"ham bhi hain 'bilqis' majruhin men ham pe bhi tiir o tabar chalte rahe"

Bilqis Zafirul Hasan
Bilqis Zafirul Hasan
Bilqis Zafirul Hasan
Sherشعر
See all 22 →ham bhi hain 'bilqis' majruhin men
ہم بھی ہیں بلقیسؔ مجروحین میں ہم پہ بھی تیر و تبر چلتے رہے
kitne saada hain ham ki baiThe hain
کتنے سادہ ہیں ہم کہ بیٹھے ہیں داغ دل آنسوؤں سے دھونے کو
anhoni kuchh zarur hui dil ke saath aaj
انہونی کچھ ضرور ہوئی دل کے ساتھ آج نادان تھا مگر یہ دوانا کبھی نہ تھا
har-dil-aziz vo bhi hai ham bhi hain khush-mizaj
ہر دل عزیز وہ بھی ہے ہم بھی ہیں خوش مزاج اب کیا بتائیں کیسے ہماری نہیں بنی
dar badar ki khaak thi taqdir men
در بدر کی خاک تھی تقدیر میں ہم لیے کاندھوں پہ گھر چلتے رہے
zara si der bhi rukta to kuchh pata chalta
ذرا سی دیر بھی رکتا تو کچھ پتا چلتا وہ رنگ تھا کہ تھی خوشبو سحاب سا کیا تھا
Popular Sher & Shayari
44 total"kitne saada hain ham ki baiThe hain dagh-e-dil ansuon se dhone ko"
"anhoni kuchh zarur hui dil ke saath aaj nadan tha magar ye divana kabhi na tha"
"har-dil-aziz vo bhi hai ham bhi hain khush-mizaj ab kya bata.en kaise hamari nahin bani"
"dar badar ki khaak thi taqdir men ham liye kandhon pe ghar chalte rahe"
"zara si der bhi rukta to kuchh pata chalta vo rang tha ki thi khushbu sahab sa kya tha"
har-dil-aziz vo bhi hai ham bhi hain khush-mizaaj
ab kyaa bataaein kaise hamaari nahin bani
khud pe ye zulm gavaaraa nahin hogaa ham se
ham to shoalon se na guzreinge na siitaa samjhein
jin mein kho kar ham khud ko bhi bhuul gae hain
kyaa ham ko bhi un aankhon ne DhunDaa hogaa
jaane kyaa kuchh hai aaj hone ko
ji miraa chaahtaa hai rone ko
kitne saada hain ham ki baiThe hain
daagh-e-dil aansuon se dhone ko
anhoni kuchh zarur hui dil ke saath aaj
naadaan thaa magar ye divaanaa kabhi na thaa
Ghazalغزل
jiinaa hai khuub auron ki khaatir jiyaa karo
جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو اک آدھ سانس خود بھی تو لیتے رہا کرو کیا حرج ہے جو دل کی بھی سن لو کبھی کبھی یوں اپنے آپ سے نہ ہمیشہ لڑا کرو یہ بار زیست جھیلتے رہنا ہے عمر بھر اپنی تھکن پہ ٹک کے کبھی سو لیا کرو ہے بسکہ خاک اڑانے کی آوارگی کو کھو رخت سفر میں گھر کو بھی باندھے پھرا کرو افعی بھی سو رہے ہیں چنبیلی کی چھاؤں میں نووارد چمن ہو سنبھل کر چلا کرو کتنا کہا تھا تم سے کہ مت کھیلو آگ سے اب جو سلگ پڑی ہے تو چپکے جلا کرو
divaar-o-dar mein simTaa ik lams kaanptaa hai
دیوار و در میں سمٹا اک لمس کانپتا ہے بھولے سے کوئی دستک دے کر چلا گیا ہے صبر و شکیب باقی تاب و تواں سلامت دل مثل عود جل جل خوشبو بکھیرتا ہے ہم خاک ہو چکے تھے اپنی ہی حدتوں میں مٹی ہے راکھ پھر سے پیکر نیا بنا ہے اک زخم زخم چہرہ ٹکڑوں میں ہاتھ آیا اور ہم سمجھ رہے تھے آئینہ جڑ گیا ہے صحرائے نیم شب میں بے آس ریتوں پر دن بھر کے کشت و خوں کا مارا تڑپ رہا ہے دہشت زدہ زمیں پر وحشت بھرے مکاں یہ اس شہر بے اماں کا آخر کوئی خدا ہے مل جائے آبلوں کو داد مسافرت اب اب درد بے نوائی کچھ حد سے بھی سوا ہے ہم پر تو کھل چکا بھی در بند ہر بلا کا کیا جانئے اجل کو اب انتظار کیا ہے گل چینیوں کا ہم سے بلقیسؔ حال پوچھو انگشت آرزو میں کانٹا اتر گیا ہے
aisaa hone nahin detaa thaa magar hone ko hai
ایسا ہونے نہیں دیتا تھا مگر ہونے کو ہے زندگی اب تو نہ جینے میں بسر ہونے کو ہے پر جو کاٹے گئے جا پھیلے ہواؤں میں تمام اپنی پرواز بہ انداز دگر ہونے کو ہے وحشت دل تجھے لے کر میں کہاں جاؤں بتا رہتے رہتے تو یہ ویرانہ بھی گھر ہونے کو ہے دل سے پھر کھیل رہی ہیں وہی ضدی یادیں ذرہ ذرہ مرا پھر زیر و زبر ہونے کو ہے شمع کی لو کی طرح جان ڈھلی جاتی ہے آج شاید اپنی شب غم کی بھی سحر ہونے کو ہے سرخ رو خون جگر سے ہی ہوا کرتے ہیں لوگ کیا ہے بلقیسؔ اگر جاں کا ضرر ہونے کو ہے
paabandiyon se apni nikalte vo paa na the
پابندیوں سے اپنی نکلتے وہ پا نہ تھے سب راستے کھلے تھے مگر ہم پہ وا نہ تھے یہ اور بات شوق سے ہم کو سنا گیا پھر بھی وہی سنایا سنا اک فسانہ تھے اک آگ سائبان تھا سر پر تنا ہوا پل پل زمیں سرکتی تھی اور ہم روانہ تھے دریا میں رہ کے کوئی نہ بھیگے تو کس طرح ہم بے نیاز تیری طرح اے خدا نہ تھے ہرگز گلہ نہیں ہے کہ تو مہرباں نہ تھا کب ہم بھی اپنے آپ سے بے حد خفا نہ تھے کیوں صبر آشنا نہ ہوا نامراد دل تیرے کرم کے ہاتھ تو یوں بے عطا نہ تھے وہ اور ہم سے پوچھے کہ بلقیسؔ کچھ تو کہہ کم بخت ہم کہ ہوش ہی اپنے بجا نہ تھے
badan pe zakhm sajaae lahu labaada kiyaa
بدن پہ زخم سجائے لہو لبادہ کیا ہر ایک سنگ سے یوں ہم نے استفادہ کیا ہے یوں کہ کچھ تو بغاوت سرشت ہم بھی ہیں ستم بھی اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ کیا ہمیں تو موت بھی دے کوئی کب گوارا تھا یہ اپنا قتل تو بالقصد بالارادہ کیا بس ایک جان بچی تھی چھڑک دی راہوں پر دل غریب نے اک اہتمام سادہ کیا جو جس جگہ کے تھا قابل اسے وہیں رکھا نہ زیادہ کم کیا ہم نے نہ کم زیادہ کیا بچا لیا ہے جو سر اپنا سخت نادم ہیں مگر یہ اپنا تحفظ تو بے ارادہ کیا نہ لوٹنے کا ہے رستہ نہ ٹھہرنے کی ہے جا کدھر کا آج جنوں نے مرے ارادہ کیا
be-taalluq saare rishte kaun kis kaa aashnaa
بے تعلق سارے رشتے کون کس کا آشنا ساتھ سائے کی طرح سب اور سب نا آشنا کرب جاری ہے بجائے خوں رگوں میں صاحبو کون ہے ہم سا جہاں میں غم سے اتنا آشنا ہاں ہماری نبھ تو سکتی تھی مگر کیسے نبھے اپنی خودداری میں ہم اور وہ وفا نا آشنا ایک اک کا منہ تکیں بیگانگی کے شہر میں اب کہیں کیا کس سے ہم اب کون اپنا آشنا نیو بیٹھی جا رہی ہے ساری دیواریں گئیں گھر کا باسی گھر کی حالت سے نہیں کیا آشنا جو نہ کرنا تھا کرایا اور نادم بھی نہیں اے دل ناداں کسی کا ہو نہ تجھ سا آشنا اجنبی اک دوسرے سے بات کیا کرتے نہیں اک ذرا سے ساتھ میں کیا آشنا نا آشنا خم بہ خم چھلکے تری صہبا نشہ قائم رہے لذت زہراب غم سے کب ہوا تھا آشنا پارۂ سیماب بھی بلقیسؔ ٹھہرا ہے کہیں وہ تلون کیش کس کا دوست کس کا آشنا





