SHAWORDS
Fana Nizami Kanpuri

Fana Nizami Kanpuri

Fana Nizami Kanpuri

Fana Nizami Kanpuri

poet
37Sher
37Shayari
24Ghazal

Sherشعر

See all 37

Popular Sher & Shayari

74 total

Ghazalغزل

See all 24
غزل · Ghazal

tu phuul ki maanind na shabnam ki tarah aa

تو پھول کی مانند نہ شبنم کی طرح آ اب کے کسی بے نام سے موسم کی طرح آ ہر مرتبہ آتا ہے مہ نو کی طرح تو اس بار ذرا میری شب غم کی طرح آ حل کرنے ہیں مجھ کو کئی پیچیدہ مسائل اے جان وفا گیسوئے پر خم کی طرح آ زخموں کو گوارا نہیں یک رنگئ حالات نشتر کی طرح آ کبھی مرہم کی طرح آ نزدیکی و دوری کی کشاکش کو مٹا دے اس جنگ میں تو صلح کے پرچم کی طرح آ مانا کہ مرا گھر تری جنت تو نہیں ہے دنیا میں مری لغزش آدم کی طرح آ تو کچھ تو مرے ضبط محبت کا صلہ دے ہنگام فنا دیدۂ پر نم کی طرح آ

غزل · Ghazal

ai husn zamaane ke tevar bhi to samjhaa kar

اے حسن زمانے کے تیور بھی تو سمجھا کر اب ظلم سے باز آ جا اب جور سے توبہ کر ٹوٹے ہوئے پیمانے بے کار سہی لیکن مے خانے سے اے ساقی باہر تو نہ پھینکا کر جلوہ ہو تو جلوہ ہو پردہ ہو تو پردہ ہو توہین تجلی ہے چلمن سے نہ جھانکا کر ارباب جنوں میں ہیں کچھ اہل خرد شامل ہر ایک مسافر سے منزل کو نہ پوچھا کر

غزل · Ghazal

mujhe rutba-e-gham bataanaa paDegaa

مجھے رتبۂ غم بتانا پڑے گا اگر میرے پیچھے زمانہ پڑے گا بہت غم زدہ دل ہیں کلیوں کے لیکن اصولاً انہیں مسکرانا پڑے گا سکوں ڈھونڈنے آئے تھے مے کدہ میں یہاں سے کہیں اور جانا پڑے گا خبر کیا تھی جشن بہاراں کی خاطر ہمیں آشیانہ جلانا پڑے گا بہار اب نئے گل کھلانے لگی ہے خزاں کو چمن میں بلانا پڑے گا سکوت مسلسل مناسب نہیں ہے اسیرو تمہیں غل مچانا پڑے گا فناؔ تم ہو شاعر تو افسانۂ غم غزل کی زبانی سنانا پڑے گا

غزل · Ghazal

husn kaa ek aah ne chehraa niDhaal kar diyaa

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا آج تو اے دل حزیں تو نے کمال کر دیا سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوست میرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا مے کدہ میں ہے قحط مے یا کوئی اور بات ہے پیر مغاں نے کیوں مجھے جام سنبھال کر دیا جتنے چمن پرست تھے سایۂ گل میں مست تھے اپنا عروج گلستاں نذر زوال کر دیا خود مرا سوز جاں گداز چھیڑ سکا نہ دل کا ساز آپ کی اک نگاہ نے صاحب حال کر دیا بزم میں سارے اہل ہوش ان کے ستم پہ تھے خموش ایک جنوں پرست نے اٹھ کے سوال کر دیا لطف فراق یار نے لذت انتظار نے دور دل و نگاہ سے شوق وصال کر دیا سن کے بیان میکدہ دیکھ کے شان میکدہ شیخ حرم نے بھی فناؔ مے کو حلال کر دیا

غزل · Ghazal

jab mere raaste mein koi mai-kada paDaa

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا اک بار اپنے غم کی طرف دیکھنا پڑا ترک تعلقات کو اک لمحہ چاہئے لیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا اک تشنہ لب نے چھین لیا بڑھ کے جام مے ساقی سمجھ رہا تھا سبھی کو گرا پڑا آئے تھے پوچھتے ہوئے میخانے کا پتہ ساقی سے لیکن اپنا پتہ پوچھنا پڑا یوں جگمگا رہا ہے مرا نقش پا فناؔ جیسے ہو راستے میں کوئی آئنہ پڑا

غزل · Ghazal

ghar huaa gulshan huaa sahraa huaa

گھر ہوا گلشن ہوا صحرا ہوا ہر جگہ میرا جنوں رسوا ہوا غیرت اہل چمن کو کیا ہوا چھوڑ آئے آشیاں جلتا ہوا حسن کا چہرہ بھی ہے اترا ہوا آج اپنے غم کا اندازہ ہوا پرسش غم آپ رہنے دیجئے یہ تماشا ہے مرا دیکھا ہوا یہ عمارت تو عبادت گاہ ہے اس جگہ اک میکدہ تھا کیا ہوا غم سے نازک ضبط غم کی بات ہے یہ بھی دریا ہے مگر ٹھہرا ہوا اس طرح رہبر نے لوٹا کارواں اے فناؔ رہزن کو بھی صدمہ ہوا

Similar Poets