SHAWORDS
Hasan Akbar Kamal

Hasan Akbar Kamal

Hasan Akbar Kamal

Hasan Akbar Kamal

poet
11Sher
11Shayari
18Ghazal

Sherشعر

See all 11

Popular Sher & Shayari

22 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

mire badan pe qabaa-e-anaa salaamat thi

مرے بدن پہ قبائے انا سلامت تھی بلند تھا مرا سر زندگی قیامت تھی کسی کو مجھ سے محبت نہ تھی عجب دن تھے کہ جب اصولوں سے اپنے مجھے محبت تھی لہو بدن میں نہ تھا تیل تھا مشینوں کا جوان چہرہ تھا اور خاک جیسی رنگت تھی کل اس کی آنکھ بھی نم ہو گئی مرے غم پر یہ عمر بھر کے مرے آنسوؤں کی قیمت تھی خلوص بانٹ دیا نا سپاس لوگوں میں یہی فقیر کے دامن میں ایک دولت تھی کنار آب رواں اک ہجوم تھا لیکن بچائے ڈوبتے بچے کو کس میں ہمت تھی طواف پھولوں کا چھوڑا چمن سے ہجرت کی یہ تتلیوں کی روایات سے بغاوت تھی کمالؔ باد خزاں اوڑھ کر ہیں خوابیدہ وہ پیڑ جن کو نئی کونپلوں کی حسرت تھی

غزل · Ghazal

duniyaa mein kitne rang nazar aaeinge nae

دنیا میں کتنے رنگ نظر آئیں گے نئے ہوں دید کے عمل میں اگر زاویے نئے چہرہ بھی آنسوؤں سے تر و تازہ ہو گیا بارش کے بعد سبزہ و گل بھی ہوئے نئے بدلی ہے یہ زمیں کہ مری آنکھ وہ نہیں بیگانہ شہر و دشت ہیں اور راستے نئے اس کو بدل گیا نشۂ خود سپردگی مانوس خال و خد مجھے یکسر لگے نئے سب سے جدا ہیں گر مرے نو زائیدہ خیال جس نے دیئے خیال وہ الفاظ دے نئے

غزل · Ghazal

duudh jaisaa jhaag lahrein ret aur ye sipiyaan

دودھ جیسا جھاگ لہریں ریت اور یہ سیپیاں جن کو چنتی پھر رہی ہیں موتیوں سی لڑکیاں باغ میں بچوں کے گرد و پیش یوں اڑتی پھریں جیسے قاتل اپنا اپنا ڈھونڈھتی ہوں تتلیاں وہ مجھے خوشیاں نہ دے اور میری آنکھیں نم نہ ہوں ہے یہ پیماں زندگی کے اور میرے درمیاں بام و در ان کے ہوا کس پیار سے چھوتی رہی چاندنی کی گود میں جب سو رہی تھیں بستیاں کل یہی بچے سمندر کو مقابل پائیں گے آج تیراتے ہیں جو کاغذ کی ننھی کشتیاں گھومنا پہروں گھنے مہکے ہوئے بن میں کمالؔ واپسی میں دیکھنا اپنے ہی قدموں کے نشاں

غزل · Ghazal

saffaak saraab se ziyaada

سفاک سراب سے زیادہ ہے عشق عذاب سے زیادہ مقتول کے چہرے پر چمک تھی تلوار کی آب سے زیادہ میں اہل کتاب کو ہمیشہ پڑھتا ہوں کتاب سے زیادہ کیا رنگ دکھائے ہم جو چاہیں کانٹے کو گلاب سے زیادہ اترا وہ رگوں میں زہر جس میں نشہ ہے شراب سے زیادہ مانوس ہیں غم کمالؔ شاید مجھ خانہ خراب سے زیادہ

غزل · Ghazal

aaj bhi teri hi surat hai muqaabil mere

آج بھی تیری ہی صورت ہے مقابل میرے یہ بھی اک عشق کا انداز ہے قاتل میرے تیرا محروم محبت ہوں سو واپس نہ گیا بے محبت کبھی در سے کوئی سائل میرے حسن بیمار تجھے پھول دیئے ہیں میں نے ان میں ہونے تھے مگر زخم بھی شامل میرے اور میں ہوں کہ سفر پھر بھی کئے جاتا ہوں سائے کی طرح تعاقب میں ہے منزل میرے میں سمندر کے تلاطم سے بھی کچھ سیکھتا ہوں اسی تقصیر پہ دشمن ہوئے ساحل میرے آج آرائشی زنجیر ہے گردن میں کمالؔ کبھی ہتھیار گلے میں تھے حمائل میرے

غزل · Ghazal

ghazal mein husn kaa us ke bayaan rakhnaa hai

غزل میں حسن کا اس کے بیان رکھنا ہے کمال آنکھوں میں گویا زبان رکھنا ہے جہاز راں ہنر و حوصلہ نہ لے جا ساتھ ہوا کے رخ پہ اگر بادبان رکھنا ہے بھرا تو ہے مرا ترکش مگر یہ دل ہے گداز سو عمر بھر مجھے خالی کمان رکھنا ہے دیے بجھاتی رہی دل بجھا سکے تو بجھائے ہوا کے سامنے یہ امتحان رکھنا ہے بہت ہنسے مرے اس فیصلے پہ سایہ نشیں کہ سر پہ دھوپ کو اب سائبان رکھنا ہے ہو انتظار بہاراں جہاں نہ رنج خزاں کمالؔ ایسا بیاباں مکان رکھنا ہے

Similar Poets