SHAWORDS
Faiz Ahmad Faiz

Faiz Ahmad Faiz

फ़ैज़ अहमद फ़ैज़

فیض احمد فیض

poet1911–1984
85Sher
85Shayari
86Ghazal
1.6KViews

Faiz Ahmad Faiz was a Pakistani poet associated with the Progressive Writers Movement.

Sherشعر

See all 85

Popular Sher & Shayari

170 total

Ghazalغزل

See all 86
غزل · Ghazal

subh ki aaj jo rangat hai vo pahle to na thi

صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی کیا خبر آج خراماں سر گلزار ہے کون شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی یہ جو نکلا ہے لیے مشعل رخسار ہے کون رات مہکی ہوئی آئی ہے کہیں سے پوچھو آج بکھرائے ہوئے زلف طرحدار ہے کون پھر در دل پہ کوئی دینے لگا ہے دستک جانیے پھر دل وحشی کا طلب گار ہے کون

غزل · Ghazal

kis shahr na shohra huaa naadaani-e-dil kaa

کس شہر نہ شہرہ ہوا نادانئ دل کا کس پر نہ کھلا راز پریشانئ دل کا آؤ کریں محفل پہ زر زخم نمایاں چرچا ہے بہت بے سر و سامانئ دل کا دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ شاید کوئی محرم ملے ویرانئ دل کا پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو سونپا تھا جسے کام نگہبانئ دل کا دیکھو تو کدھر آج رخ باد صبا ہے کس رہ سے پیام آیا ہے زندانئ دل کا اترے تھے کبھی فیضؔ وہ آئینۂ دل میں عالم ہے وہی آج بھی حیرانئ دل کا

غزل · Ghazal

hamin se apni navaa ham-kalaam hoti rahi

ہمیں سے اپنی نوا ہم کلام ہوتی رہی یہ تیغ اپنے لہو میں نیام ہوتی رہی مقابل صف اعدا جسے کیا آغاز وہ جنگ اپنے ہی دل میں تمام ہوتی رہی کوئی مسیحا نہ ایفائے عہد کو پہنچا بہت تلاش پس قتل عام ہوتی رہی یہ برہمن کا کرم وہ عطائے شیخ حرم کبھی حیات کبھی مے حرام ہوتی رہی جو کچھ بھی بن نہ پڑا فیضؔ لٹ کے یاروں سے تو رہزنوں سے دعا و سلام ہوتی رہی

غزل · Ghazal

phir lauTaa hai khurshid-e-jahaan-taab safar se

پھر لوٹا ہے خورشید جہاں تاب سفر سے پھر نور سحر دست و گریباں ہے سحر سے پھر آگ بھڑکنے لگی ہر ساز طرب میں پھر شعلے لپکنے لگے ہر دیدۂ تر سے پھر نکلا ہے دیوانہ کوئی پھونک کے گھر کو کچھ کہتی ہے ہر راہ ہر اک راہ گزر سے وہ رنگ ہے امسال گلستاں کی فضا کا اوجھل ہوئی دیوار قفس حد نظر سے ساغر تو کھنکتے ہیں شراب آئے نہ آئے بادل تو گرجتے ہیں گھٹا برسے نہ برسے پاپوش کی کیا فکر ہے دستار سنبھالا پایاب ہے جو موج گزر جائے گی سر سے

غزل · Ghazal

kai baar is kaa daaman bhar diyaa husn-e-do-aalam se

کئی بار اس کا دامن بھر دیا حسن دو عالم سے مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا مگر یہ چشم حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی نہیں جاتی متاع لعل و گوہر کی گراں یابی متاع غیرت و ایماں کی ارزانی نہیں جاتی مری چشم تن آساں کو بصیرت مل گئی جب سے بہت جانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی سر خسرو سے ناز کج کلاہی چھن بھی جاتا ہے کلاہ خسروی سے بوئے سلطانی نہیں جاتی بجز دیوانگی واں اور چارہ ہی کہو کیا ہے جہاں عقل و خرد کی ایک بھی مانی نہیں جاتی

غزل · Ghazal

jamegi kaise bisaat-e-yaaraan ki shisha o jaam bujh gae hain

جمے گی کیسے بساط یاراں کہ شیشہ و جام بجھ گئے ہیں سجے گی کیسے شب نگاراں کہ دل سر شام بجھ گئے ہیں وہ تیرگی ہے رہ بتاں میں چراغ رخ ہے نہ شمع وعدہ کرن کوئی آرزو کی لاؤ کہ سب در و بام بجھ گئے ہیں بہت سنبھالا وفا کا پیماں مگر وہ برسی ہے اب کے برکھا ہر ایک اقرار مٹ گیا ہے تمام پیغام بجھ گئے ہیں قریب آ اے مہ شب غم نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں بہار اب آ کے کیا کرے گی کہ جن سے تھا جشن رنگ و نغمہ وہ گل سر شاخ جل گئے ہیں وہ دل تہ دام بجھ گئے ہیں

Similar Poets