SHAWORDS
Charagh Sharma

Charagh Sharma

Charagh Sharma

Charagh Sharma

poet
10Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

اڑتے ہیں گرتے ہیں پھر سے اڑتے ہیں اڑنے والے اڑتے اڑتے اڑتے ہیں کوئی اس بوڑھے پیپل سے کہہ آؤ پنجرے میں ہم خوب مزے سے اڑتے ہیں ہائے وہ چڑیا اڑ مینا اڑ کے جھگڑے اور پھر ثابت کرنا بکرے اڑتے ہیں پنجرے میں دانا پانی سب رکھا ہے اور پرندے بھوکے پیاسے اڑتے ہیں دیکھ رہے ہیں ہم بھی جوانی کے موسم بند ہوا میں کیسے دوپٹے اڑتے ہیں اس طوطے کا پنجرا کھولو پھر دیکھو کیسے اس طوطے کے طوطے اڑتے ہیں

uDte hain girte hain phir se uDte hain

1 views

غزل · Ghazal

محاذ جنگ سے پہلے کہیں پڑاؤ بناؤ ندی پہ باندھ بنانے سے پہلے ناؤ بناؤ یہ رات صرف اندھیری نہیں ہے سرد بھی ہے دیا بنا لیا شاباش اب الاؤ بناؤ بنانا جانتے ہو تم تو سب کے دل میں جگہ ہمارے دل میں بنا کر دکھاؤ آؤ بناؤ یہ سنگ مرمری ناخن یہ کتھئی پالش کہ کوئی دیکھے تو کہہ دے ہمارے گھاؤ بناؤ بناؤ تاج محل کے بجائے تاش محل تمام عمر محبت کرو گراؤ بناؤ تمہاری اچھی بنے گی ہمارے ساتھ کہ تم بہانے اچھے بنا لیتی ہو بناؤ بناؤ

mahaaz-e-jang se pahle kahin paDaav banaao

1 views

غزل · Ghazal

اب یہ گل گلنار کب ہے خار ہے بیکار ہے آپ نے جب کہہ دیا بیکار ہے بیکار ہے چھوڑ کر مطلع غزل دم دار ہے بیکار ہے جب سپہ سالار ہی بیمار ہے بیکار ہے اک سوال ایسا ہے میرے پاس جس کے سامنے یہ جو تیری شدت انکار ہے بیکار ہے تجھ کو بھی ہے چاند کا دیدار کرنے کی طلب اک دیے کو روشنی درکار ہے بیکار ہے میکدے کے مختلف آداب ہوتے ہیں چراغؔ جو یہاں پر صاحب کردار ہے بیکار ہے

ab ye gul gulnaar kab hai khaar hai be-kaar hai

غزل · Ghazal

اوروں کی پیاس اور ہے اور اس کی پیاس اور کہتا ہے ہر گلاس پہ بس اک گلاس اور خود کو کئی برس سے یہ سمجھا رہے ہیں ہم کاٹی ہے اتنی عمر تو دو چار ماس اور پہلے ہی کم حسین کہاں تھا تمہارا غم پہنا دیا ہے اس کو غزل کا لباس اور ٹکرا رہی ہے سانس مری اس کی سانس سے دل پھر بھی دے رہا ہے صدا اور پاس اور اللہ اس کا لہجۂ شیریں کہ کیا کہوں واللہ اس پہ اردو زباں کی مٹھاس اور باندھا ہے اب نقاب تو پھر کس کے باندھ لے اک گھونٹ پی کے یہ نہ ہو بڑھ جائے پیاس اور غالبؔ حیات ہوتے تو کرتے یہ اعتراف دور چراغؔ میں ہے غزل کا کلاس اور

auron ki pyaas aur hai aur us ki pyaas aur

غزل · Ghazal

ہمارا عشق بھی یارانے کی کگار پہ تھا جب اس نے پیار کہا تھا زور یار پہ تھا میں روزگار محبت میں کم پگار پہ تھا اور اتنی کم کہ غزل کا گزر ادھار پہ تھا ہوا تھا قتل کل اس کے کسی دوانے کا خدا کا شکر کہ الزام خاکسار پہ تھا

hamaaraa ishq bhi yaaraane ki kagaar pe thaa

غزل · Ghazal

وہ صرف قصے کہانیوں کے معاملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئے دل ہم حضور جاناں کہ جیسے کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا ہوں اک اس کے آگے چراغ رکھ دے اک اس کے پیچھے چراغ رکھ دے تجھے بہت شوق تھا محبت کی گرم لپٹوں سے کھیلنے کا لے جل گئی نہ ہتھیلی اب خوش کہا تھا میں نے چراغ رکھ دے چراغ لے کے بھی ڈھونڈنے سے چراغ جیسا نہیں ملے گا سو رکھنی ہے تو چراغ سے رکھ نہیں تو پیارے چراغ رکھ دے چراغ روشن ضرور کر تو پر اس سے پہلے خدا کی خاطر یہاں پہ پھیلا ہے جو اندھیرا سمیٹ زیر چراغ رکھ دے میں دل کی باتوں میں آ گیا اور اٹھا کے لے آیا اس کی پائل دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے

vo sirf qisse kahaaniyon ke muaamle the charaagh rakh de

Similar Poets