ajnabi mujh se aa gale mil le
aaj ik dost yaad aae mujhe

Asif Raza
Asif Raza
Asif Raza
Popular Shayari
9 totaljatan to khuub kiye us ne Taalne ke magar
main us ki bazm se us ke javaab tak na uThaa
ye miri bazm nahin hai lekin
dil lagaa hai to lagaa rahne do
sirf main apni kahaani hi nahin
sun mujhe teri bhi rudaad huun main
taa-ki na nigaahon ko andhere nazar aaein
aaina ujaalon ne ye chamkaayaa huaa hai
ye dil mein vasvasa kyaa pal rahaa hai
tiraa milnaa bhi mujh ko khal rahaa hai
bhuul baiThaa huun main zamaane ko
ab zamaana bhi bhuul jaae mujhe
teraa meraa hai gumaan kaa rishta
tu hai meri tiri ijaad huun main
aansuon ko fuzul mat samjho
ye baDe qimti sahaare hain
Ghazalغزل
دل اور طرح آج تو گھبرایا ہوا ہے اے بے خبری چونک کوئی آیا ہوا ہے سلگے ہوئے بوسے یہ ہوا کے ہیں فنا کے دل خوف سے ہر پھول کا تھرایا ہوا ہے تاکہ نہ نگاہوں کو اندھیرے نظر آئیں آئینہ اجالوں نے یہ چمکایا ہوا ہے اے رات نہ فاخر ہو ستاروں کی چمک پر وہ چاند بھی تیرا ہے جو گہنایا ہوا ہے
dil aur tarah aaj to ghabraayaa huaa hai
دل گرفتہ ہوں جہاں شاد ہوں میں ایک مجموعۂ اضداد ہوں میں تیرا میرا ہے گماں کا رشتہ تو ہے میری تری ایجاد ہوں میں تجھ کو یہ غم کہ گرفتار ہے تو مجھ کو یہ رنج کے آزاد ہوں میں کوئی رستہ ہے نہ کوئی منزل گرد ہوں اور سر باد ہوں میں تن تنہا کا ہوں اپنے ناصر خود کو پہنچی ہوئی امداد ہوں میں صرف میں اپنی کہانی ہی نہیں سن مجھے تیری بھی روداد ہوں میں میری تعمیر کا مجھ پر ہے کھڑا بہت کھودی ہوئی بنیاد ہوں میں
dil-girafta huun jahaan-shaad huun main
سفینہ غرق ہوا میرا یوں خموشی سے کہ سطح آب پہ کوئی حباب تک نہ اٹھا سمجھ نہ عجز اسے تیرے پردہ دار تھے ہم ہمارا ہاتھ جو تیرے نقاب تک نہ اٹھا جھنجھوڑتے رہے گھبرا کے وہ مجھے لیکن میں اپنی نیند سے یوم حساب تک نہ اٹھا جتن تو خوب کیے اس نے ٹالنے کے مگر میں اس کی بزم سے اس کے جواب تک نہ اٹھا
safina gharq huaa meraa yuun khamoshi se
یہ مری بزم نہیں ہے لیکن دل لگا ہے تو لگا رہنے دو جانے والوں کی طرف مت دیکھو رنگ محفل کو جما رہنے دو ایک میلہ سا مرے دل کے قریب آرزوؤں کا لگا رہنے دو ان پہ پھایا نہ رکھو مرہم کا میرے زخموں کو ہرا رہنے دو دوستانہ ہے شکستہ جس سے اس کو سینے سے لگا رہنے دو ہوش میں ہے تو زمانہ سارا مجھ کو دیوانہ بنا رہنے دو جب چلو راہ حقیقت پہ کوئی خواب آنکھوں میں بسا رہنے دو دل کے پانی میں اتارو مہتاب اس پیالے کو بھرا رہنے دو
ye miri bazm nahin hai lekin
یہ دل میں وسوسہ کیا پل رہا ہے ترا ملنا بھی مجھ کو کھل رہا ہے جسے میں نے کیا تھا بے خودی میں جبیں پر اب وہ سجدہ جل رہا ہے مجھے مت دو مبارک باد ہستی کسی کا ہے یہ سایہ چل رہا ہے سر صحرا سدا دل کے شجر سے برستا دور اک بادل رہا ہے فساد لغزش تخلیق آدم ابھی تک ہاتھ یزداں مل رہا ہے دلوں کی آگ کیا کافی نہیں ہے جہنم بے ضرورت جل رہا ہے
ye dil mein vasvasa kyaa pal rahaa hai
ساحل انتظار میں تنہا یاد وہ لہر لہر آئے مجھے دشت دیوانگی کے ٹیلوں پر رقص کرتی ہوا بلائے مجھے اجنبی مجھ سے آ گلے مل لے آج اک دوست یاد آئے مجھے بھول بیٹھا ہوں میں زمانے کو اب زمانہ بھی بھول جائے مجھے اک گھروندا ہوں ریت کا پیہم کوئی ڈھائے مجھے بنائے مجھے ایک حرف غلط ہوں ہستی کا نیستی کیوں نہ پھر مٹائے مجھے دفعتاً میرے روبرو آ کر آئنے میں کوئی ڈرائے مجھے آندھیاں کیوں مری تلاش میں ہوں ایک جھونکا ہی جب بجھائے مجھے جیسے اک نقش نا درست کو طفل کوئی اندر سے یوں مٹائے مجھے راکھ اپنی امنگ کی ہوں رضاؔ آ کے جھونکا کوئی اڑائے مجھے
saahil-e-intizaar mein tanhaa





