SHAWORDS
Jawayd Anwar

Jawayd Anwar

Jawayd Anwar

Jawayd Anwar

poet
10Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

پھر اپنی ذات کی تیرہ حدوں سے باہر آ تو اب تو ضبط کے ان شعبدوں سے باہر آ میں دیکھ لوں گا ترے اسپ تیرے زور آور بس ایک بار تو اپنی حدوں سے باہر آ دہک دہک کے بہلتے دنوں کے آنسو پونچھ اذان گنگ مرے گنبدوں سے باہر آ تجھے میں غور سے دیکھوں میں تجھ سے پیار کروں اے میرے بت تو مرے بت کدوں سے باہر آ طویل اور نہ کر اب وصال کی ساعت نوائے صبح سفر معبدوں سے باہر آ تو اب تو پھوڑ لے آنکھیں تو اب تو رو جاویدؔ تو اب تو ضبط کے ان شعبدوں سے باہر آ

phir apni zaat ki tira-hadon se baahar aa

غزل · Ghazal

میری تحریروں کا محور ایک بے سر فاختہ میرا نعرہ خامشی میرا پیمبر فاختہ ایک آنگن قہقہوں اور سسکیوں سے بے خبر چھت پہ اک پرچم پھٹا سا اور در پر فاختہ تیرے رستوں کی رکاوٹ شاخ اک زیتون کی تیرے ایوانوں کے اندر جاگتا ڈر فاختہ شام پیاری شام اس پر بھی کوئی در کھول دے شاخ پر بیٹھی ہوئی ہے ایک بے گھر فاختہ ایک جانب اجلے پانی کا بلاوا اور ہوا دوسری سمت اک اکیلی اور بے پر فاختہ

meri tahriron kaa mahvar ek be-sar faakhta

غزل · Ghazal

رات کے خالی فٹ پاتھوں پر گھومنا پھرنا سوچتے رہنا آنکھ میں جاگتی نیندیں لے کر گھومنا پھرنا سوچتے رہنا بہکے بہکے لہجے میں کچھ باتیں کرنا چپ ہو جانا کھولتے رہنا خوابوں کے در گھومنا پھرنا سوچتے رہنا یادوں کے دربند دریچوں میں آنکھیں لٹکائے رکھنا گننا اپنے ہی ٹوٹے پر گھومنا پھرنا سوچتے رہنا بے خوابی کی مشعل لے کر نیند کا رستہ ڈھونڈنا انورؔ کھلے ہوئے ہیں رات کے در پر گھومنا پھرنا سوچتے رہنا

raat ke khaali fōTpaathon par ghumnaa phirnaa sochte rahnaa

غزل · Ghazal

مہیب رات کے گنجان پانیوں سے نکل نئی سحر کے ستارے تو چمنیوں سے نکل ہر ایک حد سے پرے اپنا بوریا لے جا بدی کا نام نہ لے اور نیکیوں سے نکل اے میرے مہر تو اس کی چھتوں پہ آخر ہو اے میرے ماہ تو آج اس کی کھڑکیوں سے نکل نکل کے دیکھ تری منتظر قطار قطار عزیز دانۂ گندم تو بوریوں سے نکل تو میری نظم کے اسرار میں ہویدا ہو تو میرے کشف کی نادیدہ گھاٹیوں سے نکل اے پچھلی عمر ادھر سوکھی پتیوں میں آ اے اگلے سال بجھی موم بتیوں سے نکل

muhib raat ke gunjaan paaniyon se nikal

غزل · Ghazal

مکان سوئے ہوئے تھے ابھی کہ در جاگے تھکن مٹی بھی نہ تھی اور نئے سفر جاگے جو دن چڑھا تو ہمیں نیند کی ضرورت تھی سحر کی آس میں ہم لوگ رات بھر جاگے جکڑ رکھا تھا فضا کو ہمارے نعروں نے جو لب خموش ہوئے تو دلوں میں ڈر جاگے ہمیں ڈرائے گی کیا رات خود ہے سہمی ہوئی بدن تو جاگتے رہتے تھے اب کے سر جاگے اٹھاؤ ہاتھ کہ وقت قبولیت ہے یہی دعا کرو کہ دعاؤں میں اب اثر جاگے

makaan soe hue the abhi ki dar jaage

غزل · Ghazal

بے تکی روشنی میں پرائے اندھیرے لیے ایک منظر ہے تیرے لیے ایک میرے لیے اک گل خواب ایسا کھلا شاخ مرجھا گئی میں نے مستی میں اک اسم کے سات پھیرے لیے در دریچے مقفل کئے کنجیاں پھینک دیں چل پڑے اپنے کندھوں پہ اپنے بسیرے لیے تیری خاطر مرے گرم خطے کی ٹھنڈی ہوا سب ہری ٹہنیاں اور ان پر کھلے پھول تیرے لیے شام وعدہ نے کس دن ہمارا ارادہ سنا کب کسے شب ملی اور کس نے سویرے لیے

be-tuki raushni mein paraae andhere liye

Similar Poets