SHAWORDS
Inam Nadeem

Inam Nadeem

Inam Nadeem

Inam Nadeem

poet
16Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

آنکھ نے دھوکہ کھایا تھا یا سایا تھا وہ کھڑکی میں آیا تھا یا سایا تھا دروازے کے پیچھے اک پرچھائیں تھی اس نے ہاتھ ہلایا تھا یا سایا تھا ایک لکیر دھوئیں کی تھی یا خوشبو کی رنگ کوئی لہرایا تھا یا سایا تھا ابھی جو میرے پاس تھا شاید اپنا تھا شاید کوئی پرایا تھا یا سایا تھا نیند سے جاگا ہوں تو بیٹھا سوچتا ہوں خواب میں اس کو پایا تھا یا سایا تھا

aankh ne dhoka khaayaa thaa yaa saayaa thaa

1 views

غزل · Ghazal

یہ منظر بے در و دیوار ہوتا اگر میں خواب سے بیدار ہوتا بہت آساں تھا اس کو یاد رکھنا پر اگلا مرحلہ دشوار ہوتا سفر کچھ اور بھی مشکل سے کٹتا اگر یہ راستہ ہموار ہوتا اگر یہ دائرہ تکمیل پاتا جہان ثابت و سیار ہوتا جو تیری آرزو مجھ کو نہ ہوتی تو کوئی دوسرا آزار ہوتا

ye manzar be-dar-o-divaar hotaa

غزل · Ghazal

راستے جس طرف بلاتے ہیں ہم اسی سمت چلتے جاتے ہیں روز جاتے ہیں اپنے خوابوں تک روز چپ چاپ لوٹ آتے ہیں اڑتے پھرتے ہیں جو خس و خاشاک یہ کوئی داستاں سناتے ہیں یہ محبت بھی ایک نیکی ہے اس کو دریا میں ڈال آتے ہیں یاد کے اس کھنڈر میں اکثر ہم اپنے دل کا سراغ پاتے ہیں شام سے جل رہے ہیں بے مصرف ان چراغوں کو اب بجھاتے ہیں

raaste jis taraf bulaate hain

غزل · Ghazal

پڑتا تھا اس خیال کا سایا یہیں کہیں بہتا تھا میرے خواب کا دریا یہیں کہیں جانے کہاں ہے آج مگر پچھلی دھوپ میں دیکھا تھا ایک ابر کا ٹکڑا یہیں کہیں دیکھو یہیں پہ ہوں گی تمنا کی کرچیاں ٹوٹا تھا اعتبار کا شیشہ یہیں کہیں کنکر اٹھا کے دیکھ رہا ہوں کہ ایک دن رکھا تھا میں نے دل کا نگینہ یہیں کہیں اک روز بے خیالی میں برباد ہو گئی آباد تھی خیال کی دنیا یہیں کہیں

paDtaa thaa is khayaal kaa saayaa yahin kahin

غزل · Ghazal

ہمیں تو انتظاری اور ہی تھی مگر باد بہاری اور ہی تھی سنبھلتا کیا سنبھالے سے تمھارے کہ دل کو بے قراری اور ہی تھی تھی میرے خواب سے باہر بھی دنیا مگر ساری کی ساری اور ہی تھی سبھی کچھ تھا ہمارے دل کے بس میں مگر بے اختیاری اور ہی تھی ہمارا دل کوئی شیشہ نہیں تھا پر اب کے سنگ باری اور ہی تھی جیے گرچہ اسی دنیا میں ہم بھی مگر دنیا ہماری اور ہی تھی

hamein to intizaari aur hi thi

غزل · Ghazal

خود اپنے اجالے سے اوجھل رہا ہے دیا جل رہا ہے نہیں جانتے کس طرح جل رہا ہے دیا جل رہا ہے سمندر کی موجوں کو چھو کر ہوائیں پلٹنے لگی ہیں ستارہ فلک پر کہیں چل رہا ہے دیا جل رہا ہے کوئی فیصلہ تو کرو راستے سے گزرتی ہواؤ یہ قصہ بڑی دیر سے ٹل رہا ہے دیا جل رہا ہے کہیں دور تک کوئی جگنو نہیں ہے ستارے بجھے ہیں چمکتا ہوا چاند بھی ڈھل رہا ہے دیا جل رہا ہے کوئی یاد پھر دل میں آ کر بسی ہے مہک سی ہوئی ہے کوئی خواب آنکھوں میں پھر پل رہا ہے دیا جل رہا ہے

khud apne ujaale se ojhal rahaa hai diyaa jal rahaa hai

Similar Poets