SHAWORDS
Iftikhar Arif

Iftikhar Arif

Iftikhar Arif

Iftikhar Arif

poet
105Shayari
56Ghazal

Popular Shayari

105 total

Ghazalغزل

See all 56
غزل · Ghazal

ہجر کی دھوپ میں چھاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں آنسو بھی تو ماؤں جیسی باتیں کرتے ہیں رستہ دیکھنے والی آنکھوں کے انہونے خواب پیاس میں بھی دریاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں ایک ذرا سی جوت کے بل پر اندھیاروں سے بیر پاگل دیئے ہواؤں جیسی باتیں کرتے ہیں رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں ہم نے چپ رہنے کا عہد کیا ہے اور کم ظرف ہم سے سخن آراؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

hijr ki dhuup mein chaaon jaisi baatein karte hain

غزل · Ghazal

دوست کیا خود کو بھی پرسش کی اجازت نہیں دی دل کو خوں ہونے دیا آنکھ کو زحمت نہیں دی ہم بھی اس سلسلۂ عشق میں بیعت ہیں جسے ہجر نے دکھ نہ دیا وصل نے راحت نہیں دی ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی بے وفا دوست کبھی لوٹ کے آئے تو انہیں ہم نے اظہار ندامت کی اذیت نہیں دی دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

dost kyaa khud ko bhi pursish ki ijaazat nahin di

غزل · Ghazal

کہیں سے کوئی حرف معتبر شاید نہ آئے مسافر لوٹ کر اب اپنے گھر شاید نہ آئے قفس میں آب و دانے کی فراوانی بہت ہے اسیروں کو خیال بال و پر شاید نہ آئے کسے معلوم اہل ہجر پر ایسے بھی دن آئیں قیامت سر سے گزرے اور خبر شاید نہ آئے جہاں راتوں کو پڑ رہتے ہوں آنکھیں موند کر لوگ وہاں مہتاب میں چہرہ نظر شاید نہ آئے کبھی ایسا بھی دن نکلے کہ جب سورج کے ہم راہ کوئی صاحب نظر آئے مگر شاید نہ آئے سبھی کو سہل انگاری ہنر لگنے لگی ہے سروں پر اب غبار رہ گزر شاید نہ آئے

kahin se koi harf-e-mo'tabar shaayad na aae

غزل · Ghazal

ملک سخن میں درد کی دولت کو کیا ہوا اے شہر میرؔ تیری روایت کو کیا ہوا ہم تو سدا کے بندۂ زر تھے ہمارا کیا نام آوران عہد بغاوت کو کیا ہوا گرد و غبار کوچۂ شہرت میں آ کے دیکھ آسودگان کنج قناعت کو کیا ہوا گھر سے نکل کے بھی وہی تازہ ہوا کا خوف میثاق ہجر تیری بشارت کو کیا ہوا

mulk-e-sukhan mein dard ki daulat ko kyaa huaa

غزل · Ghazal

سر بام ہجر دیا بجھا تو خبر ہوئی سر شام کوئی جدا ہوا تو خبر ہوئی مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی کوئی بات بن کے بگڑ گئی تو پتہ چلا مرے بے وفا نے کرم کیا تو خبر ہوئی مرے ہم سفر کے سفر کی سمت ہی اور تھی کہیں راستہ کوئی گم ہوا تو خبر ہوئی مرے قصہ گو نے کہاں کہاں سے بڑھائی بات مجھے داستاں کا سرا ملا تو خبر ہوئی نہ لہو کا موسم رنگ ریز نہ دل نہ میں کوئی خواب تھا کہ بکھر گیا تو خبر ہوئی

sar-e-baam-e-hijr diyaa bujhaa to khabar hui

غزل · Ghazal

یہ اب کھلا کہ کوئی بھی منظر مرا نہ تھا میں جس میں رہ رہا تھا وہی گھر مرا نہ تھا میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا موج ہوائے شہر مقدر جواب دے دریا مرے نہ تھے کہ سمندر مرا نہ تھا پھر بھی تو سنگسار کیا جا رہا ہوں میں کہتے ہیں نام تک سر محضر مرا نہ تھا سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

ye ab khulaa ki koi bhi manzar miraa na thaa

Similar Poets