ai pari-zaad tere jaane par
ho gayaa khud se raabta meraa

Babar Rehman Shah
Babar Rehman Shah
Babar Rehman Shah
Popular Shayari
7 totalthakan se chuur hai saaraa vajud ab meraa
main bojh itne ghamon kaa to Dho nahin saktaa
aatish-e-ishq jab jalaati hai
jal ke main nosh-e-jaam kartaa huun
dil ne ham se ajab hi kaam liyaa
ham ko bechaa magar na daam liyaa
muflisi ne jaa-ba-jaa luuTaa hamein
ab bachaa kuchh bhi nahin luTvaaein kyaa
dil se aakhir charaagh-e-vasl bujhaa
kyaa tamannaa ne intiqaam liyaa
kisi ke jaal mein aa kar main apnaa dil ganvaa baiThaa
mujhe thaa ishq qaatil se main apnaa sar kaTaa baiThaa
Ghazalغزل
نہیں نہیں یہ مرا عکس ہو نہیں سکتا کسی کے سامنے میں یوں تو رو نہیں سکتا تھکن سے چور ہے سارا وجود اب میرا میں بوجھ اتنے غموں کا تو ڈھو نہیں سکتا تجھے غزل تو سناتا ہوں آج بابرؔ کی مگر میں اشکوں سے دامن بھگو نہیں سکتا
nahin nahin ye miraa aks ho nahin saktaa
مان لو صاحبو کہا میرا کیوں کہ عبرت ہے نقش پا میرا ہے تمنا میں غارت و رسوا شعر میرا، کتابچہ میرا اے پری زاد تیرے جانے پر ہو گیا خود سے رابطہ میرا جنگلوں سے مجھے یہ نسبت ہے ان میں رہتا تھا آشنا میرا عام سا آدمی ہوں میں صاحب شعر ہوتا ہے عام سا میرا
maan lo saahibo kahaa meraa
دل نے ہم سے عجب ہی کام لیا ہم کو بیچا مگر نہ دام لیا دل سے آخر چراغ وصل بجھا کیا تمنا نے انتقام لیا پھر کبھی وہ نہ آئی ہم کو نظر جس پری رو کا ہم نے نام لیا تیری خاطر ہنوز ہم نے یہاں لاکھ الزام اپنے نام لیا تا دم مرگ عشق جیتا رہا گور میں بھی مرا سلام لیا
dil ne ham se ajab hi kaam liyaa
داستان غم تجھے بتلائیں کیا زخم سینے کے تجھے دکھلائیں کیا سوچتے ہیں بھول جائیں سرزنش مدتوں کی بات اب جتلائیں کیا لوگ اس کی بات تو سنتے نہیں خضر کو جنگل سے ہم بلوائیں کیا روز تم وعدہ نیا لے لیتے ہو پاس ان وعدوں کا ہم رکھ پائیں کیا مفلسی نے جا بجا لوٹا ہمیں اب بچا کچھ بھی نہیں لٹوائیں کیا
daastaan-e-gham tujhe batlaaein kyaa
تم کو میں جب سلام کرتا ہوں تب فغاں گام گام کرتا ہوں غنچہ و گل کی خستہ حالی کا ذکر میں صبح و شام کرتا ہوں بے ستوں کاٹ کر کھڑا ہوں میں کوہ کن جیسے کام کرتا ہوں آتش عشق جب جلاتی ہے جل کے میں نوش جام کرتا ہوں شعر ہوتا نہیں ہے جب بابرؔ اس کا کچھ اہتمام کرتا ہوں
tum ko main jab salaam kartaa huun
کسی کے جال میں آ کر میں اپنا دل گنوا بیٹھا مجھے تھا عشق قاتل سے میں اپنا سر کٹا بیٹھا غضب کا سنگ دل آغاز سے ہی بے مروت تھا کہ جس سے دور رہنا تھا میں اس کے پاس جا بیٹھا مرا معبود تو عشق بتاں سے لاکھ افضل تھا مجھے کس سے لگانا تھا میں دل کس سے لگا بیٹھا
kisi ke jaal mein aa kar main apnaa dil ganvaa baiThaa





