gumshudgi hi asl mein yaaro raah-numaai karti hai
raah dikhaane vaale pahle barson raah bhaTakte hain

Hafeez Banarasi
Hafeez Banarasi
Hafeez Banarasi
Popular Shayari
25 totalvafaa nazar nahin aati kahin zamaane mein
vafaa kaa zikr kitaabon mein dekh lete hain
kis munh se karein un ke taghaaful ki shikaayat
khud ham ko mohabbat kaa sabaq yaad nahin hai
chale chaliye ki chalnaa hi dalil-e-kaamraani hai
jo thak kar baiTh jaate hain vo manzil paa nahin sakte
main ne aabaad kiye kitne hi viraane 'hafiz'
zindagi meri ik ujDi hui mahfil hi sahi
jo pardon mein khud ko chhupaae hue hain
qayaamat vahi to uThaae hue hain
dushmanon ki jafaa kaa khauf nahin
doston ki vafaa se Darte hain
samajh ke aag lagaanaa hamaare ghar mein tum
hamaare ghar ke baraabar tumhaaraa bhi ghar hai
mile fursat to sun lenaa kisi din
miraa qissa nihaayat mukhtasar hai
kisi kaa ghar jale apnaa hi ghar lage hai mujhe
vo haal hai ki ujaalon se Dar lage hai mujhe
ek siitaa ki rifaaqat hai to sab kuchh paas hai
zindagi kahte hain jis ko raam kaa ban-baas hai
kabhi khirad kabhi divaangi ne luuT liyaa
tarah tarah se hamein zindagi ne luuT liyaa
Ghazalغزل
جو خط ہے شکستہ ہے جو عکس ہے ٹوٹا ہے یا حسن ترا جھوٹا یا آئنہ جھوٹا ہے ہم شکر کریں کس کا شاکی ہوں تو کس کے ہوں رہزن نے بھی لوٹا ہے رہبر نے بھی لوٹا ہے یاد آیا ان آنکھوں کا پیمان وفا جب بھی ساغر مرے ہاتھوں سے بے ساختہ چھوٹا ہے ہر چہرے پہ لکھا ہے اک قصۂ مظلومی بے درد زمانے نے ہر شخص کو لوٹا ہے منزل کی تمنا میں سر گرم سفر ہیں سب کون اس کے لیے روئے جو راہ میں چھوٹا ہے اللہ رے حفیظؔ اس کا یہ ذوق خود آرائی جب زلف سنواری ہے اک آئنہ ٹوٹا ہے
jo khat hai shikasta hai jo aks hai TuuTaa hai
پیار میں زیست مجھے راس کہاں آئی ہے میرے حصے میں فقط آہ و فغاں آئی ہے یا خدا رکھ لے مری پشت پناہی کا بھرم سر چھپانے مرے گلشن میں خزاں آئی ہے بچ کے جاتا ہی نہیں عالم فانی سے کوئی موت ہی میری مجھے لے کے یہاں آئی ہے دوڑ پڑتا ہوں تری سمت ہر اک آہٹ پر مجھ کو لگتا ہے کہ آواز اذاں آئی ہے چاہتا ہوں کہ کسی طور نہ اب آنکھ کھلے بعد مدت کے مرے خواب میں ماں آئی ہے یہ بھی ممکن ہے مری راہ میں ہوں ماہ و نجوم جب بلانے کو مجھے کاہکشاں آئی ہے آج موسم کی نوازش کا ہوں ممنون حبیبؔ خوشبوئے یار لئے باد رواں آئی ہے
pyaar mein ziist mujhe raas kahaan aai hai
یہ کیسی ہوائے غم و آزار چلی ہے خود باد بہاری بھی شرر بار چلی ہے دیکھی ہی نہ تھی جس نے شکست آج تک اپنی وہ چشم فسوں خیز بھی دل ہار چلی ہے اب کوئی حدیث قد و گیسو نہیں سنتا دنیا میں وہ رسم رسن و دار چلی ہے تکتا ہی نہیں کوئی مے و جام کی جانب کیا چال یہ تو نے نگہ یار چلی ہے وہ لوگ کہاں جائیں جو کافر ہیں نہ دیں دار پھر کشمکش کافر و دیں دار چلی ہے بات اور بھی کچھ مے کی مذمت کے علاوہ یہ بات تو اے شیخ کئی بار چلی ہے دیوانگئ شوق میں جو کر گئے ہم لوگ معیار خرد بن کے وہ گفتار چلی ہے سازش نہ ہو کچھ دیر و حرم والوں کی اس میں سنتا ہوں کہ مے خانے میں تلوار چلی ہے کب یاد کیا ہم کو حفیظؔ اہل چمن نے جب زیست سوئے وادئ پر خار چلی ہے
ye kaisi havaa-e-gham-o-aazaar chali hai
اثر میں آتا گیا میں تری سخاوت کے دراز ہوتے گئے ہاتھ میری حاجت کے لبوں پہ موجۂ نکہت یوںہی نہیں رقصاں کھلے ہیں پھول مرے دل میں تیری چاہت کے تپش کچھ ایسی تھی خورشید استقامت کی پسینے چھوٹ گئے شعلۂ عداوت کے یہ بات بات میں ترک تعلقات کی بات بتاؤ کیا یہی آداب ہیں محبت کے ہمیں بھی بخش سکوں آ کبھی ادھر بھی آ کہ ہم بھی ہیں متمنی تری زیارت کے نوازشیں تری حائل اگر نہیں ہوتیں تو ہم بھی کرتے نظارے سکون و راحت کے دمک رہے ہیں جو دامن پہ بن کے لعل و گہر حبیبؔ اشک ہیں دراصل وہ ندامت کے
asar mein aataa gayaa main tiri sakhaavat ke
کب ہے حد امکانی میں رشتہ آگ اور پانی میں اس کا سراپا لکھوں گا آج قلم ہے روانی میں چھوٹا مرا کردار سہی شامل تو ہوں کہانی میں میرے ماتھے پر یہ شکن اس نے دی ہے نشانی میں آئینہ ہے ظلم ترا میری کرب بیانی میں دانا کرتے ہیں جو کام میں نے کئے نادانی میں چوری میرے دل کی ہوئی آنکھوں کی نگرانی میں باپ کی دشواری کے طفیل بچے ہیں آسانی میں مشورہ ان کا مانا نہیں مارے گئے من مانی میں کاغذ کی ہے ناؤ حبیبؔ سینہ سپر طغیانی میں
kab hai had-e-imkaani mein
لہو کی مے بنائی دل کا پیمانہ بنا ڈالا جگر داروں نے مقتل کو بھی مے خانہ بنا ڈالا ہمارے جذبۂ تعمیر کی کچھ داد دو یارو کہ ہم نے بجلیوں کو شمع کا شانہ بنا ڈالا ستم ڈھاتے ہو لیکن لطف کا احساس ہوتا ہے اسی انداز نے دنیا کو دیوانہ بنا ڈالا بھری محفل میں ہم نے بات کر لی تھی ان آنکھوں سے بس اتنی بات کا یاروں نے افسانہ بنا ڈالا مرے ذوق پرستش کی کرشمہ سازیاں دیکھو کبھی کعبہ کبھی کعبہ کو بت خانہ بنا ڈالا شکایت بجلیوں سے ہے نہ شکوہ باد صرصر سے چمن کو خود چمن والوں نے ویرانہ بنا ڈالا چلو اچھا ہوا دنیا حفیظؔ اب دور ہے ہم سے محبت نے ہمیں دنیا سے بیگانہ بنا ڈالا
lahu ki mai banaai dil kaa paimaana banaa Daalaa





