SHAWORDS
Hussain Majid

Hussain Majid

Hussain Majid

Hussain Majid

poet
5Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

5 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

لوگوں نے آکاش سے اونچا جا کر تمغے پائے ہم نے اپنا انتر کھوجا دیوانے کہلائے کیسے سپنے کس کی آشا کب سے ہیں مہمان بنے تنہائی کے سونے آنگن میں یادوں کے سائے آنکھوں میں جو آج کسی کے بدلی بن کے جھوم اٹھی ہے کیا اچھا ہو ایسی برسے سب جل تھل ہو جائے دھول بنے یہ بات الگ ہے ورنہ اک دن ہوتے تھے چندا کے ہم سنگھی ساتھی تاروں کے ہمسائے آنے والے اک پل کو میں کیسے بتلا پاؤں گا آشا کب سے دور کھڑی ہے باہوں کو پھیلائے چاند اور سورج دونوں عاشق دھرتی کس کا مان رکھے اک چاندی کے گہنے پھینکے اک سونا بکھرائے کہنے کی تو بات نہیں ہے لیکن کہنی پڑتی ہے دل کی نگری میں مت جانا جو جائے پچھتائے ماجدؔ ہم نے اس جگ سے بس دو ہی چیزیں مانگی ہیں اوشا سا اک سندر چہرہ دو نیناں شرمائے

logon ne aakaash se unchaa jaa kar tamghe paae

غزل · Ghazal

شام چھت پر اتر گئی ہوگی درد سینے میں بھر گئی ہوگی خواب آنکھوں میں اب نئے ہوں گے زندگی بھی سنور گئی ہوگی میں تو کب سے اداس بیٹھا ہوں زندگی کس کے گھر گئی ہوگی ایک خوشبو تھی ساتھ میں اپنے کون ڈھونڈے کدھر گئی ہوگی اس کا چہرہ اداس ہے ماجدؔ آئینے پر نظر گئی ہوگی

shaam chhat par utar gai hogi

غزل · Ghazal

طوفاں کوئی نظر میں نہ دریا ابال پر وہ کون تھے جو بہہ گئے پربت کی ڈھال پر کرنے چلی تھی عقل جنوں سے مباحثے پتھر کے بت میں ڈھل گئی پہلے سوال پر میرا خیال ہے کہ اسے بھی نہیں ثبات جاں دے رہا ہے سارا جہاں جس جمال پر لے چل کہیں بھی آرزو لیکن زبان دے ہرگز نہ خون روئے گی اپنے مآل پر ایسے مکان سے تو یہاں بے مکاں بھلے ہے انحصار جس کا محض احتمال پر ماجدؔ خدا کے واسطے کچھ دیر کے لیے رو لینے دے اکیلا مجھے اپنے حال پر

tufaan koi nazar mein na dariyaa ubaal par

غزل · Ghazal

دھول بھری آندھی میں سب کو چہرہ روشن رکھنا ہے بستی پیچھے رہ جائے گی آگے آگے صحرا ہے ایک ذرا سی بات پہ اس نے دل کا رشتہ توڑ دیا ہم نے جس کا تنہائی میں برسوں رستہ دیکھا ہے پیار محبت آہ و زاری لفظوں کی تصویریں ہیں کس کے پیچھے بھاگ رہے ہو دریا بہتا رہتا ہے پھول پرندے خوشبو بادل سب اس کا سایہ ٹھہرے اس نے جب سے آئینے میں غور سے خود کو دیکھا ہے مجھ کو خوشبو ڈھونڈنے آئے مرے پیچھے چاند پھرے آج ہوا نے مجھ سے پوچھا کیا ایسا بھی ہوتا ہے کل جو میں نے جھانک کے دیکھا اس کی نیلی آنکھوں میں اس کے دل کا زخم تو ماجدؔ ساگر سے بھی گہرا ہے

dhul-bhari aandhi mein sab ko chehraa raushan rakhnaa hai

Similar Poets