"zindagi ki haqiqat ajab ho ga.i aaj kal ho rahi hai basar khvab men"

Ashhad Bilal Ibn
Ashhad Bilal Ibn
Ashhad Bilal Ibn
Sherشعر
See all 9 →zindagi ki haqiqat ajab ho ga.i
زندگی کی حقیقت عجب ہو گئی آج کل ہو رہی ہے بسر خواب میں
ik lafz yaad tha mujhe tark-e-vafa magar
اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی
aao to mere sahn men ho jaa.e raushni
آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے
tamam din ki mashaqqat-bhari takan ke ba.ad
تمام دن کی مشقت بھری تکان کے بعد تمام رات محبت سے پھر جگاؤں اسے
aaj bhi naqsh hain dil par tiri aahaT ke nishan
آج بھی نقش ہیں دل پر تری آہٹ کے نشاں ہم نے اس راہ سے اوروں کو گزرنے نہ دیا
hosh-o-havas khone laga huun firaq men
ہوش و حواس کھونے لگا ہوں فراق میں تنہائیوں نے ایسا مقفل کیا مجھے
Popular Sher & Shayari
18 total"ik lafz yaad tha mujhe tark-e-vafa magar bhula hua huun Thokaren khane ke baa'd bhi"
"aao to mere sahn men ho jaa.e raushni muddat guzar ga.i hai charaghan kiye hue"
"tamam din ki mashaqqat-bhari takan ke ba.ad tamam raat mohabbat se phir jaga.un use"
"aaj bhi naqsh hain dil par tiri aahaT ke nishan ham ne us raah se auron ko guzarne na diya"
"hosh-o-havas khone laga huun firaq men tanha.iyon ne aisa muqaffal kiya mujhe"
aao to mere sahn mein ho jaae raushni
muddat guzar gai hai charaaghaan kiye hue
ik lafz yaad thaa mujhe tark-e-vafaa magar
bhulaa huaa huun Thokarein khaane ke baa'd bhi
zindagi ki haqiqat ajab ho gai
aaj kal ho rahi hai basar khvaab mein
yaad rakhnaa bhi ik ibaadat hai
kyuun na ham un kaa haafiza ho jaaein
hosh-o-havaas khone lagaa huun firaaq mein
tanhaaiyon ne aisaa muqaffal kiyaa mujhe
tamaam din ki mashaqqat-bhari takaan ke baad
tamaam raat mohabbat se phir jagaaun use
Ghazalغزل
dil maantaa nahin hai manaane ke baad bhi
دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی کرتا ہے ان کو یاد بھلانے کے بعد بھی پیماں کی نذر ہو گئے چین و سکوں، قرار لیکن نبھا نہیں ہے نبھانے کے بعد بھی اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی تسکین دل نصیب نہیں ہے تو کیا ہوا ہونا یہی ہے پیار جتانے کے بعد بھی بجھتی نہیں ہے تشنگی دیدار یار کی نظروں سے ان کے لاکھ پلانے کے بعد بھی اب بھی ہے ہم کو اہل چمن بس انہیں سے پیار اس دل کو بار بار دکھانے کے بعد بھی
hiila hai havaala hai
حیلہ ہے حوالہ ہے یہ عشق نرالا ہے شکوہ بھی شکایت بھی سب پیار کی مالا ہے سوچو تو فقط سورج سمجھو تو اجالا ہے ہے یاد وہی ازبر جو بھولنے والا ہے بچھڑے ہوئے ساتھی ہیں اور پاؤں میں چھالا ہے حالات بھی پس مرده ہونٹوں پہ بھی تالا ہے آئینہ تن تنہا سچ بولنے والا ہے یاروں کی محبت نے اشہدؔ کو سنبھالا ہے
sochte hain ki bulbula ho jaaein
سوچتے ہیں کہ بلبلہ ہو جائیں چند لمحے جئیں فنا ہو جائیں دوستی اپنی دیر پا کر لیں آؤ کچھ دن کو ہم جدا ہو جائیں ساتھ تو ہے تو منزلیں اپنی ورنہ بھٹکیں تو لاپتہ ہو جائیں ہم کہ الفت میں جان تک دے دیں اور بچھڑیں تو سانحہ ہو جائیں رفتہ رفتہ تجھے تراشیں ہم دھیرے دھیرے تری قبا ہو جائیں یاد رکھنا بھی اک عبادت ہے کیوں نہ ہم ان کا حافظہ ہو جائیں
ham ne dekhaa hai itne khanDar khvaab mein
ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں اب تو لگتا نہیں ہم کو ڈر خواب میں اپنی برسوں سے ہے اک وہی آرزو روز آ جائے ہے جو نظر خواب میں وقت آنے پہ سب کو غشی آ گئی جو بتاتے تھے خود کو نڈر خواب میں ظلم کی آندھیاں بڑھ کے طوفاں ہوئیں مست دنیا ہے پر رات بھر خواب میں عشق کی یہ مسافت بھی کیا خوب ہے چاند تارے ہوئے رہ گزر خواب میں ان سے ہوتا ہے ہر رات عہد وفا اور نبھاتے ہیں ہم بیشتر خواب میں روز و شب کھو گئے ہیں نہ جانے کہاں اب تو ہوتی ہے شام و سحر خواب میں جو بہت معتبر آ رہے ہیں نظر ان کے ہوتے ہیں کار دگر خواب میں زندگی کی حقیقت عجب ہو گئی آج کل ہو رہی ہے بسر خواب میں
tir-e-nazar ne aap ki ghaail kiyaa mujhe
تیر نظر نے آپ کی گھائل کیا مجھے پھر شوق انتظار نے پاگل کیا مجھے ایسی چلی ہوائے گلستاں مری طرف چھو کر بوئے گلاب نے صندل کیا مجھے بیٹوں نے میرے نام کی دستار پہن لی اور بیٹیوں نے صورت آنچل کیا مجھے بڑھنے لگی ہے دل کی تمنائے عاشقی یوں آ کے تیری یاد نے بے کل کیا مجھے ہوش و حواس کھونے لگا ہوں فراق میں تنہائیوں نے ایسا مقفل کیا مجھے پہلے تو آزمایا عطائے بہشت سے پھر بھیج کر جہان میں افضل کیا مجھے ہر شخص معترف کہ محب وطن ہوں میں پھر عدلیہ نے کیوں سر مقتل کیا مجھے ابن چمن ہے تیری وفاؤں پہ جاں نثار اپنا بنا کے تو نے مکمل کیا مجھے
aa jaao ab to zulf pareshaan kiye hue
آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے ہم راہ پر ہیں شمع فروزاں کئے ہوئے مایوس قلب ہے تری آمد کا منتظر دہلیز پر نگاہ کو چسپاں کئے ہوئے عہد وفا کو توڑ کے ہم بھی ہیں مضمحل تم بھی ادھر ہو چاک گریباں کئے ہوئے آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے بیٹھے ہیں تشنہ کام سر رہ گزر تمام ساقی تری شراب کا ارماں کئے ہوئے آ جاؤ کہ بہار ہے اپنے شباب پر ابن چمنؔ کے وصل کا ساماں کئے ہوئے





