SHAWORDS
F

Faez Dehlvi

Faez Dehlvi

Faez Dehlvi

poet
21Shayari
26Ghazal

Popular Shayari

21 total

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

گفتم کہ مکھ ترا کیا گفتہ سرج سوں بہتر گفتم کہ کان کا در گفتہ کہ بہہ ز اختر گفتم دہان و رویت گفتہ کہ غنچہ و گل گفتم کپول کا خال گفتہ کہ قرص امبر گفتم کہ چشم جادو گفتہ کہ دونوں خنجر گفتم دھڑی لباں کی گفت از عقیق بہتر گفتم کپول تیرے گفتہ کہ برگ لالہ گفتم کہ بوسہ تجھ لب گفتہ کہ بہہ ز شکر گفتم کہ بھونہہ تیری گفتہ ہلال دونوں گفتم کہ زلف تیری گفتہ کہ سنبل تر گفتم گدا ہوں تیرا گفتہ سہی مناسب گفتم اسیر تجھ کوں گفتہ تمام کشور گفتم کہ قد تمہارا گفتہ کہ سرو طناز گفتم کہ دل ترا کیا گفتہ کہ سخت پتھر گفتم ادا و غمزہ گفتہ بلائے جانہا گفتم عتاب و قہرت گفتہ کہ ہول محشر گفتم کہ فائزؔ آیا گفتہ کہ خیر مقدم گفتم کجاست جا اش گفتہ کہ بر سر در

guftam ki mukh tiraa kyaa gufta suraj suun behtar

غزل · Ghazal

پیچ بھایا مجھ کو تجھ دستار کا بند ہے دل طرۂ زرتار کا جی پھنسا ہے جا کے اس زلفوں کے بیچ دل شہید اس نرگس بیمار کا پیچ میں ہوں تیرے ڈھیلے پیچ سوں محو ہوں اس چیرۂ زرتار کا تجھ کو ہے ہم سے جدائی آرزو میرے دل میں شوق ہے دیدار کا کیوں نہ باندھے دل کو فائزؔ زلف سوں شوق ہے کافر کے تیں زنار کا

pech bhaayaa mujh ko tujh dastaar kaa

غزل · Ghazal

تجھ بنا دل کو بے قراری ہے دم بدم مجھ کو آہ و زاری ہے ہاتھ تیرے جو دیکھی ہے تلوار آرزو دل کو جاں سپاری ہے مجھ کو اوروں سے کچھ نہیں ہے کام تجھ سے ہر دم امیدواری ہے ہم سے تجھ کو نہیں ملاپ کبھی یہ مگر جگ میں طور یاری ہے آہ کوں دل میں میں چھپاتا ہوں لازم عشق پردہ داری ہے گر رہا تیری راہ پر فائزؔ عشق کی شرط خاکساری ہے

tujh binaa dil ko be-qaraari hai

غزل · Ghazal

دھوپ سا یو کپول ناری ہے کرن سورج کی وو کناری ہے چھپ رقیباں سوں آنا نہیں وو چاند کیا رین ہجر کی اندیاری ہے نہیں اثر کرتا صبر کا مرہم دل عاشق میں زخم کاری ہے گل‌ باغ‌ جنوں ہے رسوائی عزت ملک عشق خواری ہے خون دل بادہ و جگر ہے کباب نغمۂ بزم وصل زاری ہے لیلیٰ مجنوں کا ذکر سرد ہوا اب تمہاری ہماری باری ہے ملنا عاشق سوں ہی بہانے سوں یہ نصیحت تمن ہماری ہے مجھ کوں مت جانو یاد سوں غافل رات دن دل کوں لو تماری ہے دل بندھا سخت تیری زلفاں پر عقل فائزؔ کی ان بساری ہے

dhuup saa yu kapul naari hai

غزل · Ghazal

مرے دل بیچ نقش نازنیں ہے مگر یہ دل نہیں یارو نگیں ہے کمر پر تیری اس کا دل ہوا محو ترا عاشق بہت باریک بیں ہے جو کہیے اس کے حق میں کم ہے بے شک پری ہے حور ہے روح الامیں ہے غلام اس کے ہیں سارے اب سریجن نگر میں حسن کے کرسی نشیں ہے نہیں اب جگ میں ویسا اور پیتم سبی خوش صورتاں سوں نازنیں ہے مجھے ہے موشگافی میں مہارت جو نت دل محو خط عنبریں ہے نظر کر لطف کی اے شاہ خوباں ترا فائزؔ غلام کم تریں ہے

mare dil biich naqsh-e-naaznin hai

غزل · Ghazal

منہ پھول سے رنگیں تھا و ساری تھی اس ہری کھترانی ایک دیکھی میں پنگھٹ پہ جوں پری چیری ہیں اس کی اربسی رمبھا و رادھکا پربھو نے پھر بنائی نہیں ویسی دوسری میں نے کہا کہ گھر چلے گی میرے ساتھ آج کہنے لگی کہ ہم سوں نہ کر بات تو بری

munh phuul se rangin thaa va saari thi us hari

Similar Poets