usi ne sab se pahle haar maani
vahi sab se dilaavar lag rahaa thaa

Azhar Adeeb
Azhar Adeeb
Azhar Adeeb
Popular Shayari
34 totalnikal aayaa huun aage us jagah se
jahaan se lauT jaanaa chaahiye thaa
ham ne ghar ki salaamti ke liye
khud ko ghar se nikaal rakkhaa hai
tu apni marzi ke sabhi kirdaar aazmaa le
mire baghair ab tiri kahaani nahin chalegi
ham un ki aas pe umrein guzaar dete hain
vo moajize jo kabhi runumaa nahin hote
lahje aur aavaaz mein rakkhaa jaataa hai
ab to zahr alfaaz mein rakkhaa jaataa hai
zaraa si der tujhe aaina dikhaayaa hai
zaraa si baat par itne khafaa nahin hote
hamein roko nahin ham ne bahut se kaam karne hain
kisi gul mein mahaknaa hai kisi baadal mein rahnaa hai
hamaare naam ki takhti bhi un pe lag na saki
lahu mein gundh ke miTTi jo ghar banaae gae
ye shakhs jo tujhe aadhaa dikhaai detaa hai
is aadhe shakhs ko apnaa banaa ke dekh kabhi
samajh mein aa to sakti hai sabaa ki guftugu bhi
magar is ke liye maasum honaa laazmi hai
aaj nikle yaad ki zambil se
mor ke TuuTe hue do chaar par
Ghazalغزل
دریچوں میں چراغوں کی کمی محسوس ہوتی ہے یہاں تو پھر ہوا کی برہمی محسوس ہوتی ہے وہ اب بھی گفتگو کرتا ہے پہلے کی طرح لیکن ذرا سی برف لہجے میں جمی محسوس ہوتی ہے ترے وعدے کا سایہ ہو تو صحرا کے سفر میں بھی جھلستی لو ہوائے شبنمی محسوس ہوتی ہے تو کیا میں ضبط کے معیار پر پورا نہیں اترا تو کیا میری ان آنکھوں میں نمی محسوس ہوتی ہے نہ جانے تیری حالت کیا ہے اس کو دیکھ کر اظہرؔ مجھے تو دل کی دھڑکن بھی تھمی محسوس ہوتی ہے
darichon mein charaaghon ki kami mahsus hoti hai
گھنیری چھاؤں کے سپنے بہت دکھائے گئے سوال یہ ہے کہ کتنے شجر اگائے گئے ملی ہے اور ہی تعبیر آ کے منزل پر وہ اور خواب تھے رستے میں جو دکھائے گئے مرے لہو سے مجھے منہدم کرایا گیا دیار غیر سے لشکر کہاں بلائے گئے دیے بنا کے جلائی تھیں انگلیاں ہم نے اندھیری شب کی عدالت میں ہم بھی لائے گئے فلک پہ اڑتے ہوؤں کو قفس میں ڈالا گیا زمیں پہ رینگنے والوں کو پر لگائے گئے ہمارے نام کی تختی بھی ان پہ لگ نہ سکی لہو میں گوندھ کے مٹی جو گھر بنائے گئے ملے تھے پہلے سے لکھے ہوئے عدالت کو وہ فیصلے جو ہمیں بعد میں سنائے گئے تمام سعد ستارے بگڑ گئے اظہرؔ سلگتی ریت پہ جب زائچے بنائے گئے
ghaneri chhaanv ke sapne bahut dikhaae gae
دل پیاسا اور آنکھ سوالی رہ جاتی ہے اس کے بعد یہ بستی خالی رہ جاتی ہے بے خوابی کب چھپ سکتی ہے کاجل سے بھی جاگنے والی آنکھ میں لالی رہ جاتی ہے تیر ترازو ہو جاتا ہے آ کر دل میں ہاتھوں میں زیتون کی ڈالی رہ جاتی ہے دھوپ سے رنگ اور ہوا سے کاغذ اڑ جاتے ہیں ذہن میں اک تصویر خیالی رہ جاتی ہے کبھی کبھی تو اظہرؔ بالکل مر جاتا ہوں بس اک مٹی اوڑھنے والی رہ جاتی ہے
dil pyaasaa aur aankh savaali rah jaati hai
لہجے اور آواز میں رکھا جاتا ہے اب تو زہر الفاظ میں رکھا جاتا ہے مشکل ہے اک بات ہمارے مسلک کی اپنے آپ کو راز میں رکھا جاتا ہے اک شعلہ رکھنا ہوتا ہے سینے میں اک شعلہ آواز میں رکھا جاتا ہے ہم لوگوں کو خواب دکھا کر منزل کا رستے کے آغاز میں رکھا جاتا ہے یہاں تو اڑتے اڑتے تھک کر گرنے تک چڑیا کو پرواز میں رکھا جاتا ہے آخر شب جو خواب دکھائی دیتے ہوں اظہرؔ ان کو راز میں رکھا جاتا ہے
lahje aur aavaaz mein rakkhaa jaataa hai
قضا کا تیر تھا کوئی کمان سے نکل گیا وہ ایک حرف جو مری زبان سے نکل گیا بہت زیادہ جھکنا پڑ رہا تھا اس کے سائے میں سو ایک دن میں اس کے سائبان سے نکل گیا ابھی تو تیرے اور ترے عدو کے درمیان ہوں اگر کبھی میں تھک کے درمیان سے نکل گیا مرے عدو کے خواب چکنا چور ہو کے رہ گئے میں جست بھر کے دشت امتحان سے نکل گیا ترے کمال فن کا صرف میں ہی قدردان ہوں اگر میں تیری اس بھری دکان سے نکل گیا
qazaa kaa tiir thaa koi kamaan se nikal gayaa
روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم رات سے اتنی سہولت بھی نہیں مانگتے ہم دشمن شہر کو آگے نہیں بڑھنے دیتے اور کوئی تمغۂ جرأت بھی نہیں مانگتے ہم سنگ کو شیشہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں اور اس کام کی اجرت بھی نہیں مانگتے ہم کسی دیوار کے سائے میں ٹھہر لینے دے دھوپ سے اتنی رعایت بھی نہیں مانگتے ہم ساری دستاروں پہ دھبے ہیں لہو کے اظہرؔ ایسے کوفے میں تو عزت بھی نہیں مانگتے ہم
raushni hasb-e-zarurat bhi nahin maangte ham





