SHAWORDS
Irfan Ahmad

Irfan Ahmad

Irfan Ahmad

Irfan Ahmad

poet
8Sher
8Shayari
5Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

sakht viraan hai jahaan tere baad

سخت ویراں ہے جہاں تیرے بعد کوئی تجھ سا ہے کہاں تیرے بعد کب تلک آہ و فغاں تیرے بعد خیمۂ دل ہے دھواں تیرے بعد جانے کس شہر میں آباد ہے تو ہم ہیں برباد یہاں تیرے بعد ہجرتیں کر گئے امکاں کے طیور اب یقیں ہے نہ گماں تیرے بعد ایسا عالم بھی نہ دیکھا تھا کبھی خالی خالی ہے مکاں تیرے بعد

غزل · Ghazal

hai dard ke intisaab saa kuchh

ہے درد کے انتساب سا کچھ وہ یاد آنگن میں خواب سا کچھ وہ آرزوئیں وہ تشنہ کامی حد نگہ تک سراب سا کچھ وہ ہجرتوں کے اداس موسم سفر سفر اضطراب سا کچھ ہر اک تعلق شکست مائل روش روش انقلاب سا کچھ وہ مشعل جاں بجھی بجھی سی کوئی بکھرتے گلاب سا کچھ وہ پھول ہاتھوں میں سنگ پارے وہ ایک پیسہ حساب سا کچھ وہ اس کے دل میں سوال جیسا مرے لبوں پہ جواب سا کچھ بس ایک حالت میں ہی ملا وہ گرہن میں آفتاب سا کچھ

غزل · Ghazal

thoDi si duur teri sadaa le gai hamein

تھوڑی سی دور تیری صدا لے گئی ہمیں پھر اک ہوائے تند اڑا لے گئی ہمیں ندی کنارے کیا گئے پانی کی چاہ میں ندی سمندروں میں بہا لے گئی ہمیں قسمت میں تشنگی سے ہی مرنا لکھا تھا پھر کیوں ساحلوں پہ گرم ہوا لے گئی ہمیں نشہ تھا زندگی کا شرابوں سے تیز تر ہم گر پڑے تو موت اٹھا لے گئی ہمیں ہم سادہ دل تھے آ گئے آخر فریب میں باتوں میں اس کی آنکھ لگا لے گئی ہمیں

غزل · Ghazal

ek zahrili rifaaqat ke sivaa hai aur kyaa

ایک زہریلی رفاقت کے سوا ہے اور کیا تیرے میرے بیچ وحشت کے سوا ہے اور کیا اب نہ ہے وہ نرم لہجہ اور نہ ہیں وہ قہقہے تیرا ملنا اک اذیت کے سوا ہے اور کیا زعم تھا مجھ کو بھی تیری چاہتوں کا لیکن اب میرے چہرے پر ندامت کے سوا ہے اور کیا ایک زہر آمیز چپ ہے اور آنکھوں میں جلن تیرے دل میں اب کدورت کے سوا ہے اور کیا زخم جو تو نے دیے تجھ کو دکھا تو دوں مگر پاس تیرے بھی نصیحت کے سوا ہے اور کیا

غزل · Ghazal

naqaab chehre se us ke kabhi saraktaa thaa

نقاب چہرے سے اس کے کبھی سرکتا تھا تو کالے بادلوں میں چاند سا چمکتا تھا اسے بھی خطۂ سر سبز مل گیا شاید وہ ایک ابر کا ٹکڑا جو کل بھٹکتا تھا وہ میرے ساتھ جو چلتا تھا گھر کے آنگن میں تو ماہتاب بھی پلکیں بہت جھپکتا تھا یہ کہہ کے برق بھی برسات میں بہت روئی کہ ایک پیڑ چمن میں غضب مہکتا تھا غم حیات نے بخشے ہیں سارے سناٹے کبھی ہمارے بھی پہلو میں دل دھڑکتا تھا جو ہو گئی ہے کبھی ابر کی نوازش بھی تو سائبان کئی دن تلک ٹپکتا تھا اکیلے پار اتر کے بہت ہے رنج مجھے میں اس کا بوجھ اٹھا کر بھی تیر سکتا تھا

Similar Poets