SHAWORDS
Bekhud Mohani

Bekhud Mohani

Bekhud Mohani

Bekhud Mohani

poet
7Sher
7Shayari
45Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 45
غزل · Ghazal

vahi aashiq hai qaatil kaa na jo shaaki vahaan hogaa

وہی عاشق ہے قاتل کا نہ جو شاکی وہاں ہوگا جسے دار جزا سمجھے ہیں دار امتحاں ہوگا جدا سب عالموں سے ایک دن تیرا جہاں ہوگا محبت کی زمیں ہوگی وفا کا آسماں ہوگا نہ میں دیر و حرم سمجھوں نہ میں عرش و ارم جانوں جہاں سجدے کو دل جھک جائے تیرا آستاں ہوگا امیدیں دل کی وابستہ ہیں میدان قیامت سے نہ اس جا یہ زمیں ہوگی نہ واں یہ آسماں ہوگا چھڑایا جس نے دامن کاش اس کو یہ خبر ہوتی کہ عنوان قیامت درد دل کی داستاں ہوگا وہ جنت ہے جو زاہد کے سفر کی آخری منزل اسی میں پہلی منزل پر ہمارا کارواں ہوگا اسیری میں گری ہیں آہ لاکھوں بجلیاں دل پر جہاں بجلی گری سمجھے ہمارا آشیاں ہوگا فراق جاودانی انتقام وصل جاناں ہے مگر صدقے ترے جانے بھی دے اے آسماں ہوگا فسانہ دہر و گلزار و بہار و گل کا رہنے دے اگر کچھ ہے بھی اے بیخودؔ سوائے آشیاں ہوگا

غزل · Ghazal

peshaani-e-mohabbat jhuk jaae jis zamin par

پیشانیٔ محبت جھک جائے جس زمیں پر کعبہ کا ذکر کیا ہے بس ہو خدا وہیں پر تھا وحشئ ادا کا نقش قدم یہیں پر پیشانیٔ ملک پھر جھکتی نہ کیوں زمیں پر اک عمر مرتے جیتے گزری ہے تیرے چلتے جب مٹ چلا تبسم بل آ چکا جبیں پر افلاک پر زمیں ہی بھاری رہی ہمیشہ بالائے عرش ساجد مسجود تھا زمیں پر ہوں لاکھ حشر تو بھی کم ہو نہ اس کی لذت دونوں جہان صدقے ظالم تری نہیں پر رہتا ہے یوں برابر بیم و رجا کا پلہ پیاری ہنسی لبوں پر قاتل شکن جبیں پر محشر سے کیوں میں پوچھوں دل سے نہ پوچھ دیکھوں سجدہ کا یہ نشاں ہے یا داغ ہے جبیں پر ہوں لاکھ حشر تو بھی گھٹتی نہیں کہیں پر لذت تری نہیں کی صدقے تری نہیں پر اس گل کے آگے دل نے جنت کو داغ پایا اف زخم کی بہاریں دیوانے کی جبیں پر گزری ہے عمر بیخودؔ روتے لہو کے آنسو فرد عمل کا دھوکا ہو کیوں نہ آستیں پر

غزل · Ghazal

jab naaz-e-ishq husn ke qaabil nahin rahaa

جب ناز عشق حسن کے قابل نہیں رہا پھر وہ کچھ اور ہی ہے مرا دل نہیں رہا کہتی ہے دل کے حال پہ گھبرا کے بے خودی یہ آپ میں بھی آنے کے قابل نہیں رہا اک جلوہ پیش پیش ہے اور بڑھ رہے ہیں ہم اب کچھ خیال دوریٔ منزل نہیں رہا دنیا یہی ہے شک ہے تو اس کو مٹا کے دیکھ پھر کچھ نہیں جہان میں جب دل نہیں رہا پوری جزا ملے گی اسی دل کو حشر میں جس کو خیال شکوۂ قاتل نہیں رہا تمکیں غضب ہے ساقیٔ دور الست میں شاید خیال گرمیٔ محفل نہیں رہا دنیا سے پوچھ دیکھ کوئی ذرہ دہر کا تزئین کائنات سے غافل نہیں رہا زینت پہ کائنات کی جانے لگی نظر اب میں ترے خیال کے قابل نہیں رہا بس کر اجڑ چکی ہیں امنگوں کی بستیاں دنیا میں شاد آج کوئی دل نہیں رہا افسردگی کی جان ہے آزردگی کی روح جو ولولوں کی جان تھا وہ دل نہیں رہا ہے کل کی بات تھا یہی دنیائے حسن و عشق ویرانۂ ملال ہے اب دل نہیں رہا بیخودؔ کسی کے ناز دوئی سوز کی قسم کیسی نظر خیال بھی حائل نہیں رہا

غزل · Ghazal

aalam ko us ne naqsh-e-kaf-e-paa banaa diyaa

عالم کو اس نے نقش کف پا بنا دیا یعنی بنا دیا کبھی گاہے مٹا دیا ہوتی نہ تاب جلوۂ پنہاں کلیم کو کیوں تو نے پردۂ رخ زیبا اٹھا دیا پوچھا جو اس سے ہستئ عالم کے راز کو ظالم نے اپنا نقش کف پا دکھا دیا ہم ابتدائے سوز محبت میں جل بجھے وہ شمع ہیں کہ شام سے مجھ کو بجھا دیا گویا کہ ہم بھی نقش تمنائے غیر تھے بننے نہ پائے تھے کہ کسی نے مٹا دیا

غزل · Ghazal

kyon ai khayaal-e-yaar tujhe kyaa khabar nahin

کیوں اے خیال یار تجھے کیا خبر نہیں میں کیوں بتاؤں درد کدھر ہے کدھر نہیں نشتر کا کام کیا ہے اب اچھا ہے درد دل صدقے ترے نہیں نہیں اے چارہ گر نہیں کہتی ہے اہل ذوق سے بیتابیٔ خیال جس میں یہ اضطراب کی خو ہو بشر نہیں دیوانگان عشق پہ کیا جانے کیا بنی وارفتگیٔ حسن کو اپنی خبر نہیں دنیائے درد دل ہے تو دنیائے شوق روح ہوں اور بھی جہاں مجھے کچھ بھی خبر نہیں صحرائے عشق و ہستئ موہوم و راز حسن ان منزلوں میں دل سا کوئی راہبر نہیں ہر ذرہ جس سے اک دل مضطر نہ بن سکے وہ کوئی اور چیز ہے تیری نظر نہیں اس بے دلی سے کہنے کا بیخودؔ مآل کیا الفاظ کچھ ہیں جمع معانی مگر نہیں

غزل · Ghazal

uf intihaa-e-shauq mein ab kyaa kare koi

اف انتہائے شوق میں اب کیا کرے کوئی کہتے ہیں پہلے اپنی تمنا کرے کوئی بیداد حسن یہ ہے تو پھر کیا کرے کوئی رسوائیوں کے بعد بھی پردہ کرے کوئی تم بھی کہو تو دل کو بتا دیں اب اس کا حال اب وقت وہ نہیں ہے کہ پردہ کرے کوئی کھل جائیں حسن و عشق کی نیرنگیوں کے راز دیکھوں جو پھر کسی کی تمنا کرے کوئی بد نامیاں نصیب میں ہیں سب کے ورنہ یاں کوئی نہ کچھ مٹائے نہ پیدا کرے کوئی کچھ ایسا حال ہے کسی بیمار عشق کا وہ خود بھی کہہ رہے ہیں کہ اب کیا کرے کوئی جھلکے گا اختیار میں محبوبیوں کا رنگ میری نظر سے گل کا تماشا کرے کوئی ذروں میں گونجتی ہے صدائے شکست دل ہے شرط گوش دل کو مگر وا کرے کوئی جب کچھ سمجھنے دیں نہ کسی کی تجلیاں پھر کیوں مرے خیال کو رسوا کرے کوئی ہے ذرہ ذرہ محشر آشوب شوق دیر اب وقت آگیا ہے کہ پردا کرے کوئی گم ہو چکی ہے قدرت ابداع آرزو بیخودؔ حریم ناز تو ہے کیا کرے کوئی

Similar Poets