phailte hue shahro apni vahshatein roko
mere ghar ke aangan par aasmaan rahne do

Azra Naqvi
Azra Naqvi
Azra Naqvi
Popular Shayari
6 totalab ki baar jo ghar jaanaa to saare album le aanaa
vaqt ki dimak lag jaati hai yaadon ki almaari mein
aane vaale kal ki khaatir har har pal qurbaan kiyaa
haal ko dafnaa dete hain ham jiine ki tayyaari mein
bachpan kitnaa pyaaraa thaa jab dil ko yaqin aa jaataa thaa
marte hain to ban jaate hain aasmaan ke taare log
haqiqatein to mire roz o shab ki saathi hain
main roz o shab ki haqiqat badalnaa chaahti huun
uljhe uljhe resham ki Dor se bandhe rishte
har ghaDi mohabbat kaa imtihaan rahne do
Ghazalغزل
داستان زندگی لکھتے مگر رہنے دیا اس کے ہر کردار کو بس معتبر رہنے دیا کوئی منزل کوئی مفروضہ نہ تھا پیش نظر زیر پا اک رہگزر تھی رہ گزر رہنے دیا دل کے ہر موسم نے بخشی دولت احساس و درد صرف اس سرمائے کو زاد سفر رہنے دیا ساتھ اک خوش باش لہجہ محفلوں میں لے کے آئے دل کی ویرانی کو تنہا اپنے گھر رہنے دیا شور کرتی بھاگتی دنیا میں شامل بھی رہے ایک سر مدھم سا دل کے ساز پر رہنے دیا وقت کے بہتے ہوئے دریا پہ کشتی ڈال کر سارے اندیشوں سے خود کو بے خبر رہنے دیا خود غرض تھوڑا سا ہونا بھی ضروری تھا مگر تجربوں سے سیکھ کر بھی یہ ہنر رہنے دیا ساری دنیا کے لئے ہر شب دعائے خیر کی ذکر اپنی خواہشوں کا مختصر رہنے دیا کیوں کوئی دیکھے ہمارے دل کی ساری مملکت اک جھلک دکھلائی ہے اور بیشتر رہنے دیا کون دامن گیر ہے اکثر یہ کرتا ہے سوال کر تو سکتیں تھیں بہت کچھ تم مگر رہنے دیا
daastaan-e-zindagi likhte magar rahne diyaa
اپنے احساس شرر بار سے ڈر لگتا ہے اپنی ہی جرأت اظہار سے ڈر لگتا ہے اتنی راہوں کی صعوبت سے گزر جانے کے بعد اب کسے وادیٔ پر خار سے ڈر لگتا ہے کتنے ہی کام ادھورے ہیں ابھی دنیا میں عمر کی تیزئ رفتار سے ڈر لگتا ہے ساری دنیا میں تباہی کے سوا کیا ہوگا اب تو ہر صبح کے اخبار سے ڈر لگتا ہے خود کو منواؤں زمانے سے تو ٹکڑے ہو جاؤں کچھ روایات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے شوق شوریدہ کے ہاتھوں ہوئے بدنام بہت اب تو ہر جذبۂ بیدار سے ڈر لگتا ہے جانتی ہوں کہ چھپے رہتے ہیں فتنے اس میں آپ کی نرمیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے
apne ehsaas-e-sharar-baar se Dar lagtaa hai
ائیرپورٹ اسٹیشن سڑکوں پر ہیں کتنے سارے لوگ جانے کون سے سکھ کی خاطر پھرتے مارے مارے لوگ شام گئے یہ منظر ہم نے ملکوں ملکوں دیکھا ہے گھر لوٹیں بوجھل قدموں سے بجھے ہوئے انگارے لوگ سب سے شاکی خود سے نالاں اپنی آگ میں جلتے ہیں دکھ کے سوا اور کیا بانٹیں گے ان جیسے اندھیارے لوگ پر نم آنکھوں بوجھل دل سے کتنی بار وداعی لی کتنا بوجھ لئے پھرتے ہیں ہم جیسے بنجارے لوگ وہ کتنے خوش قسمت تھے جو اپنے گھروں کو لوٹ گئے شہروں شہروں گھوم رہے ہیں ہم حالات کے مارے لوگ رات گئے یادوں کے جنگل میں دیوالی ہوتی ہے دیپ سجائے آ جاتے ہیں بھولے بسرے پیارے لوگ بچپن کتنا پیارا تھا جب دل کو یقیں آ جاتا تھا مرتے ہیں تو بن جاتے ہیں آسمان کے تارے لوگ
airport station saDkon par hain kitne saare log
اک مدت کے بعد ملی احساس جگاتی تنہائی خاموشی سے دھیرے دھیرے گھر مہکاتی تنہائی آوازوں کی بھیڑ میں جب بھی مجھ کو پریشاں دیکھا ہے ہاتھ پکڑ کر لے آئی ہے کچھ سمجھاتی تنہائی آنکھوں سے جب نیند بھٹک کر صحرا صحرا گھومتی ہے میرے سرہانے رات گئے تک لوری گاتی تنہائی بچپن میں جب گرم دوپہری ننگے پاؤں پھرتی تھی آم کے باغوں میں ملتی تھی رس برساتی تنہائی پیار کی خواب رتوں میں کیسی جاگی سوئی رہتی تھی چاند ہنڈولے میں جھولی تھی جب مدھ ماتی تنہائی پہروں ہم نے باتیں کی ہیں پہروں خواب سجائے ہیں میں روئی تو مجھ سے چھپ کر اشک بہاتی تنہائی بہت دنوں کے بعد سنور کر اپنا چہرہ دیکھا تھا آئینے سے جھانک رہی تھی آنکھ چراتی تنہائی
ik muddat ke baa'd mili ehsaas jagaati tanhaai
کبھی اک نیا آسمان ڈھونڈھتی ہوں کبھی کوئی جائے اماں ڈھونڈھتی ہوں وہ اک خواب جو میں نے دیکھا نہیں تھا اب اس خواب کی دھجیاں ڈھونڈھتی ہوں مجھے میری ہستی سے آزاد کر دے وہ اک لمحۂ جاوداں ڈھونڈھتی ہوں اداکار چہروں کی گہرائیوں میں کہیں سچ کی پرچھائیاں ڈھونڈھتی ہوں جو پتھر سے الفاظ میں جان ڈالے وہ انداز سحر البیاں ڈھونڈھتی ہوں نہیں کوئی دیوار گریہ میسر کوئی مہرباں رازداں ڈھونڈھتی ہوں
kabhi ik nayaa aasmaan DhunDhti huun
دل کو ہر سرمئی رت میں یہی سمجھاتے ہیں ایسے موسم کئی آتے ہیں گزر جاتے ہیں حد سے بڑھ جاتی ہے جب تلخیٔ امروز تو پھر ہم کسی اور زمانے میں نکل جاتے ہیں رات بھر نیند میں چلتے ہیں بھٹکتے ہیں خیال صبح ہوتی ہے تو تھک ہار کے گھر آتے ہیں کیسے گھبرائے سے پھرتے ہیں مرے خال غزال زندگانی کی کڑی دھوپ میں سنولاتے ہیں پھول سے لوگ جو خوشبو کے سفر پر نکلے دیکھتے دیکھتے کس طرح سے مرجھاتے ہیں چھوڑیئے جو بھی ہوا ٹھیک ہوا بیت گیا آئیے راکھ سے کچھ خواب اٹھا لاتے ہیں
dil ko har surmai rut mein yahi samjhaate hain





