SHAWORDS
Iftikhar Naseem

Iftikhar Naseem

Iftikhar Naseem

Iftikhar Naseem

poet
21Sher
21Shayari
33Ghazal

Sherشعر

See all 21

Popular Sher & Shayari

42 total

Ghazalغزل

See all 33
غزل · Ghazal

ban gayaa hai jism guzre qaafilon ki gard saa

بن گیا ہے جسم گزرے قافلوں کی گرد سا کتنا ویراں کر گیا مجھ کو مرا ہم درد سا کیا ابھی تک اس کا رستہ روکتی ہے کوئی سوچ میرے ہاتھوں میں ہے اس کا ہاتھ لیکن سرد سا اس طرح گھل مل گیا آ کر نئے ماحول میں وہ بھی اب لگتا ہے میرے گھر کا ہی اک فرد سا جذب تھا جیسے کوئی سورج ہی اس کے جسم میں دور سے وہ سنگ لگتا تھا بظاہر سرد سا آج تک آنکھوں میں ہے منظر بچھڑنے کا نسیمؔ پیرہن میلا سا اس کا اور چہرا زرد سا

غزل · Ghazal

mishal-e-ummid thaamo rahnumaa jaisaa bhi hai

مشعل امید تھامو رہ نما جیسا بھی ہے اب تو چلنا ہی پڑے گا راستا جیسا بھی ہے کس لیے سر کو جھکائیں اجنبی کے سامنے اس سے ہم واقف تو ہیں اپنا خدا جیسا بھی ہے کس کو فرصت تھی ہجوم شوق میں جو سوچتا دل نے اس کو چن لیا وہ بے وفا جیسا بھی ہے ساری دنیا میں وہ میرے واسطے بس ایک ہے پھول سا چہرہ ہے وہ یا چاند سا جیسا بھی ہے فصل گل میں بھی دکھاتا ہے خزاں دیدہ درخت ٹوٹ کر دینے پہ آئے تو گھٹا جیسا بھی ہے

غزل · Ghazal

mire nuqush tire zehn se miTaa degaa

مرے نقوش ترے ذہن سے مٹا دے گا مرا سفر ہی مرے فاصلے بڑھا دے گا اندھیری رات ہے اس تند خو سے مت کہنا وہ روشنی کے لیے اپنا گھر جلا دے گا میں اس کا سب سے ہوں پیارا مگر بچھڑتے ہی وہ سب کو یاد کرے گا مجھے بھلا دے گا بنا ہوا ہوں میں مجرم بغیر جرم کئے اب اور کیا مرا منصف مجھے سزا دے گا اگایا جس نے ہے بنجر زمیں میں تجھ کو نسیمؔ ہے کیا بعید کہ وہ پھول بھی کھلا دے گا

غزل · Ghazal

sazaa hi di hai duaaon mein bhi asar de kar

سزا ہی دی ہے دعاؤں میں بھی اثر دے کر زبان لے گیا میری مجھے نظر دے کر خود اپنے دل سے مٹا دی ہے خواہش پرواز اڑا دیا ہے مگر اس کو اپنے پر دے کر نکل پڑے ہیں سبھی اب پناہ گاہوں سے گزر گئی ہے سیہ شب غم سحر دے کر اسے میں اپنی صفائی میں کیا بھلا کہتا وہ پوچھتا تھا جو مہلت بھی مختصر دے کر پکارتا ہوں کہ تنہا میں رہ گیا ہوں نسیمؔ کہاں گیا ہے وہ مجھ کو مری خبر دے کر

غزل · Ghazal

phuul gaalon ko to aankhon ko kanval kahtaa rahaa

پھول گالوں کو تو آنکھوں کو کنول کہتا رہا جنگ تھی باہر گلی میں میں غزل کہتا رہا مر رہے تھے رفتہ رفتہ میرے سب محصور دوست اور میں مسجد میں رب لم یزل کہتا رہا شاعری کی اور نظر انداز کی بچوں کی بھوک چاند کو روٹی کا میں نعم البدل کہتا رہا آ پڑا دل پر مرے آخر مرا کہنہ وجود روز دستک دے کے اس گھر سے نکل کہتا رہا آ گئی آخر مرے سر پر مرے دشمن کی فوج میں بھی تیاری کروں گا آج کل کہتا رہا طے نہ کر پایا کبھی اپنا تشخص ہی نسیمؔ آب زمزم کو ہمیشہ گنگا جل کہتا رہا

غزل · Ghazal

lagegaa ajnabi ab kyon na shahr bhar mujh ko

لگے گا اجنبی اب کیوں نہ شہر بھر مجھ کو بچا گیا ہے نظر تو بھی دیکھ کر مجھ کو میں گھوم پھر کے اسی سمت آ نکلتا ہوں جکڑ رہی ہے ترے گھر کی رہ گزر مجھ کو جھلس رہا ہے بدن زیر سایۂ دیوار بلا رہا ہے کوئی دشت بے شجر مجھ کو میں سنگ دل ہوں تجھے بھولتا ہی جاتا ہوں میں ہنس رہا ہوں تو مل کے اداس کر مجھ کو میں دیکھتا ہی رہوں گا تجھے کنارے سے تو ڈھونڈھتا ہی رہے گا بھنور بھنور مجھ کو بنی ہیں تند ہواؤں کی زرد دیواریں اڑا رہا ہے مگر شعلۂ سفر مجھ کو بنا دیا ہے نڈر ضدی خواہشوں نے نسیمؔ خود اعتماد نہ تھا اپنے آپ پر مجھ کو

Similar Poets