SHAWORDS
Kaifi Hyderabadi

Kaifi Hyderabadi

Kaifi Hyderabadi

Kaifi Hyderabadi

poet
12Sher
12Shayari
6Ghazal

Sherشعر

See all 12

Popular Sher & Shayari

24 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

gunjaaish-e-kalaam kahaan khair-o-shar mein hai

گنجائش کلام کہاں خیر و شر میں ہے جب تم بشر میں ہو تو سبھی کچھ بشر میں ہے یوں تو ذلیل و خوار ہر اک کی نظر میں ہے بندے کی شان چشم حقیقت نگر میں ہے غم خوار بن گئے ہیں چھڑکتے تھے جو نمک کچھ ایسی چاشنی مرے زخم جگر میں ہے ارض و سما ہے وقف نگاہ امید و یاس دنیا کی اونچ نیچ ہماری نظر میں ہے کیفیؔ ہے سو بروں کا برا پھر بھی سچ کہو ایسا بھی کوئی شخص تمہاری نظر میں ہے

غزل · Ghazal

tariq-e-ishq mein dekhaa hai kyaa kahein kyun-kar

طریق عشق میں دیکھا ہے کیا کہیں کیوں کر ہماری آنکھ کھلی ہے مقام حیرت میں اگر خلل ہے تو زاہد مرے دماغ میں ہے ہزار شکر نہیں ہے فتور نیت میں بلند و پست کی اس کے کچھ انتہا ہی نہیں عجیب چیز ہے انسان بھی حقیقت میں یہ بزم غیر ہے کیفیؔ کدھر گئے ہیں حواس کہاں تم آ گئے کیا آ گئی طبیعت میں

غزل · Ghazal

nisaar us par na hone se na tang aayaa na aar aai

نثار اس پر نہ ہونے سے نہ تنگ آیا نہ عار آئی مرے کس کام آخر زندگئ مستعار آئی یہیں دیکھا کہ غلبہ ایک کو ہوتا ہے لاکھوں پر طبیعت ایک بار آئی ندامت لاکھ بار آئی ترے دل سے ترے لب تک تری آنکھوں سے مژگاں تک محبت بے قرار آئی مروت شرمسار آئی شراب عشق سے کرنے کو تھا توبہ کہ یار آیا مرے آڑے یہ نیکی کب کی اے پروردگار آئی دل محزوں کی آہیں مست کرتی ہیں مجھے کیفیؔ کہ جب لی سانس میں نے مجھ کو بوئے زلف یار آئی

غزل · Ghazal

arsa-e-har-do-jahaan aalam-e-tanhaai hai

عرصۂ ہر دو جہاں عالم تنہائی ہے کہ جدھر دیکھیے تو ہے تری یکتائی ہے بے نیازی ہے خود آرائی ہے خود رائی ہے آپ کی جانے بلا کون تمنائی ہے پاتے ہیں لطف حیات ابدی تیرے شہید ذبح کرنا ترا اعجاز مسیحائی ہے تم کو کیفیؔ سے تعلق تو نہ ہوگا لیکن جان پہچان ملاقات شناسائی ہے

غزل · Ghazal

vo umangein hain na vo dil hai na ab vo josh hai

وہ امنگیں ہیں نہ وہ دل ہے نہ اب وہ جوش ہے حسن بار چشم ہے نغمہ وبال گوش ہے میں کہوں تو کیا کہوں اب وہ کہے تو کیا کہے دے کے دل خاموش ہوں وہ لے کے دل خاموش ہے اے وفور شادمانی یہ سمجھ لینے تو دے کیا ہمیں ہیں جس سے وہ ہم بزم ہم آغوش ہے اس طرف دل پر جگر پر اس طرف رہتا ہے ہاتھ اپنی ہر کروٹ میں اک معشوق ہم آغوش ہے تار اس کا ٹوٹنے پائے نہ کیفیؔ حشر تک دامن اشک ندامت جرم عصیاں پوش ہے

غزل · Ghazal

har taur har tarah ki jo zillat mujhi ko hai

ہر طور ہر طرح کی جو ذلت مجھی کو ہے دنیا میں کیا کسی سے محبت مجھی کو ہے خود میں نے اپنے آپ کو بد نام کر دیا ثابت ہوا کہ مجھ سے عداوت مجھی کو ہے تم بھی تو روز دیکھتے رہتے ہو آئینہ سچ بولو کیا پسند یہ صورت مجھی کو ہے تم کو تو کچھ ضرور نہیں پاس دوستی ہاں یہ ضرور ہے کہ ضرورت مجھی کو ہے جب لطف تھا کہ اس کو بھی ہوتا مرا خیال کیفیؔ غضب تو یہ ہے محبت مجھی کو ہے

Similar Poets