"hai dilon ka vahi jo dana-e-tasbih ka haal yuun mile hain pa hain dar-asl juda ek se ek"
Javed Lakhnvi
Javed Lakhnvi
Javed Lakhnvi
Sherشعر
See all 14 →hai dilon ka vahi jo dana-e-tasbih ka haal
ہے دلوں کا وہی جو دانۂ تسبیح کا حال یوں ملے ہیں پہ ہیں دراصل جدا ایک سے ایک
un ko to sahl hai vo ghair ke ghar ja.enge
ان کو تو سہل ہے وہ غیر کے گھر جائیں گے ہم جو اس در سے اٹھیں گے تو کدھر جائیں گے
jis jagah jaa.en bana len tire vahshi sahra
جس جگہ جائیں بنا لیں ترے وحشی صحرا خاک لے آئے ہیں مٹھی میں بیابانوں کی
abhi to aag siine men kahin kam hai kahin zaa.id
ابھی تو آگ سینے میں کہیں کم ہے کہیں زائد اگر مل پائیں گے آپس میں سب چھالے تو کیا ہوگا
kahin aisa na ho mar ja.un main hasrat hi hasrat men
کہیں ایسا نہ ہو مر جاؤں میں حسرت ہی حسرت میں جو لینا ہو تو لے لو سب سے پہلے امتحاں میرا
surat na yuun dikha.e unhen baar baar chand
صورت نہ یوں دکھائے انہیں بار بار چاند پیدا کرے حسینوں میں کچھ اعتبار چاند
Popular Sher & Shayari
28 total"un ko to sahl hai vo ghair ke ghar ja.enge ham jo us dar se uThenge to kidhar ja.enge"
"jis jagah jaa.en bana len tire vahshi sahra khaak le aa.e hain muTThi men bayabanon ki"
"abhi to aag siine men kahin kam hai kahin zaa.id agar mil pa.enge aapas men sab chhale to kya hoga"
"kahin aisa na ho mar ja.un main hasrat hi hasrat men jo lena ho to le lo sab se pahle imtihan mera"
"surat na yuun dikha.e unhen baar baar chand paida kare hasinon men kuchh e'tibar chand"
tum diye jaao yunhi ham ko havaa daaman ki
ham se behosh nahin hosh mein aane vaale
khaak uD ke hamaari tire kuche mein pahunchti
taqdir thi ye bhi ki havaa bhi na chali aaj
kahin aisaa na ho mar jaaun main hasrat hi hasrat mein
jo lenaa ho to le lo sab se pahle imtihaan meraa
shab-e-vasl kyaa jaane kyaa yaad aayaa
vo kuchh aap hi aap sharmaa rahe hain
tum paas jo aae kho gae ham
jab tum na mile to justuju ki
surat na yuun dikhaae unhein baar baar chaand
paidaa kare hasinon mein kuchh e'tibaar chaand
Ghazalغزل
na aarzu-e-jafaa ba-qadam nikaal ke chal
نہ آرزوئے جفا بہ قدم نکال کے چل پڑے ہیں راہ میں کچھ دل بھی دیکھ بھال کے چل چلا جو حشر میں میں سن کے آمد جاناں یہ اضطراب پکارا کہ دل سنبھال کے چل ارے یہ حشر میں ہیں سینکڑوں ترے مشتاق یہاں پہ ہم بھی ہیں راضی نقاب ڈال کے چل عدم کا قصد ہے بحر جہاں سے گر جاویدؔ حساب دار زمانہ کو دیکھ بھال کے چل
gardish mein aaina ho na kyuun rozgaar kaa
گردش میں آئنہ ہو نہ کیوں روزگار کا چلو میں خوں لیے ہوں دل بے قرار کا بھڑکی ہوئی تھی سرخ گلوں سے چمن میں آگ دامن نہ جل گیا ہو نسیم بہار کا آئے ہیں لے کے غیر کو وہ پوچھنے مزاج تم نے گلہ کیا تھا دل بے قرار کا محشر کی بھی امید پہ بے کار جان دی کیا اعتبار وعدۂ بے اعتبار کا اتنی تو آرزو ہے کبھی یاد کر لیں دوست شاید کبھی پھر آئے زمانہ بہار کا ساغر ابل رہے ہیں تو شیشوں میں جوش ہے نکلا ہے کھچ کے دم جو کسی بادہ خوار کا تم آئے کیا کہ رنگ زمانہ بدل گیا گل ہو گیا چراغ ہمارے مزار کا تصویر کی رگوں میں لہو دوڑنے لگا کیا آ گیا جہان میں موسم بہار کا
dil-e-sozaan-e-aashiq makhzan-e-rang-e-vafaa hogaa
دل سوزان عاشق مخزن رنگ وفا ہوگا وہ حصہ قدر کے قابل ہے جتنا جل گیا ہوگا چلے تھے درد کو سن کر تھمے یہ کہہ کے رستہ میں نہ جانا اب مناسب ہے وہ کب کا مر گیا ہوگا یہ اک بوسے پہ اتنی بحث یہ زیبا نہیں تم کو نہیں ہے یاد مجھ کو خیر اچھا لے لیا ہوگا چھڑی تھیں حسن کی بحثیں ادھر چاند اور ادھر تم تھے کسی کو دیکھ کر بے پردہ کوئی چھپ گیا ہوگا اندھیرے گھر کی کچھ پروا نہیں ہے تیرہ بختوں کو تم آؤ قبر پر روشن چراغ نقش پا ہوگا مروت کی تو صورت بھی نہیں دیکھی ان آنکھوں نے اگر دھمکاؤں مرنے پر تو کہہ دے گا کہ کیا ہوگا تماشا جانکنی کا کیوں نہ دیکھا دیکھ تو لیتے رگیں جتنی کھچی تھیں دم بھی اتنا ہی کھچا ہوگا تم آؤ دیکھنے والا نہیں کوئی سر مدفن چراغ قبر افسردہ تھا کب کا بجھ گیا ہوگا ابھی تو آگ سینے میں کہیں کم ہے کہیں زائد اگر مل جائیں گے آپس میں سب چھالے تو کیا ہوگا چمک اٹھی جو میرے زخم دل میں کیا قیامت ہے فلک پر چاند نکلا ہوگا یا کوئی ہنسا ہوگا ہمیں سے پوچھ لو کیسے ہو تم اور حسن کیسا ہے اگر آئینہ کو دم بھر نہ دیکھو گے تو کیا ہوگا غم فرقت کا کیا شکوہ قیامت آنے والی ہے خدا کے سامنے آخر تو اک دن سامنا ہوگا یہی جاویدؔ بہتر ہے کہ اب توبہ سے کر توبہ وہی چھپ کر پیے گا مے جو تم سا پارسا ہوگا
zindagi kaa mazaa nahin miltaa
زندگی کا مزا نہیں ملتا بت ملے تو خدا نہیں ملتا منزل آخری ہے قبر مری اب کوئی راستہ نہیں ملتا خوگر ظلم ہو گیا ایسا مجھ کو لطف وفا نہیں ملتا نگہ یاس سے کسے دیکھوں دل درد آشنا نہیں ملتا بات اتنی نہ عمر بھر سمجھے کیا ملا اور کیا نہیں ملتا جس کو جاویدؔ اس نے کھویا ہے اسی دل کا پتا نہیں ملتا
ab tak to kami kuchh na hui daagh-e-jigar mein
اب تک تو کمی کچھ نہ ہوئی داغ جگر میں برسوں سے چراغ ایک ہی جلتا رہا گھر میں ظاہر میں ہنسے وہ مگر آنسو نکل آئے تھا کوئی اثر بھی مرے مرنے کی خبر میں رنگ اڑنے نہ دوں گا تری تصویر کے رخ سے باقی ابھی کچھ خون کے خطرے ہیں جگر میں توسیع خیالات کی حد مل نہیں سکتی چھوٹا سا بیاباں نظر آ جاتا ہے گھر میں اب بڑھ نہیں سکتا غم دنیا یہ خوشی ہے زخموں کی جگہ تک نہیں باقی ہے جگر میں ان انکھڑیوں کے سرخ میں ڈورے نہیں بھولا یہ بجلیاں ایسی ہیں جو اب تک ہیں نظر میں نا واقف انجام کا دل ہوتا ہے کتنا خود رو دیا دیکھے جو کبھی زخم جگر میں اس دور میں آپ آئے تھے اے حضرت جاویدؔ جس عہد میں کچھ فرق نہ تھا عیب و ہنر میں
baDhaa hai soz-e-jigar ab madad ko aae koi
بڑھا ہے سوز جگر اب مدد کو آئے کوئی غضب کی آگ لگی ہے ذرا بجھائے کوئی پڑی ہے دل کو مرے خود بھی عادت فریاد یہ چھیڑتا ہے ہر اک کو کہ پھر ستائے کوئی سنائے جاتے ہیں ہم قصۂ غم فرقت خدا کرے کہ نہ محفل میں مسکرائے کوئی تڑپ وہ ہجر کی تھی اب یہ موت کی ہے تڑپ جو دیکھنا ہو تو اب آ کے دیکھ جائے کوئی جنہیں یہ دیکھ کے تاب آتی ہے وہ اور ہیں لوگ ہم اپنے منہ کو پھراتے ہیں مسکرائے کوئی





