"dozakh se bhi kharab kahun main bahisht ko do-char agar vahan pe bhi sarmaya-dar hon"

Jitendra Mohan Sinha Rahbar
Jitendra Mohan Sinha Rahbar
Jitendra Mohan Sinha Rahbar
Sherشعر
See all 27 →dozakh se bhi kharab kahun main bahisht ko
دوزخ سے بھی خراب کہوں میں بہشت کو دو چار اگر وہاں پہ بھی سرمایہ دار ہوں
kaisi kashish hai ishq ke TuuTe mazar men
کیسی کشش ہے عشق کے ٹوٹے مزار میں میلہ لگا ہوا ہے ہمارے دیار میں
ek aansu bhi agar ro de to janun tujh ko
ایک آنسو بھی اگر رو دے تو جانوں تجھ کو میری تقدیر مجھے دیکھ کر ہنستی کیا ہے
phir vahi sauda vahi vahshat vahi tarz-e-jun.un
پھر وہی سودا وہی وحشت وہی طرز جنوں ہیں نشاں موجود سارے عشق کی تاثیر کے
khinchte jaate hain khud miri janib
کھنچتے جاتے ہیں خود مری جانب مجھ کو جیوں جیوں وہ آزماتے ہیں
aaya unhen pasand to un ka hi ho gaya
آیا انہیں پسند تو ان کا ہی ہو گیا کم تھا ہمارے دل سے ہمارا کلام کیا
Popular Sher & Shayari
54 total"kaisi kashish hai ishq ke TuuTe mazar men mela laga hua hai hamare dayar men"
"ek aansu bhi agar ro de to janun tujh ko meri taqdir mujhe dekh kar hansti kya hai"
"phir vahi sauda vahi vahshat vahi tarz-e-jun.un hain nishan maujud saare ishq ki tasir ke"
"khinchte jaate hain khud miri janib mujh ko jyuun jyuun vo azmate hain"
"aaya unhen pasand to un ka hi ho gaya kam tha hamare dil se hamara kalam kya"
har samt sabza-zaar bichhaanaa basant kaa
phulon mein rang-o-bu ko luTaanaa basant kaa
tu ne hi rah na dikhaai to dikhaaegaa kaun
ham tiri raah mein gumraah hue baiThe hain
hai fahm us kaa jo har insaan ke dil ki zabaan samjhe
sukhan vo hai jise har shakhs apnaa hi bayaan samjhe
har shai mein har bashar mein nazar aa rahaa hai tu
sajde mein apne sar ko jhukaaun kahaan kahaan
mohabbat mein nahin hai ibtidaa yaa intihaa koi
ham apne ishq ko hi ishq ki manzil samajhte hain
qudrat ki barkatein hain khazaana basant kaa
kyaa khuub kyaa ajiib zamaana basant kaa
Ghazalغزل
adu-e-din-o-imaan dushman-e-amn-o-amaan nikle
عدوئے دین و ایماں دشمن امن و اماں نکلے ترے پیکاں بڑے جابر بڑے نامہرباں نکلے اداؤں نے لبھایا دی نگاہ ناز نے دعوت مگر الفاظ دل شکنی میں میری کامراں نکلے مکر لو عشق سے لیکن سر محشر نہ کہنا کچھ وہاں پر کون جانے کوئی اپنا راز داں نکلے تمہاری بزم ہے رتبے میں جنت سے بھی بالاتر یہاں پیری میں آئے ہم مگر ہو کر جواں نکلے بڑا چرچا ہے کوہ طور کا وادیٔ ایمن کا بہت اغلب ہے وہ در پردہ میری داستاں نکلے بیاباں میں چمن میں دشت میں یا کوہ ویراں میں خدا جانے کہاں پہنچے جو سوئے آشیاں نکلے ہماری موت بھی اک موج ہے دریائے ہستی کی بس اک غوطہ لگانا ہے یہاں ڈوبے وہاں نکلے معطر کر گئی بوئے وفا ماحول عالم کو مرے ہر قطرۂ خوں سے ہزاروں گلستاں نکلے چھپے ہیں سات پردوں میں یہ سب کہنے کی باتیں ہیں انہیں میری نگاہوں نے جہاں ڈھونڈا وہاں نکلے یہ وقت نزع کیسا کیسی تکمیل حیات اے دل امیدیں کب ہوئیں پوری ابھی ارماں کہاں نکلے خدا کا شکر بے دام و درم تھے میکدے میں ہم مگر پیر مغاں اپنے پرانے مہرباں نکلے حقیقت کو جو دیکھا اک نئی دنیا نظر آئی ستم گویا کرم تھا دشمن جاں پاسباں نکلے محبت میں لٹے لیکن بہت اچھے رہے رہبرؔ گماں تھا جن پہ رہزن کا وہ میر کارواں نکلے
aaj mahfil mein nae sar se sanvar aaeinge
آج محفل میں نئے سر سے سنور آئیں گے ان کو معلوم ہے کچھ اہل نظر آئیں گے روبرو یار کے گر بار دگر جائیں گے کر کے ہم ایک بڑا معرکہ سر آئیں گے یہ تو دھمکی ہے کہ وہ غیر کے گھر جائیں گے ہم نشیں دیکھنا ہر پھر کے ادھر آئیں گے صبر کرنے کو جو کہتے ہیں نہیں آتے ہیں کیا مرے زخم جگر آپ ہی بھر آئیں گے کون امید میری آپ سے پوری ہوگی کون ارمان میرے آپ سے بر آئیں گے لاکھ پردوں میں رہیں مجھ سے نہاں روز بہ روز خواب میں وہ مجھے ہر شب کو نظر آئیں گے در سے پھر اس بت پر فن کے ہمارے نالے صاف ظاہر ہے کہ مایوس اثر آئیں گے چشم بینا سے جو دیکھیں گے مرا پردۂ دل اے مسیحا کئی ناسور نظر آئیں گے کوئی کہہ دو کہ بس اب اور توقف نہ کریں ورنہ ہم جی سے گزرنے پہ اتر آئیں گے ناتوانی سے ہماری تجھے کیا تیرا سنبھال ہم ترے سامنے پھر سینہ سپر آئیں گے آزمائیں گے غم ہجر کا اک اور علاج کر کے صحرا میں کچھ ایام بسر آئیں گے رہبری خاک رہ عشق میں ان سے ہوگی دل اگر حضرت رہبرؔ کہیں دھر آئیں گے
zakhm kyaa ubhre hamaare dil mein un ke tiir ke
زخم کیا ابھرے ہمارے دل میں ان کے تیر کے گل کھلے گویا کہ خواب عشق کی تعبیر کے پاسباں نے غم دیا اور ہمدموں نے جان لی آج قائل ہو گئے ہم گردش تقدیر کے خود لکھی ہے خون دل سے عشق کی ہر داستاں زیر احساں میں نہیں ہوں کاتب تقدیر کے رکھ دیا ہے لکھنے والے نے کلیجہ چیر کر ہے مصنف منکشف ہر لفظ میں تحریر کے میں نے جب مایوس ہو کر ہونٹ اپنے سی لئے پھر ہو کیوں مشتاق اتنے تم میری تقریر کے پھر وہی سودا وہی وحشت وہی طرز جنوں ہیں نشاں موجود سارے عشق کی تاثیر کے جستجوئے دید میں پھرتے ہیں سر گردہ مدام ہر قدم پر ہیں مقابل آپ کی تصویر کے بے کسوں معصوم کی مشکل کشائی کیجئے چھوٹنا چکر سے ہے گر آسمان پیر کے خدمت ہر مستحق وہ کار گر تدبیر ہے قفل کھل جاتے ہیں جس سے بندش تقدیر کے دیکھتے ہیں دوسروں کی آنکھ کے تل میں بھی عیب بے خبر ہیں لیکن اپنی آنکھ کے شہتیر کے تم فرائض منصبی انجام دو رہبرؔ فقط مت پڑو جھگڑے میں تم تقدیر و تدبیر کے
haalat jo yahi ai dil-e-naashaad rahegi
حالت جو یہی اے دل ناشاد رہے گی بستی ترے ارمانوں کی آباد رہے گی اس حسن پرستی کا یہی حشر ہے ہونا کل عمر مری عشق میں برباد رہے گی مٹ جائیں گے دنیا سے بھی ہم دید کے گزرے گر اے بت کافر یہی بیداد رہے گی کس جی سے بھلاؤں گا تجھے اے رخ جاناں تا روز ابد مجھ کو تری یاد رہے گی اک عمر اسیری ہی سہی جسم میں اے روح دائم تو نہ یہ قید کی میعاد رہے گی لب تک نہیں آئے گا ترے نام بھی میرا پر دل میں لگاتار مری یاد رہے گی اک دشت جنوں سے دل وحشی کو نکالا رہبرؔ یہ تری راہبری یاد رہے گی
tujhe gar paas-e-ghairat ai sitamgar ho nahin saktaa
تجھے گر پاس غیرت اے ستم گر ہو نہیں سکتا تو دل بھی شاکیٔ تعزیر خنجر ہو نہیں سکتا میں ترک بادہ نوشی کے لئے مدت سے کوشاں ہوں مگر یہ کام پورا قبل محشر ہو نہیں سکتا بلا کر بات پوچھیں روبرو اپنے تو رو دینا دلائل کا اثر کچھ اس سے بہتر ہو نہیں سکتا شکایت تجھ سے کیا ساقی کہ ہے تاخیر کا عادی ستم دنیا میں لیکن اس سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا سکون و ضبط کی تو ہم نشیں میں انتہا کر دوں مگر مجھ کو وہ یوسف اب میسر ہو نہیں سکتا پلائے جا کہ میں مدہوش ہو جاؤں تو تو مانے کہ مے نوشی میں کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا سخن سازی میں لازم ہے کمال علم و فن ہونا محض تک بندیوں سے کوئی شاعر ہو نہیں سکتا ہنر مندوں کی ہر مجلس سے یہ آواز آتی ہے کہ ناداں کا کوئی دنیا میں رہبرؔ ہو نہیں سکتا
ik gosha-e-dil mein jo kisi ke hain makin ham
اک گوشۂ دل میں جو کسی کے ہیں مکیں ہم یہ زعم ہے گویا کہ ہیں والئ زمیں ہم جاری ہے دلوں کا تو وہی ربط نہانی ہر چند کہیں اور ہیں وہ اور کہیں ہم کیا ہے یہ مکاں کیا یہ دیار اور یہ جہاں کیا یہ اوج ہے اپنا کہ جہاں وہ ہیں وہیں ہم یہ معجزۂ عشق ہے اک زندہ حقیقت آتے ہیں نظر آج جہاں بھر میں ہمیں ہم واں اپنی رسائی نہ سہی در تو ہے اس کا ہوتے نہیں اغیار سے یوں چیں بہ جبیں ہم ہر اک میں نظر آتی ہیں کچھ اس کی ادائیں الفت نہ کسی اور سے کر بیٹھے کہیں ہم جو چاہے کہے ایذا دے یا کچھ کرے تذلیل در چھوڑ کے اس کا نہیں جا سکتے کہیں ہم پروانۂ جنت ہمیں دلواتے ہیں کیوں آپ کہہ تو دیا سو بار کہ جائیں گے نہیں ہم نظارۂ عالم ہے بس اک خواب پریشاں بیدار ہوئے گر نظر آئیں گے ہمیں ہم دنیا میں ہے نیرنگیٔ تقدیر تماشا تھے آبلہ پا کل تو ہیں اب تخت نشیں ہم اف اک دل رہبرؔ پہ حسینوں کی یہ تکرار للچائیں ہمیں ہم اسے پا جائیں ہمیں ہم





