SHAWORDS
Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

Ashhad Bilal Ibn

poet
9Sher
9Shayari
9Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

dil maantaa nahin hai manaane ke baad bhi

دل مانتا نہیں ہے منانے کے بعد بھی کرتا ہے ان کو یاد بھلانے کے بعد بھی پیماں کی نذر ہو گئے چین و سکوں، قرار لیکن نبھا نہیں ہے نبھانے کے بعد بھی اک لفظ یاد تھا مجھے ترک وفا مگر بھولا ہوا ہوں ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی تسکین دل نصیب نہیں ہے تو کیا ہوا ہونا یہی ہے پیار جتانے کے بعد بھی بجھتی نہیں ہے تشنگی دیدار یار کی نظروں سے ان کے لاکھ پلانے کے بعد بھی اب بھی ہے ہم کو اہل چمن بس انہیں سے پیار اس دل کو بار بار دکھانے کے بعد بھی

غزل · Ghazal

hiila hai havaala hai

حیلہ ہے حوالہ ہے یہ عشق نرالا ہے شکوہ بھی شکایت بھی سب پیار کی مالا ہے سوچو تو فقط سورج سمجھو تو اجالا ہے ہے یاد وہی ازبر جو بھولنے والا ہے بچھڑے ہوئے ساتھی ہیں اور پاؤں میں چھالا ہے حالات بھی پس مرده ہونٹوں پہ بھی تالا ہے آئینہ تن تنہا سچ بولنے والا ہے یاروں کی محبت نے اشہدؔ کو سنبھالا ہے

غزل · Ghazal

sochte hain ki bulbula ho jaaein

سوچتے ہیں کہ بلبلہ ہو جائیں چند لمحے جئیں فنا ہو جائیں دوستی اپنی دیر پا کر لیں آؤ کچھ دن کو ہم جدا ہو جائیں ساتھ تو ہے تو منزلیں اپنی ورنہ بھٹکیں تو لاپتہ ہو جائیں ہم کہ الفت میں جان تک دے دیں اور بچھڑیں تو سانحہ ہو جائیں رفتہ رفتہ تجھے تراشیں ہم دھیرے دھیرے تری قبا ہو جائیں یاد رکھنا بھی اک عبادت ہے کیوں نہ ہم ان کا حافظہ ہو جائیں

غزل · Ghazal

ham ne dekhaa hai itne khanDar khvaab mein

ہم نے دیکھا ہے اتنے کھنڈر خواب میں اب تو لگتا نہیں ہم کو ڈر خواب میں اپنی برسوں سے ہے اک وہی آرزو روز آ جائے ہے جو نظر خواب میں وقت آنے پہ سب کو غشی آ گئی جو بتاتے تھے خود کو نڈر خواب میں ظلم کی آندھیاں بڑھ کے طوفاں ہوئیں مست دنیا ہے پر رات بھر خواب میں عشق کی یہ مسافت بھی کیا خوب ہے چاند تارے ہوئے رہ گزر خواب میں ان سے ہوتا ہے ہر رات عہد وفا اور نبھاتے ہیں ہم بیشتر خواب میں روز و شب کھو گئے ہیں نہ جانے کہاں اب تو ہوتی ہے شام و سحر خواب میں جو بہت معتبر آ رہے ہیں نظر ان کے ہوتے ہیں کار دگر خواب میں زندگی کی حقیقت عجب ہو گئی آج کل ہو رہی ہے بسر خواب میں

غزل · Ghazal

tir-e-nazar ne aap ki ghaail kiyaa mujhe

تیر نظر نے آپ کی گھائل کیا مجھے پھر شوق انتظار نے پاگل کیا مجھے ایسی چلی ہوائے گلستاں مری طرف چھو کر بوئے گلاب نے صندل کیا مجھے بیٹوں نے میرے نام کی دستار پہن لی اور بیٹیوں نے صورت آنچل کیا مجھے بڑھنے لگی ہے دل کی تمنائے عاشقی یوں آ کے تیری یاد نے بے کل کیا مجھے ہوش و حواس کھونے لگا ہوں فراق میں تنہائیوں نے ایسا مقفل کیا مجھے پہلے تو آزمایا عطائے بہشت سے پھر بھیج کر جہان میں افضل کیا مجھے ہر شخص معترف کہ محب وطن ہوں میں پھر عدلیہ نے کیوں سر مقتل کیا مجھے ابن چمن ہے تیری وفاؤں پہ جاں نثار اپنا بنا کے تو نے مکمل کیا مجھے

غزل · Ghazal

aa jaao ab to zulf pareshaan kiye hue

آ جاؤ اب تو زلف پریشاں کئے ہوئے ہم راہ پر ہیں شمع فروزاں کئے ہوئے مایوس قلب ہے تری آمد کا منتظر دہلیز پر نگاہ کو چسپاں کئے ہوئے عہد وفا کو توڑ کے ہم بھی ہیں مضمحل تم بھی ادھر ہو چاک گریباں کئے ہوئے آؤ تو میرے صحن میں ہو جائے روشنی مدت گزر گئی ہے چراغاں کئے ہوئے بیٹھے ہیں تشنہ کام سر رہ گزر تمام ساقی تری شراب کا ارماں کئے ہوئے آ جاؤ کہ بہار ہے اپنے شباب پر ابن چمنؔ کے وصل کا ساماں کئے ہوئے

Similar Poets