتے احباب مگر ظرف تلافی نہیں رکھتے اس چین سے جینے میں کوئی بھید نہیں ہے بس یہ کہ تمنائیں اضافی نہیں رکھتے اس دور میں انصاف پنپ ہی نہیں سکتا اخلاص قلم جس میں صحافی نہیں رکھتے ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے ہم جیسا مگر ذوق قوافی نہیں رکھتے یہ معجزہ محتاج ہے پندار وفا کا سب تیشے دم کوہ شگافی نہیں رکھتے ہر بات میں کم مایہ نظر آتے ہیں انجمؔ راحت تو کجا درد بھی کافی نہیں رکھتے

Similar Poets