SHAWORDS
Inamullah Khan Yaqeen

Inamullah Khan Yaqeen

Inamullah Khan Yaqeen

Inamullah Khan Yaqeen

poet
14Shayari
40Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 40
غزل · Ghazal

گریباں پھاڑتے ہیں دیکھ خوبان چمن کیوں کر نہ کیجے چاک ناصح اس ہوا میں پیرہن کیوں کر کرے محنت کوئی لذت اٹھاوے یار سے کوئی کہو اپنے تئیں ضائع نہ کرتا کوہ کن کیوں کر نہ دو اے گل رخاں تکلیف مجھ کو شعر خوانی کی کہو بن فصل گل کوئی کرے دیوانہ پن کیوں کر ہوا جاتا ہوں گز سایہ پہ پڑتی ہے نظر میری تیری سج دیکھ کر احباب جیتے ہیں سجن کیوں کر تعجب سخت رہتا ہے یقیںؔ اس بات کا مجھ کو کہ اتنا بولتے ہیں تلخ یہ شیریں دہن کیوں کر

garebaan phaaDte hain dekh khubaan-e-chaman kyuun kar

غزل · Ghazal

ان پری زاد جوانوں نے کیا پیر مجھے کر دیا ضعف سے جوں سایہ زمیں گیر مجھے تیری تدبیر سے میں کیونکہ مروں گا اے مرگ کی نہ ہو ہجر کے جب زہر نے تاثیر مجھے جس کو منظور ہے مرنا اسے جینا ہے وبال ہے دم پاک مسیحا دم شمشیر مجھے مجھ کو پیری میں کیا تازہ جوانوں کا مرید خوار کرتا ہے یہ نظارۂ بے پیر مجھے کم نہیں جوہر فولاد جواہر سے یقیںؔ ہے بہ از سلک گوہر عشق میں زنجیر مجھے

in pari-zaad javaanon ne kiyaa piir mujhe

غزل · Ghazal

کیا قیامت ہے بتوں کی بزم میں جانے کا حظ ہم کو خدمت کا انہوں کو کام فرمانے کا حظ وصل میں بھی درد مندوں کو نہیں راحت نصیب دیکھ لیجے شمع کے ملنے سے پروانے کا حظ اس طرف گل ٹوٹتا ہے اس طرف بلبل کا دل کیا رہا گلچیں کے ہاتھوں باغ میں جانے کا حظ جی نکلتا ہے مرا اس پر کہ کب آئے گا ہاتھ یار کے پاؤں پہ سر کو رکھ کے مر جانے کا حظ بوجھتا ہے خوب کیفیت نظارے کی یقیںؔ اس نگاہ مست سے لیتا ہے میخانے کا حظ

kyaa qayaamat hai buton ki bazm mein jaane kaa haz

غزل · Ghazal

اگر دینا ہو دل کی داد جتنا اس کا جی چاہے تو کرنے دو اسے فریاد جتنا اس کا جی چاہے ملی ہیں یار کی گلیاں ہمیں مجنوں سے یہ کہیو کرے ویرانے کو آباد جتنا اس کا جی چاہے نہیں ممکن کہ ہم کعبہ کو جائیں چھوڑ بت خانہ کرے واعظ ہمیں ارشاد جتنا اس کا جی چاہے وفا کا طوق ہے قمری صفت جزو بدن میرا کرے جور و ستم صیاد جتنا اس کا جی چاہے یقیںؔ مجھ بن نہیں ہے قدرداں کوئی مصیبت کا فلک مجھ پر کرے بیداد جتنا اس کا جی چاہے

agar denaa ho dil ki daad jitnaa us kaa ji chaahe

غزل · Ghazal

دل نہیں کھنچتا ہے بن مجنوں بیاباں کی طرف خوش نہیں آتا نظر کرنا غزالاں کی طرف فصل گل کی ہم اسیروں کو خبر کب ہے ولے ان دنوں میں شور سا کچھ ہے گلستاں کی طرف آگ کی مجھ کو لگی ہے پیاس یہ کیونکر بجھے کیونکہ دیکھوں سیر اس خورشید تاباں کی طرف اس ہوا میں رحم کر ساقی کہ بے جام شراب دیکھ کر چھاتی بھری آتی ہے باراں کی طرف سحر کے ڈورے جو سنتے تھے سو اب دیکھے یقیںؔ دل کھنچا جاتا ہے اس زلف پریشاں کی طرف

dil nahin khinchtaa hai bin majnun bayaabaan ki taraf

غزل · Ghazal

خواب میں کس طرح دیکھوں تجھ کو بے خوابی کے ساتھ جمع آسائش کہاں ہوتی ہے بیتابی کے ساتھ کر دیا آنکھوں کے رونے نے مرے دل کو خنک کب تلک گرمی کروں اس مردم آبی کے ساتھ غنچہ رنگینی کو اپنی چاہئے تہ کر رکھے اس کو کیا نسبت ہے ان لب ہائے عنابی کے ساتھ پونچھتے اس منہ کے ہو جاتا ہے سب رنگیں رومال گل کہاں ہوتا ہے ایسے رنگ و شادابی کے ساتھ مفت نہیں لیتے وفا کو شہر خوباں میں یقیںؔ کس قدر بے قدر ہے یہ جنس نایابی کے ساتھ

khvaab mein kis tarah dekhun tujh ko be-khvaabi ke saath

Similar Poets