SHAWORDS
Arif Abdul Mateen

Arif Abdul Mateen

Arif Abdul Mateen

Arif Abdul Mateen

poet
8Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

روح کے جلتے خرابے کا مداوا بھی نہیں درد وہ بادل ہے جو کھل کر برستا بھی نہیں شہر کے زنداں نے پہنا دیں وہ زنجیریں مجھے میری وحشت کو میسر دل کا صحرا بھی نہیں جس میں بہہ جائے سفینے کی طرح میرا وجود میری آنکھوں سے رواں غم کا وہ دریا بھی نہیں کرب کا سورج سوا نیزے پہ ہے ٹھہرا ہوا دل مرا ہے برف زار ایسا پگھلتا بھی نہیں مجھ کو یکجائی کی حسرت سے بھلا کیا واسطہ میں تو جی بھر کر سر آفاق بکھرا بھی نہیں مدتوں در پر مرے وہ دستکیں دیتا رہا میں مگر وہ نیند کا ماتا کہ چونکا بھی نہیں

ruuh ke jalte kharaabe kaa mudaavaa bhi nahin

غزل · Ghazal

چھپائے دل میں ہم اکثر تری طلب بھی چلے کبھی کبھی ترے ہم راہ بے سبب بھی چلے نمود گل کے کرشمے سدا جلو میں رہے نسیم بن کے چلے ہم چمن میں جب بھی چلے جلاؤ خون شہیداں سے ارتقا کے چراغ یہ رسم چلتی رہی ہے یہ رسم اب بھی چلے سنا ہے جادہ نوردان صبح کے ہم راہ بہ فیض وقت کئی رہروان شب بھی چلے ہے شور شبنم آسودگی کے دوش بدوش گل آج لے کے کہیں شعلۂ غضب بھی چلے کسی کا حکم زبان بندیٔ جنوں بھی چلا کسی کے قصے سخن بن کے زیر لب بھی چلے ہمیں نے ساغر غم منتخب کیا عارفؔ وگرنہ بزم میں کچھ ساغر طرب بھی چلے

chhupaae dil mein ham akasr tiri talab bhi chale

غزل · Ghazal

ڈھونڈھتا ہوں سر صحرائے تمنا خود کو میں کہ سمجھا تھا کبھی روح تماشا خود کو اپنے بچوں کی طرف غور سے جب بھی دیکھا کتنے ہی رنگوں میں بکھرا ہوا پایا خود کو اور کچھ لوگ مرے سائے تلے سستا لیں گرتی دیوار ہوں دیتا ہوں سہارا خود کو نور تو مجھ سے فراواں ہوا محفل محفل غم نہیں شمع صفت میں نے جلایا خود کو ریگ امید کے شاداب سرابوں کے طفیل میں نے دیکھا ہے کبھی صورت صحرا خود کو میری عظمت کا نشاں میری تباہی کی دلیل میں نے حالات کے سانچے میں نہ ڈھالا خود کو میری تخلیق مرے کام نہ آئی عارفؔ میں بہ انداز خدا پاتا ہوں تنہا خود کو

DhunDhtaa huun sar-e-sahraa-e-tamannaa khud ko

غزل · Ghazal

تتلیاں رنگوں کا محشر ہیں کبھی سوچا نہ تھا ان کو چھونے پر کھلا وہ راز جو کھلتا نہ تھا! تو وہ آئینہ ہے جس کو دیکھ کر روشن ہوا میں نے اپنے آپ کو سمجھا کہاں دیکھا نہ تھا! چاند بن کر تو مرے آنگن میں اترا ہے ضرور نور اتنا بام و در پر آج تک بکھرا نہ تھا! کون سے عالم میں میں نے آج دیکھا ہے تجھے تو دھنک بن کر مرے دل میں کبھی اترا نہ تھا! سخت جانی سے مرا دل بچ گیا ورنہ یہاں کون سا پتھر تھا اس شیشے پہ جو برسا نہ تھا! اس جہان رنگ و بو کو میں نے سمجھا تھا سراب اک حقیقت تھا یہ عارفؔ آنکھ کا دھوکا نہ تھا

titliyaan rangon kaa mahshar hain kabhi sochaa na thaa

غزل · Ghazal

ہم بھی ناداں ہیں سمجھتے ہیں کہ چھٹ جائے گی تیرگی نور کے پیکر میں سمٹ جائے گی لوگ کہتے ہیں محبت سے تمنا جس کو میری شہ رگ اسی تلوار سے کٹ جائے گی تم جسے بانٹ رہے ہو وہ ستم دیدہ زمیں زلزلہ آئے گا کچھ ایسا کہ پھٹ جائے گی قید ہوں گنبد بے در میں مری اپنی صدا مجھ تک آئے گی مگر آ کے پلٹ جائے گی بانٹ جی بھر کے اسے دہر کے محروموں میں پیار دولت تو نہیں ہے کہ جو گھٹ جائے گی باد صرصر سے نہ گھبرا کہ یہ چل کر عارفؔ کتنے چہروں سے نقابوں کو الٹ جائے گی

ham bhi naadaan hain samajhte hain ki chhaT jaaegi

غزل · Ghazal

چاند میرے گھر میں اترا تھا کہیں ڈوبا نہ تھا اے مرے سورج ابھی آنا ترا اچھا نہ تھا میں نے سن لی تھی ترے قدموں کی آہٹ دور سے تو نہ آئے گا کبھی دل میں مرے دھڑکا نہ تھا میں نے دیکھا تھا سر آئینہ اک پیکر کا عکس ہو بہ ہو ہم شکل تھا میرا مگر مجھ سا نہ تھا کیوں جھلس ڈالا ہے اس نے میرے خد و خال کو وقت اک دریا تھا لیکن آگ کا دریا نہ تھا بند پانی کے بھنور میں کھو گئی کشتی مری آنکھ جل تھل تھی مگر آنسو کوئی ٹپکا نہ تھا میں نہ دامان چراغ بے نوا بن کر جلا تھی طلب جھونکے کی مجھ کو اور تو جھونکا نہ تھا گھوم کر دیکھا تو تھا جس راہ پر تنہا رواں بھیڑ اتنی تھی کہ چلنے کو وہاں رستا نہ تھا میں کہ وسعت کی تمنا میں بگولا بن گیا ریت کے ذرے تھے دامن میں مرے صحرا نہ تھا کاہش سوز و زیاں نے راکھ کر ڈالا مجھے میں نے سمجھا تھا کہ یہ شعلہ یہاں جلتا نہ تھا میرے صحرا کی تپش کو دیکھ کر حیراں نہ تھا ابر گھر کر بارہا آیا مگر برسا نہ تھا اپنے بچوں کا تبسم دیکھ کر عارفؔ بتا گھر کی ویرانی کا تجھ کو شکوۂ بے جا نہ تھا

chaand mere ghar mein utraa thaa kahin Duubaa na thaa

Similar Poets