balaa ki tamkanat se ab siyaahi bolti hai
hamaari chup se shah paa kar tabaahi bolti hai

Hamida Shaheen
Hamida Shaheen
Hamida Shaheen
Popular Shayari
8 totalkaun badan se aage dekhe aurat ko
sab ki aankhein girvi hain is nagri mein
mere dil ki shaakh pe jaanaan
har mausam mein tu khiltaa hai
hijr ki talkhi zahr bani hai miThi baatein bhejo naa
khud ko dekhe arsa guzraa apni aankhein bhejo naa
tire giton kaa matlab aur hai kuchh
hamaaraa dhun saraasar mukhtalif hai
go ek aziyyat hai tiraa rang-e-taghaaful
ye rang kisi aur pe sajtaa bhi nahin khair
sitaara hai koi gul hai ki dil hai
tiri Thokar mein patthar mukhtalif hai
fazaa yunhi to nahin malgaji hui jaati
koi to khaak-nashin hosh kho rahaa hogaa
Ghazalغزل
میں برہا کی نار جسے ہر پانی راس نہیں تو ٹھنڈا میٹھا ہے لیکن مجھ کو پیاس نہیں یوں سنتے ہیں جیسے خوابوں کی آواز ہو تم یوں بیٹھے ہیں بیٹھے ہونے کا احساس نہیں سارے سکوں پر ہے دونوں جانب تیرا نقش ایسے میں تو جھگڑا ہی ممکن ہے ٹاس نہیں کوئی جان سے پیارا رشتہ جب آزار بنے بس تھوڑا سا ناخن کاٹا جائے ماس نہیں میں نے باغ لگایا اس میں پھول اور پھل تو ہیں دنیا کے تلوے سہلانے والی گھاس نہیں کوئی دھڑکن جیسا شخص اچانک چھوڑے ساتھ غصہ کر لینا پر اپنے دل کا ناس نہیں تو ہے میرے دل سے لپٹی پھولوں والی بیل خوشبو جیسی بیٹی تو امید ہے یاس نہیں ان آدھی باتوں نے پورے شعر بنائے ہیں اب جن کے بقیہ آدھے کی بالکل آس نہیں ہمت ہے تو ہجرت کر اس دنیا داری سے گھر کو جنگل کر دینا کوئی بن باس نہیں ہر خوشبو کو ان پر ضائع ہوتے دیکھا ہے جن کی قسمت میں اپنی مٹی کی باس نہیں یہ جو اندر گراتے رہتے ہیں ان کو باندھ دنیا وہ ہڈی ہے جس پر کوئی ماس نہیں اس لفظی سیرابی کو بے بس کی چیخ سمجھ کچھ پیاسوں کو کہنا پڑ جاتا ہے پیاس نہیں
main birhaa ki naar jise har paani raas nahin
ڈھلانی تیز رفتاری میں دخل انداز مت ہو کسی بپھرے ہوئے سیلاب کا آغاز مت ہو محبت اختتامی انترے پر آ نہ جائے کسی جنگی ترانے کا بھڑکتا ساز مت ہو کھنڈر ہوتی ہوئی دنیا میں تیرا گیت گونجے نیا آغاز بن جا آخری آواز مت ہو یہاں اتنے دئے ہیں تو کسی سے لو لگا لے مری آنکھوں میں روشن رہ نظر انداز مت ہو تو اپنی روشنی کا ہاتھ پکڑے بھر اڑانیں کسی کی دھند میں آمادۂ پرواز مت ہو یہ دنیا دیکھتی رہ جائے ایسا خواب ہو جا مگر تاریک لمحے کا کبھی ہم راز مت ہو بجا لے سیٹیاں نعرے لگا پردے گرا دے مگر اپنے کہانی کار سے ناراض مت ہو
Dhalaani tez raftaari mein dakhl-andaaz mat ho
کھیل میں کچھ تو گڑبڑ تھی جو آدھے ہو کر ہارے لوگ آدھے لوگ نری مٹی تھے آدھے چاند ستارے لوگ اس ترتیب میں کوئی جانی بوجھی بے ترتیبی تھی آدھے ایک کنارے پر تھے آدھے ایک کنارے لوگ اس کے نظم و ضبط سے باہر ہونا کیسے ممکن تھا آدھے اس نے ساتھ ملائے آدھے اس نے مارے لوگ آج ہماری ہار سمجھ میں آنے والی بات نہیں اس کے پورے لشکر میں تھے آدھے آج ہمارے لوگ کس کے ساتھ ہماری یک جانی کا منظر بن پاتا آدھے جان کے دشمن تھے اور آدھے جان سے پیارے لوگ ان پر خواب ہوا اور پانی کی تبدیلی لازم ہے آدھے پھیکے بے رس ہو گئے آدھے زہر تمہارے لوگ آدھی رات ہوئی تو غم نے چپکے سے در کھول دئے آدھوں نے تو آنکھ نہ کھولی آدھے آج گزارے لوگ آدھوں آدھ کٹی یکجائی پھر دوجوں نے بیچوں بیچ آدھے پاؤں کے نیچے رکھے آدھے سر سے وارے لوگ ایسا بند و بست ہمارے حق میں کیسا رہنا تھا ہلکے ہلکے چن کر اس نے آدھے پار اتارے لوگ کچھ لوگوں پر شیشے کے اس جانب ہونا واجب تھا دھار پہ چلتے چلتے ہو گئے آدھے آدھے سارے لوگ
khel mein kuchh to gaDbaD thi jo aadhe ho kar haare log
ملال زرد قبائی کو دھو رہا ہوگا رگوں کا سرخ کہیں سبز ہو رہا ہوگا وہ جس کے دم سے گلابی تھی خواب گاہ مری نہ جانے کس کے دھندلکوں سے سو رہا ہوگا مرے سفید کسی کا رجوع مان بھی لے کہ اب نہیں وہ سیہ راز گو رہا ہوگا وہ کیسری جو مری اوڑھنی پہ کھل نہ سکا اب اپنا بیچ کہیں اور بو رہا ہوگا جو سرمئی میں کھلا جا رہا ہے شام ڈھلے کہیں تو اپنا سنہرا سمو رہا ہوگا ملے دلے سے پڑے ہیں جو نیل گوں لمحے انہی کا زعم سماوات کو رہا ہوگا پڑا ہے رنگ سے عاری بنت سے ادھڑا ہوا گزشتہ نقرئی جھلمل کو رو رہا ہوگا فضا یوں ہی تو نہیں ملگجی ہوئی جاتی کوئی تو خاک نشیں ہوش کھو رہا ہوگا قتیل رنگ نہ ہوگا وہ سیر چشم کبھی وفا کی دودھیا بانہوں میں جو رہا ہوگا
malaal zard-qabaai ko dho rahaa hogaa
کس حدت سے گزرے کیسے پھول ہوئے کیا موسم تھا جب انگارے پھول ہوئے چھاچھ بلونے والی مدت بعد ہنسی دیواروں پر چسپاں اپلے پھول ہوئے ریشہ بنتی مکڑی خوشبو میں ڈوبی اک آہٹ پر سارے جالے پھول ہوئے اس در کے پھولوں کا عالم کیا ہوگا جس کو چھو کر میرے جیسے پھول ہوئے گھر نے دیکھ لیا آتے پردیسی کو کھل اٹھے دروازے تالے پھول ہوئے چوک میں اک تصویر لگائی پھولوں کی دیکھا دیکھی چاروں رستے پھول ہوئے ہم ہیں جن پر معنی بدلے جاتے ہیں ہم ہیں جن پر کنکر تیرے پھول ہوئے اتنی مہلت کھلنے اور مہکنے کی غم نے دی اور ہم بھی اس کے پھول ہوئے کانٹے اس زرخیز نظر کے شیدائی جو بھی اس میں آن سمائے پھول ہوئے جب تک حرف رہیں گے تم بھی مہکوگے تم میرے اشعار میں آئے پھول ہوئے
kis hiddat se guzre kaise phuul hue
ڈھلانی تیز رفتاری میں دخل انداز مت ہو کسی بپھرے ہوئے سیلاب کا آغاز مت ہو محبت اختتامی انترے پر آ نہ جائے کسی جنگی ترانے کا بھڑکتا ساز مت ہو کھنڈر ہوتی ہوئی دنیا میں تیرا گیت گونجے نیا آغاز بن جا آخری آواز مت ہو یہاں اتنے دیے ہیں تو کسی سے لو لگا لے مری آنکھوں میں روشن رہ نظر انداز مت ہو یہ دنیا دیکھتی رہ جائے ایسا خواب ہو جا مگر تاریک لمحوں کا کبھی ہم راز مت ہو تو اپنی روشنی کی ہمرہی میں بھر اڑانیں کسی کی دھند میں آمادۂ پرواز مت ہو بجا لے سیٹیاں نعرے لگا پردے گرا دے مگر اپنے کہانی کار سے ناراض مت ہو
Dhalaani tez-raftaari mein dakhl-andaaz mat ho





