"'basir' tumhen yahan ka abhi tajraba nahin bimar ho? paDe raho, mar bhi ga.e to kya"

Basir Sultan Kazmi
Basir Sultan Kazmi
Basir Sultan Kazmi
Sherشعر
See all 15 →'basir' tumhen yahan ka abhi tajraba nahin
باصرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں بیمار ہو؟ پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا
ruk gaya haath tira kyuun 'basir'
رک گیا ہاتھ ترا کیوں باصرؔ کوئی کانٹا تو نہ تھا پھولوں میں
tere diye hue dukh
تیرے دیے ہوئے دکھ تیرے نام کریں گے
tu jab samne hota hai
تو جب سامنے ہوتا ہے اور کہیں ہوتا ہوں میں
khatm huiin saari baten
ختم ہوئیں ساری باتیں اچھا اب چلتا ہوں میں
maujib-e-rang-e-chaman khun-e-shahidan nikla
موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا موت کی جیب سے بھی زیست کا ساماں نکلا
Popular Sher & Shayari
30 total"ruk gaya haath tira kyuun 'basir' koi kanTa to na tha phulon men"
"tere diye hue dukh tere naam karenge"
"tu jab samne hota hai aur kahin hota huun main"
"khatm huiin saari baten achchha ab chalta huun main"
"maujib-e-rang-e-chaman khun-e-shahidan nikla maut ki jeb se bhi ziist ka saman nikla"
kaise yaad rahi tujh ko
meri ik chhoTi si bhuul
jab bhi mile ham un se unhon ne yahi kahaa
bas aaj aane vaale the ham aap ki taraf
dil lagaa lete hain ahl-e-dil vatan koi bhi ho
phuul ko khilne se matlab hai chaman koi bhi ho
kuchh to hassaas ham ziyaada hain
kuchh vo barham ziyaada hotaa hai
'baasir' tumhein yahaan kaa abhi tajraba nahin
bimaar ho? paDe raho, mar bhi gae to kyaa
gilaa bhi tujh se bahut hai magar mohabbat bhi
vo baat apni jagah hai ye baat apni jagah
Ghazalغزل
har-chand mere haal se vo be-khabar nahin
ہر چند میرے حال سے وہ بے خبر نہیں لیکن وہ بے کلی جو ادھر ہے ادھر نہیں آواز رفتگاں مجھے لاتی ہے اس طرف یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں چمکی تھی ایک برق سی پھولوں کے آس پاس پھر کیا ہوا چمن میں مجھے کچھ خبر نہیں کچھ اور ہو نہ ہو چلو اپنا ہی دل جلے اتنا بھی اپنی آہ میں لیکن اثر نہیں آتی نہیں ہے ان سے شناسائی کی مہک یہ میرے اپنے شہر کے دیوار و در نہیں باصرؔ جگا دیا ہے تمہیں کس نے آدھی رات اس دشت میں تو نام و نشان سحر نہیں
kitnaa kaam kareinge
کتنا کام کریں گے اب آرام کریں گے تیرے دیے ہوئے دکھ تیرے نام کریں گے اہل درد ہی آخر خوشیاں عام کریں گے نوکری چھوڑ کے باصرؔ اپنا کام کریں گے
baadal hai aur phuul khile hain sabhi taraf
بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف کہتا ہے دل کہ آج نکل جا کسی طرف تیور بہت خراب تھے سنتے ہیں کل ترے اچھا ہوا کہ ہم نے نہ دیکھا تری طرف جب بھی ملے ہم ان سے انہوں نے یہی کہا بس آج آنے والے تھے ہم آپ کی طرف اے دل یہ دھڑکنیں تری معمول کی نہیں لگتا ہے آ رہا ہے وہ فتنہ اسی طرف خوش تھا کہ چار نیکیاں ہیں جمع اس کے پاس نکلے گناہ بیسیوں الٹا مری طرف باصرؔ عدو سے ہم تو یونہی بد گماں رہے تھا ان کا التفات کسی اور ہی طرف
rahtaa hai itnaa paaon ke til kaa asar savaar
رہتا ہے اتنا پاؤں کے تل کا اثر سوار سر پر ہے گھر پہنچتے ہی اگلا سفر سوار میں چیختا رہا کہ نہیں خط یہ میرے نام لیکن ہوا کے گھوڑے پہ تھا نامہ بر سوار ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار کس چیز کی نہ جانے ضرورت کہاں پڑے کر لوں نہ اپنے ساتھ سواری میں گھر سوار راکب کو ایک بار گرا دے جو رخش عمر ممکن نہیں وہ اس پہ ہو بار دگر سوار یہ عشق کا نشہ تو اترتا نہیں کبھی باصرؔ یوں ہی رہے گا یہ اعصاب پر سوار
qaraar paate hain aakhir ham apni apni jagah
قرار پاتے ہیں آخر ہم اپنی اپنی جگہ زیادہ رہ نہیں سکتا کوئی کسی کی جگہ بنانی پڑتی ہے ہر شخص کو جگہ اپنی ملے اگرچہ بظاہر بنی بنائی جگہ ہیں اپنی اپنی جگہ مطمئن جہاں سب لوگ تصورات میں میرے ہے ایک ایسی جگہ گلا بھی تجھ سے بہت ہے مگر محبت بھی وہ بات اپنی جگہ ہے یہ بات اپنی جگہ کیے ہوئے ہے فراموش تو جسے باصرؔ وہی ہے اصل میں تیرا مقام تیری جگہ
kitni hi be-zarar sahi teri kharaabiyaan
کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں باصرؔ خرابیاں تو ہیں پھر بھی خرابیاں حالت جگہ بدلنے سے بدلی نہیں مری ہوتی ہیں ہر جگہ کی کچھ اپنی خرابیاں تو چاہتا ہے اپنی نئی خوبیوں کی داد مجھ کو عزیز تیری پرانی خرابیاں جوں ہی تعلقات کسی سے ہوئے خراب سارے جہاں کی اس میں ملیں گی خرابیاں سرکار کا ہے اپنا ہی معیار انتخاب یارو کہاں کی خوبیاں کیسی خرابیاں آدم خطا کا پتلا ہے گر مان لیں یہ بات نکلیں گی اس خرابی سے کتنی خرابیاں ان ہستیوں کی راہ پہ دیکھیں گے چل کے ہم جن میں نہ تھیں کسی بھی طرح کی خرابیاں بوئیں گے اپنے باغ میں سب خوبیوں کے بیج جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے ساری خرابیاں باصرؔ کی شخصیت بھی عجب ہے کہ اس میں ہیں کچھ خوبیاں خراب کچھ اچھی خرابیاں





