SHAWORDS
Jamuna Parsad Rahi

Jamuna Parsad Rahi

Jamuna Parsad Rahi

Jamuna Parsad Rahi

poet
14Sher
14Shayari
14Ghazal

Sherشعر

See all 14

Popular Sher & Shayari

28 total

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

bujhe bujhe se sharaare hain zard shaakhon par

بجھے بجھے سے شرارے ہیں زرد شاخوں پر سجا گیا ہے کوئی اپنا درد شاخوں پر سفیر شب کا کوئی اشک ڈھونڈتے ہوں گے ہوا کے جلتے ہوئے ہونٹ سرد شاخوں پر عیاں ہے رنگ تغزل گلوں کے چہروں سے بیاض رنگ نہیں فرد فرد شاخوں پر لپیٹے نور کی چادر میں درد کے سائے بھٹک رہا ہے کوئی شب نورد شاخوں پر ہوا کی گود میں موج سراب بھی ہوگی گریں گے پھول تو ٹھہرے گی گرد شاخوں پر پیے ہوئے ہیں شجر انتہائے کرب کا سم کہ ہے نمود گل لاجورد شاخوں پر عروس بوئے بہاراں نے کیا شرارت کی کہ ہیں سفیر صبا خود نبرد شاخوں پر وہ اک اڑان میں شہرت کا آسماں ٹھہرا سمٹ کے رہ گئے باتوں کے مرد شاخوں پر

غزل · Ghazal

jang mein parvar-digaar-e-shab kaa kyaa qissaa huaa

جنگ میں پروردگار شب کا کیا قصا ہوا لشکر شب صبح کی سرحد پہ کیوں پسپا ہوا اک عجب سی پیاس موجوں میں صدا دیتی ہوئی میں سمندر اپنی ہی دہلیز پر بکھرا ہوا کچی دیواریں صدا نوشی میں کتنی طاق تھیں پتھروں میں چیخ کر دیکھا تو اندازا ہوا کیا صداؤں کو صلیب خامشی دے دی گئی یا جنوں کے خواب کی تعبیر سناٹا ہوا رفتہ رفتہ موسموں کے رنگ یوں بکھرے کہ بس ہے مرے اندر کوئی زندہ مگر ٹوٹا ہوا سبز ہاتھوں کی لکیریں زرد ماتھے کی شکن اور کیا دیتا مری تقدیر کا لکھا ہوا

غزل · Ghazal

tasvir kaa har rang nazar mein hai

تصویر کا ہر رنگ نظر میں ہے کیا بات ترے دست ہنر میں ہے سونا سا پگھلتا ہے رگ و پے میں خورشید ہوس کاسۂ سر میں ہے نکلا ہوں تو کیا رخت سفر باندھوں جو کچھ ہے وہ سب راہ گزر میں ہے اک رات ہے پھیلی ہوئی صدیوں پر ہر لمحہ اندھیروں کے اثر میں ہے پانی ہے سرابوں سے وراثت میں وہ خاک جو دامان نظر میں ہے پیشانی آئینہ پہ ہو ظاہر جو زخم دل آئینہ گر میں ہے کیا مہکیں تمناؤں کے گل بوٹے ویرانیٔ صحرا مرے گھر میں ہے

غزل · Ghazal

kohsaar-e-taghaaful ko sadaa kaaT rahi hai

کہسار تغافل کو صدا کاٹ رہی ہے حیراں ہوں کہ پتھر کو ہوا کاٹ رہی ہے پیشانی ساحل پہ کوئی نام نہ ابھرے ہر موج سمندر کا لکھا کاٹ رہی ہے الفاظ کی دھرتی پہ ہوں مفہوم گزیدہ اب جسم پہ کاغذ کی قبا کاٹ رہی ہے ہر روح پس پردۂ ترتیب عناصر ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہے فن کار کا خوں دامن تخلیق پہ گویا تصویر مصور کا گلا کاٹ رہی ہے محجوب ہیں مغرور درختوں کی قطاریں ہر شاخ کو شمشیر انا کاٹ رہی ہے

غزل · Ghazal

khun-girafta ho to khanjar kaa badan dukhtaa hai

خوں گرفتہ ہو تو خنجر کا بدن دکھتا ہے پنجۂ خیر میں ہی شر کا بدن دکھتا ہے پیکر نیم شکستہ ہوں کرو تیشہ زنی بارش گل سے یہ پتھر کا بدن دکھتا ہے کون ہے تجھ سا جو بانٹے مری دن بھر کی تھکن مضمحل رات ہے بستر کا بدن دکھتا ہے مستقل شورش طوفاں سے رگیں ٹوٹتی ہیں ضبط پیہم سے سمندر کا بدن دکھتا ہے زخم خوردہ در و دیوار کی حالت ہے عجب صرف آہٹ سے مرے گھر کا بدن دکھتا ہے قیمت جاں کی توقع کف قاتل سے کہاں خوں بہا یہ ہے کہ خنجر کا بدن دکھتا ہے درد موجوں کی رفاقت کا بڑا ہے شاید قرب ساحل سے شناور کا بدن دکھتا ہے

غزل · Ghazal

gaanv se guzregaa aur miTTi ke ghar le jaaegaa

گاؤں سے گزرے گا اور مٹی کے گھر لے جائے گا ایک دن دریا سبھی دیوار و در لے جائے گا گھر کی تنہائی میں یوں محسوس ہوتا ہے مجھے جیسے کوئی مجھ کو مجھ سے چھین کر لے جائے گا کون دے گا اس کو میری تہ نشینی کا پتا کون میرے ڈوب جانے کی خبر لے جائے گا آئینے ویراں نگاہی کا سبب بن جائیں گے خود پسندی کا جنوں تاب نظر لے جائے گا صبح کے سینے سے پھوٹے گی شعاع مہر نو سب اندھیرے رات کے دست سحر لے جائے گا جذبۂ جہد مسلسل ہے بنائے زندگی یہ گیا تو سارا جینے کا ہنر لے جائے گا

Similar Poets