SHAWORDS
Jameel Yusuf

Jameel Yusuf

Jameel Yusuf

Jameel Yusuf

poet
6Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

صدا کا لوچ سخن کا نکھار لے کے چلے تری نظر سے فسون بہار لے کے چلے ترے جمال کی صبح جواں تھی آنکھوں میں جبیں پہ شام ستم کا غبار لے کے چلے رہ وفا میں متاع سفر کی بات نہ پوچھ بس ایک زندگئ مستعار لے کے چلے نہ یار لطف پہ مائل نہ شہر درد شناس کہاں یہ ہم دل امیدوار لے کے چلے طلب کی راہ میں اک یہ بھی حادثہ گزرا ہم اپنے ذوق نظر کا وقار لے کے چلے

sadaa kaa loch sukhan kaa nikhaar le ke chale

غزل · Ghazal

آدمی اپنی ذات میں تنہا عالم شش جہات میں تنہا اے خدا تو ہی بے مثال نہیں میں بھی ہوں کائنات میں تنہا مجھ کو ہر ایک بات کا غم ہے میں ہوں ہر ایک بات میں تنہا موت کے دشت بے کنار میں گم شہر کے حادثات میں تنہا مجھ کو کس جرم میں اتار دیا کار زار حیات میں تنہا بے اماں دشمنوں کی زد میں ہوں دہر کے سومنات میں تنہا آپ اپنی تلاش ہے مجھ کو ہوں عجب مشکلات میں تنہا

aadmi apni zaat mein tanhaa

غزل · Ghazal

یہ عجب راستہ ہے جس پہ لگایا ہے مجھے محو حیرت ہوں کہ کیا چیز بنایا ہے مجھے تیری دوری بھی ہے مشکل تری قربت بھی محال کس قدر تو نے مری جان ستایا ہے مجھے تو کسی پھول کسی آنکھ کے پردے میں رہا تو نے کب اپنا حسیں چہرہ دکھایا ہے مجھے میرے فردوس کی نہریں مری خاطر ہیں تو کیوں پیاس کے دشت میں حیران پھرایا ہے مجھے ساری مخلوق سے تقویم میں احسن ہوں میں اور پھر آگ کا ایندھن بھی بنایا ہے مجھے اپنی تخریب پہ نادم ہوں نہ تعمیر پہ خوش تو نے ڈھایا ہے مجھے تو نے بنایا ہے مجھے

ye ajab raasta hai jis pe lagaayaa hai mujhe

غزل · Ghazal

ہوا چلی تو نشہ چھا گیا فضاؤں میں خیال ڈوب گیا دور کی صداؤں میں نہ ہاتھ آئے مرے دوڑتے ہوئے لمحے سفر کٹا ہے مرا بادلوں کی چھاؤں میں میں اپنے شہر کے نقش و نگار بھول گیا کسی نے لوٹ لیا مجھ کو چاٹ گاؤں میں نہ عشق کی کوئی منزل نہ حسن کا کوئی طور یہ آگ کیسے گرفتار ہو وفاؤں میں یہ فاصلوں کے سرابوں سے سیر ہو نہ سکے نہ جانے تشنگی کتنی ہے میرے پاؤں میں قدم قدم پہ مجھے سجدہ گہ نظر آئے گھرا ہوا ہوں میں بندوں میں یا خداؤں میں اسے بھی گاہے بگاہے نگاہ میں رکھنا جمیلؔ بھی تو ہے تیرے غزل سراؤں میں

huaa chali to nasha chhaa gayaa fazaaon mein

غزل · Ghazal

بھیڑ ایسی ہے کہ مجھ کو راستہ ملتا نہیں گل کوئی کھلتا نہیں شعلہ کوئی اٹھتا نہیں اے مرے شوق طلب تیرے جنوں کی خیر ہو تو نے کیا حد نگہ کا فاصلہ دیکھا نہیں اے غرور حسن میں تیرے بدن کا عکس ہوں محو حیرت ہوں کہ تو نے مجھ کو پہچانا نہیں ایک پل میں یہ ردائے آب میں چھپ جائیں گی رنگ کی لہروں کے پیچھے بھاگنا اچھا نہیں دل جہاں لے جائے دل کے ساتھ جانا چاہیئے اس سے بڑھ کر اور کوئی رہنما ہوتا نہیں جس کے جلووں نے ازل سے مضطرب رکھا مجھے وہ تو میرے سامنے بھی آج تک آیا نہیں

bhiiD aisi hai ki mujh ko raasta miltaa nahin

غزل · Ghazal

دھیان کا راہی رک رک کر پیچھے تکتا ہے بیتے لمحے یاد آتے ہیں دل روتا ہے بند دریچے صف بستہ گم سم دیواریں شہر کی ویرانی سے مجھ کو خوف آتا ہے جانے لوگوں کی آوازیں کیا کہتی ہیں جانے ہر جانب کیوں گہرا سناٹا ہے کہتے ہیں آ آ کے مجھ کو اونٹوں والے صحرا میں بجلی چمکی ہے مینہ برسا ہے بڑھتے ہی جاتے ہیں دیواروں کے سائے دھوپ کا سندر جوبن اب ڈھلتا جاتا ہے پہروں بیٹھا ان کی باتوں کو سنتا ہوں کاغذ کی تصویروں سے جی خوش ہوتا ہے ہمدم ایسے لوگ کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں جن کی باتوں سے دل کا غنچہ کھلتا ہے

dhyaan kaa raahi ruk ruk kar pichhe taktaa hai

Similar Poets