"ye jafaon ki saza hai ki tamasha.i hai tu ye vafaon ki saza hai ki pa.e-dar huun main"

Hamid Mukhtar Hamid
Hamid Mukhtar Hamid
Hamid Mukhtar Hamid
Sherشعر
See all 8 →ye jafaon ki saza hai ki tamasha.i hai tu
یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں
umr hi teri guzar ja.egi un ke hal men
عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے
gir na jaa.e tire meyar se andaz-e-huruf
گر نہ جائے ترے معیار سے انداز حروف یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے
ye buzurgon ki rava-dari ke pazh-murda gulab
یہ بزرگوں کی روا داری کے پژمردہ گلاب آبیاری چاہتے ہیں ان میں چنگاری نہ رکھ
maqam-e-zabt gham-e-ishq men vo paida kar
مقام ضبط غم عشق میں وہ پیدا کر کہ تو خوشی کو نہ ترسے تجھے خوشی ترسے
tu hansi le ke miri aankh ko aansu de de
تو ہنسی لے کے مری آنکھ کو آنسو دے دے مجھ سے سوکھا ہوا دریا نہیں دیکھا جاتا
Popular Sher & Shayari
16 total"umr hi teri guzar ja.egi un ke hal men tera bachcha jo savalat liye baiTha hai"
"gir na jaa.e tire meyar se andaz-e-huruf yuun kabhi naam bhi tera nahin likhkha main ne"
"ye buzurgon ki rava-dari ke pazh-murda gulab abiyari chahte hain in men chingari na rakh"
"maqam-e-zabt gham-e-ishq men vo paida kar ki tu khushi ko na tarse tujhe khushi tarse"
"tu hansi le ke miri aankh ko aansu de de mujh se sukha hua dariya nahin dekha jaata"
ye jafaaon ki sazaa hai ki tamaashaai hai tu
ye vafaaon ki sazaa hai ki pae-daar huun main
umr hi teri guzar jaaegi un ke hal mein
teraa bachcha jo savaalaat liye baiThaa hai
gir na jaae tire meyaar se andaaz-e-huruf
yuun kabhi naam bhi teraa nahin likhkhaa main ne
aaj kaa khat hi use bhejaa hai koraa lekin
aaj kaa khat hi adhuraa nahin likhkhaa main ne
ye buzurgon ki ravaa-daari ke pazh-murda gulaab
aabiyaari chaahte hain in mein chingaari na rakh
maqaam-e-zabt gham-e-ishq mein vo paidaa kar
ki tu khushi ko na tarse tujhe khushi tarse
Ghazalغزل
maaal-e-dil ke liye aaj yuun khudi tarse
مآل دل کے لیے آج یوں خودی ترسے کہ زندگی کے لیے جیسے زندگی ترسے خرد بدوش ہے تہذیب نو مگر پھر بھی جنوں بداماں تمدن کو آگہی ترسے جو اپنا خون جگر پی کے مست ہو جائیں اب ایسے ظرف پرستوں کو تشنگی ترسے ہے اب بھی سلسلۂ دوستی جہاں میں مگر وفا شناس محبت کو دوستی ترسے مقام ضبط غم عشق میں وہ پیدا کر کہ تو خوشی کو نہ ترسے تجھے خوشی ترسے رہ وفا میں مجھے کاش ایسی موت ملے کہ بعد مرگ مجھے میری زندگی ترسے جہاں میں اہل سخن کم نہیں مگر حامدؔ تخیلات حقیقت کو شاعری ترسے
chaahe kuchh ho zer-e-ehsaan apni naadaari na rakh
چاہے کچھ ہو زیر احساں اپنی ناداری نہ رکھ پتھروں سے بھر کے یہ شیشے کی الماری نہ رکھ جنگ تو جیتے کہ ہارے یہ الگ اک بات ہے ذہن و دل پر خوف دشمن کا مگر طاری نہ رکھ آڑی ترچھی کچھ لکیریں ہی ملیں گی شام تک شہر کے چوراہے پر تو اپنی فن کاری نہ رکھ یہ بزرگوں کی روا داری کے پژمردہ گلاب آبیاری چاہتے ہیں ان میں چنگاری نہ رکھ ہے ترے انصاف کا تیری ترازو سے وقار باٹ ہلکے ہوں تو آگے چیز بھی بھاری نہ رکھ زندگی کے آئینے کی آب ہے حامدؔ خودی اپنی سانسوں سے جدا احساس خود داری نہ رکھ
tapte sahraaon ki saughaat liye baiThaa hai
تپتے صحراؤں کی سوغات لیے بیٹھا ہے پیاسی آنکھوں میں وہ برسات لیے بیٹھا ہے چند مسلے ہوئے صفحات لیے بیٹھا ہے گھر کا بوڑھا جو روایات لیے بیٹھا ہے عمر ہی تیری گزر جائے گی ان کے حل میں تیرا بچہ جو سوالات لیے بیٹھا ہے زلف شب رنگ پہ رنگین کشیدہ آنچل وہ کوئی تاروں بھری رات لیے بیٹھا ہے تو بہادر ہے مگر ہیچ ہے اس کے آگے ایک بزدل جو تری بات لیے بیٹھا ہے کیسے کہہ دوں کہ اسے جینے کا حق ہے حامدؔ دل میں جو لاشۂ جذبات لیے بیٹھا ہے
poshida ajab ziist kaa ik raaz hai mujh mein
پوشیدہ عجب زیست کا اک راز ہے مجھ میں بے پر ہوں مگر جرأت پرواز ہے مجھ میں دنیا میں ترے ساتھ ابھی چل نہ سکوں گا کچھ باقی ابھی ظرف کی آواز ہے مجھ میں صفحات پہ بکھرے ہیں مرے سینکڑوں سورج انساں کے ہر اک باب کا آغاز ہے مجھ میں مجروح تو کر سکتا نہیں تیرے یقیں کو اے دوست مگر فطرت ہم راز ہے مجھ میں کوئی مجھے بد کار کہے اس کی خطا کیا یہ میرا ہی بخشا ہوا اعزاز ہے مجھ میں جز تیرے مرا سر نہ جھکا آگے کسی کے یہ ناز ہے گر جرم تو یہ ناز ہے مجھ میں
ek insaan huun insaan kaa parastaar huun main
ایک انسان ہوں انساں کا پرستار ہوں میں پھر بھی دنیا کی نگاہوں میں گنہ گار ہوں میں گردش وقت نے اس حال میں چھوڑا ہے مجھے اب کسی شہر کا لوٹا ہوا بازار ہوں میں در پہ رہنے دے مجھے ٹاٹ کا پردہ ہی سہی تیرے اسلاف کا چھوڑا ہوا کردار ہوں میں کتنا مضبوط ہے اے دوست تعلق کا محل برف کی چھت ہے جو تو ریت کی دیوار ہوں میں خون بر دوش ہوں میں زنگ رسیدہ تو نہیں ہے مجھے فخر کہ ٹوٹی ہوئی تلوار ہوں میں یہ جفاؤں کی سزا ہے کہ تماشائی ہے تو یہ وفاؤں کی سزا ہے کہ پئے دار ہوں میں ہاتھ پھیلا تو کسی سائے نے روکا حامدؔ اس سے پوچھا تو کہا جذبۂ خود دار ہوں میں
apni taqdir kaa shikva nahin likhkhaa main ne
اپنی تقدیر کا شکوہ نہیں لکھا میں نے خود کو محروم تمنا نہیں لکھا میں نے اے قلم کرنا مرے ہاتھ کی لغزش کو معاف تجھ سے شاہوں کا قصیدہ نہیں لکھا میں نے گر نہ جائے ترے معیار سے انداز حروف یوں کبھی نام بھی تیرا نہیں لکھا میں نے ہوں اسی جرم کی پاداش میں پیاسا شاید تپتے صحراؤں کو دریا نہیں لکھا میں نے آج کا خط ہی اسے بھیجا ہے کورا لیکن آج کا خط ہی ادھورا نہیں لکھا میں نے جو نہ پہچان سکا وقت کی نبضیں حامدؔ اس مسیحا کو مسیحا نہیں لکھا میں نے





