SHAWORDS
Anjum Khayali

Anjum Khayali

Anjum Khayali

Anjum Khayali

poet
15Sher
15Shayari
11Ghazal

Sherشعر

See all 15

Popular Sher & Shayari

30 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

kuchh tasaavir bol paDti hain

کچھ تصاویر بول پڑتی ہیں سب کی سب بے زباں نہیں ہوتیں اپنی مٹھی نہ بھینچ کر رکھو تتلیاں سخت جاں نہیں ہوتیں لڑکیوں میں بس ایک خامی ہے یہ دوبارہ جواں نہیں ہوتیں

غزل · Ghazal

hansi mein Taal to detaa huun aksar

ہنسی میں ٹال تو دیتا ہوں اکثر مگر میں خوش نہیں برباد ہو کر کوئی مرتا نہیں ضبط فغاں سے ذرا سا داغ پڑ جاتا ہے دل پر لکھی ہے ریگ ساحل پر جو میں نے وہ چٹھی پڑھ نہیں سکتا سمندر جہاں ہم ہیں وہاں سب دائرے ہیں کسی کا کوئی مرکز ہے نہ محور مجھے جانا ہے واپس بادلوں میں نہیں ہونا مجھے قطرے سے گوہر مجھے کچھ دیر رکنا چاہئے تھا وہ شاید دیکھ ہی لیتا پلٹ کر

غزل · Ghazal

koi tohmat ho mire naam chali aati hai

کوئی تہمت ہو مرے نام چلی آتی ہے جیسے بازار میں ہر گھر سے گلی آتی ہے تری یاد آتی ہے اب کوئی کہانی بن کر یا کسی نظم کے سانچے میں ڈھلی آتی ہے اب بھی پہلے کی طرح پیش رو رنگ و صدا ایک منہ بند سی بے رنگ کلی آتی ہے چل کے دیکھیں تو سہی کون ہے یہ دختر رز روز اول سے جو بد نام چلی آتی ہے یہ مرے کرب کا عالم رہے یا رب آباد اس زمیں سے بوئے اولاد علیؔ آتی ہے

غزل · Ghazal

mire mazaar pe aa kar diye jalaaegaa

مرے مزار پہ آ کر دیے جلائے گا وہ میرے بعد مری زندگی میں آئے گا یہاں کی بات الگ ہے جہان دیگر سے میں کیسے آؤں گا مجھ کو اگر بلائے گا مجھے ہنسی بھی مرے حال پر نہیں آتی وہ خود بھی روئے گا اوروں کو بھی رلائے گا بچھڑ کے اس کو گئے آج تیسرا دن ہے اگر وہ آج نہ آیا تو پھر نہ آئے گا فقیہ شہر کے بارے میری رائے تھی گناہ گار ہے پتھر نہیں اٹھائے گا اسی طرح در و دیوار تنگ ہوتے رہے تو کوئی اپنے لیے گھر نہیں بنائے گا ہمارے بعد یہ دار و رسن نہیں ہوں گے ہمارے بعد کوئی سر نہیں اٹھائے گا

غزل · Ghazal

ai shab-e-gham jo ham bhi ghar jaaein

اے شب غم جو ہم بھی گھر جائیں شہر کس کے سپرد کر جائیں کتنی اطراف کتنے رستے ہیں ہم اکیلے کدھر کدھر جائیں ایک ہی گھر میں قید ہے سلطاں ہم بھکاری نگر نگر جائیں آنکھ جھپکیں تو اتنے عرصے میں جانے کتنے برس گزر جائیں صورت ایسی بگاڑ لی اپنی وہ ہمیں دیکھ لیں تو ڈر جائیں

غزل · Ghazal

aazaar mire dil kaa dil-aazaar na ho jaae

آزار مرے دل کا دل آزار نہ ہو جائے جو کرب نہاں ہے وہ نمودار نہ ہو جائے آواز بھی دیتی ہے کہ اٹھ جاگ میرے لعل ڈرتی بھی ہے بچہ کہیں بیدار نہ ہو جائے جب تک میں پہنچتا ہوں کڑی دھوپ میں چل کر دیوار کا سایہ پس دیوار نہ ہو جائے پردہ نہ سرک جائے کہیں اے دل بے تاب وہ پردہ نشیں اور پر اسرار نہ ہو جائے بڑھتا چلا جاتا ہے زمانے سے تعلق یہ سلسلہ زنجیر گراں بار نہ ہو جائے آرام سے رہتا ہی نہیں بندۂ بے دام جب تک کسی مشکل میں گرفتار نہ ہو جائے

Similar Poets