shab ko mai khuub si pi subh ko tauba kar li
rind ke rind rahe haath se jannat na gai

Jalal Lakhnavi
Jalal Lakhnavi
Jalal Lakhnavi
Popular Shayari
12 totalishq ki choT kaa kuchh dil pe asar ho to sahi
dard kam ho yaa ziyaada ho magar ho to sahi
ik raat dil-jalon ko ye aish-e-visaal de
phir chaahe aasmaan jahannam mein Daal de
jis ne kuchh ehsaan kiyaa ik bojh sar par rakh diyaa
sar se tinkaa kyaa utaaraa sar pe chhappar rakh diyaa
na ho barham jo bosa be-ijaazat le liyaa main ne
chalo jaane do betaabi mein aisaa ho hi jaataa hai
gai thi kah ke main laati huun zulf-e-yaar ki bu
phiri to baad-e-sabaa kaa dimaagh bhi na milaa
'jalaal' ahd-e-javaani hai doge dil sau baar
abhi ki tauba nahin e'tibaar ke qaabil
main ne puchhaa ki hai kyaa shaghl to hans kar bole
aaj kal ham tere marne ki duaa karte hain
vaada kyuun baar baar karte ho
khud ko be-e'tibaar karte ho
pahunche na vahaan tak ye duaa maang rahaa huun
qaasid ko udhar bhej ke dhyaan aae hai kyaa kyaa
na khauf-e-aah buton ko na Dar hai naalon kaa
baDaa kaleja hai in dil dukhaane vaalon kaa
main jo aayaa ghair se hans kar kahaa us ne 'jalaal'
khatm hai jis par sharaafat vo kamina aa gayaa
Ghazalغزل
مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر تو یہ بھی مے پہ گرتی ہے کیا ٹوٹ ٹوٹ کر مہندی تھا میرا خون کہ ہوتا جو رائیگاں اک شب کے بعد ہاتھ سے قاتل کے چھوٹ کر پہلا ہی دن تھا ہم کو کیے ترک مے کشی کیا کیا پڑا ہے رات کو مینہ ٹوٹ ٹوٹ کر صبر و قرار لے کے دیا داغ آرزو آباد تم نے دل کو کیا مجھ کو لوٹ کر حیرت ہے میرے اختر بخت سیاہ کو کیوں کر گہن سے چاند نکلتا ہے چھوٹ کر اللہ رے آنسوؤں کا کھٹکنا فراق میں آنکھوں میں بھر گیا کوئی الماس کوٹ کر ٹپکے نہیں قلم کے فقط اشک نامہ پر وہ کچھ لکھا کہ روئی سیاہی بھی پھوٹ کر کر بند و بست ابھی سے نہ گلشن میں باغباں وہ دن تو ہو کہ مرغ قفس آئیں چھوٹ کر صد حیف سرگذشت جو اپنی کہی جلالؔ تو اس کو داستان سمجھ سچ کو جھوٹ کر
muddat ke baad munh se lagi hai jo chhuT kar
جانے والا اضطراب دل نہیں یہ تڑپ تسکین کے قابل نہیں جان دے دینا تو کچھ مشکل نہیں جان کا خواہاں مگر اے دل نہیں تجھ سے خوش چشم اور بھی دیکھے مگر یہ نگہ یہ پتلیاں یہ تل نہیں رہتے ہیں بے خود جو تیرے عشق میں وہ بہت ہشیار ہیں غافل نہیں جو نہ سسکے وہ ترا کشتہ ہے کب جو نہ تڑپے وہ ترا بسمل نہیں ہجر میں دم کا نکلنا ہے محال آپ آ نکلیں تو کچھ مشکل نہیں آئیے حسرت بھرے دل میں کبھی کیا یہ محفل آپ کی محفل نہیں ہم تو زاہد مرتے ہیں اس خلد پر جو بہشتوں میں ترے شامل نہیں وہ تو وہ تصویر بھی اس کی جلالؔ کہتی ہے تم بات کے قابل نہیں
jaane vaalaa iztiraab-e-dil nahin
دے صنم حکم تو در پر ترے حاضر ہو کر پڑ رہے کوئی مسلمان بھی کافر ہو کر چٹکیاں لینے کو بس رہ چکے پنہاں دل میں کبھی پہلو میں بھی آ بیٹھیے ظاہر ہو کر جبہہ سائی کا ارادہ ہو تو پہنچا دے گا در تک اوس بت کے خدا حافظ و ناصر ہو کر غیر کیوں ہم کو اٹھاتا ہے تری محفل سے آپ اٹھ جائیں گے برخاستہ خاطر ہو کر ڈھونڈتے رہ گئے پہلو ہی تعجب ہے جلالؔ حال دل اوس نے نہ تم کہہ سکے شاعر ہو کر
de sanam hukm tu dar par tire haazir ho kar
تصور ہم نے جب تیرا کیا پیش نظر پایا تجھے دیکھا جدھر دیکھا تجھے پایا جدھر پایا کہاں ہم نے نہ اس درد نہانی کا اثر پایا یہاں اٹھا وہاں چمکا ادھر آیا ادھر پایا پتا اس نے دیا تیرا ملا جو عشق میں خود گم خبر تیری اسی سے پائی جس کو بے خبر پایا دل بے تاب کے پہلو سے جاتے ہی گیا سب کچھ نہ پائیں سینے میں آہیں نہ آہوں میں اثر پایا وہ چشم منتظر تھی جس کو دیکھا آ کے وا تم نے وہ نالہ تھا ہمارا جس کو سوتے رات بھر پایا میں ہوں وہ ناتواں پنہاں رہا خود آنکھ سے اپنی ہمیشہ آپ کو گم صورت تار نظر پایا حبیب اپنا اگر دیکھا تو داغ عشق کو دیکھا طبیب اپنا اگر پایا تو اک درد جگر پایا کیا گم ہم نے دل کو جستجو میں داغ حسرت کی کسی کو پا کے کھو بیٹھے کسی کو ڈھونڈھ کر پایا بہت سے اشک رنگیں اے جلالؔ اس آنکھ سے ٹپکے مگر بے رنگ ہی دیکھا نہ کچھ رنگ اثر پایا
tasavvur ham ne jab teraa kiyaa pesh-e-nazar paayaa
یاد آ کے تری ہجر میں سمجھائے گی کس کو دل ہی نہیں سینہ میں تو بہلائے گی کس کو دم کھنچتا ہے کیوں آج یہ رگ رگ سے ہمارا کیا جانے ادھر دل کی کشش لائے گی کس کو اٹھنے ہی نہیں دیتی ہے جب یاس بٹھا کر پھر شوق کی ہمت کہیں لے جائے گی کس کو جب مار ہی ڈالا ہمیں بے تابئ دل نے کروٹ شب فرقت میں بدلوائے گی کس کو مر جائیں گے بے موت غم ہجر کے مارے آئے گی تو اب زندہ اجل پائے گی کس کو اچھا رہے تصویر کسی کی مرے دل پر کمبخت نہ ٹھہرے گا تو ٹھہرائے گی کس کو کچھ بیٹھ گیا دل ہی یہاں بیٹھ کے اپنا غیرت تری محفل سے اب اٹھوائے گی کس کو اس وعدہ خلافی نے اگر جان ہی لے لی پھر جھوٹی تسلی تری تڑپائے گی کس کو کیوں لیں گے جلالؔ آ کے مرے دل میں وہ چٹکی جھپکے گی پلک کاہے کو نیند آئے گی کس کو
yaad aa ke tiri hijr mein samjhaaegi kis ko
مری شاکی ہے خود میری فغاں تک کہ تالو سے نہیں لگتی زباں تک کوئی حسرت ہی لے آئے منا کر مرے روٹھے ہوئے دل کو یہاں تک جگہ کیا درد کی بھی چھین لے گا جگر کا داغ پھیلے گا کہاں تک اثر نالوں میں جو تھا وہ بھی کھویا بہت پچھتائے جا کر آسماں تک فلک تیرے جگر کے داغ ہیں ہم مٹائے جا مٹانا ہے جہاں تک وہ کیا پہلو میں بیٹھے اٹھ گئے کیا نہ لیں جلدی میں دو اک چٹکیاں تک کوئی مانگے تو آ کر منتظر ہے لیے تھوڑی سی جان اک نیم جاں تک اٹھانے سے اجل کے میں نہ اٹھتا وہ آتے تو کبھی مجھ ناتواں تک جلالؔ نالہ کش چپکا نہ ہوگا وہ دے کر دیکھ لیں منہ میں زباں تک
miri shaaki hai khud meri fughaan tak





