SHAWORDS
Kashif Syed

Kashif Syed

Kashif Syed

Kashif Syed

poet
9Shayari
18Ghazal

Popular Shayari

9 total

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

کہیں گناہ کہیں پر ثواب لکھتے ہیں فرشتے روز ہمارا حساب لکھتے ہیں وہ لکھ رہے ہیں اگر اپنی بے رخی کو بجا تو ہم نصیب کو اپنے خراب لکھتے ہیں کھلا یہیں سے کھلا شہر شادماں ہم پر تمہارے غم کو مسرت کا باب لکھتے ہیں ہزاروں آنکھ میں چبھتے ہیں خار کی صورت تمہارے چہرے کو جب بھی گلاب لکھتے ہیں یہاں کے لوگ تو تعبیر جانتے ہی نہیں بس اپنے نیند میں رہنے کو خواب لکھتے ہیں فریب کھائے ہیں خوش منظری سے اتنے کہ اب چمکتی ریت کے اوپر سراب لکھتے ہیں ہیں ایسے لوگ بھی شہر ادب میں جو کاشفؔ کتاب پڑھتے نہیں ہیں کتاب لکھتے ہیں

kahin gunaah kahin par savaab likhte hain

غزل · Ghazal

مسلسل رو رہا ہوں پھر بھی کیوں رونے سے ڈرتا ہوں جسے پایا نہیں اب تک اسے کھونے سے ڈرتا ہوں بہت زرخیز ہے دل کی زمیں معلوم ہے لیکن وفا کے بیج اس مٹی میں پھر بونے سے ڈرتا ہوں سنہرا خواب بن کر اک عذاب آنکھوں پہ اترا تھا زمانہ ہو گیا پر آج بھی سونے سے ڈرتا ہوں میں جس کشتی میں بیٹھا اس کو ساحل نے ڈبویا ہے کسی شانے پہ اپنا بوجھ اب ڈھونے سے ڈرتا ہوں مجھے جس نے بھی اپنایا وہ مجھ سے کھو گیا کاشفؔ ترے نزدیک رہ کر بھی ترا ہونے سے ڈرتا ہوں

musalsal ro rahaa huun phir bhi kyon rone se Dartaa huun

غزل · Ghazal

مقتل سے بار بار گزارا گیا ہمیں خنجر سے پہلے خوف سے مارا گیا ہمیں انعام بٹ رہا تھا محبت میں صبر کا مجنوں سے تھوڑا پہلے پکارا گیا ہمیں فرہاد تھک کے بیٹھ گیا تھا جہاں کبھی بالکل اسی جگہ پہ اتارا گیا ہمیں راجا کا بیٹا راجا نہیں بنتا بنتے ہم بس اس لئے کہانی میں مارا گیا ہمیں پہلے کرا لیا گیا اقرار موت کا پھر زندگی کے گھاٹ اتارا گیا ہمیں کاشفؔ وہ خود کو جیت نہ پائے بساط پر یعنی کہ جان بوجھ کے ہارا گیا ہمیں

maqtal se baar baar guzaaraa gayaa hamein

غزل · Ghazal

ہماری آپسی رنجش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے مگر ملنے کی بھی خواہش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے میں اپنی ضد پہ قائم ہوں مگر اس کو بتا دینا وہ سمجھوتے کی گنجائش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے وہ دیواروں میں چنوانے کا منظر اب نہیں دکھتا محبت پر مگر بندش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے ہزاروں ٹھوکریں راہ وفا میں کھا چکا لیکن دل نادان کی لغزش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے سنا کر ساری غزلوں کا ذخیرہ تھک گیا کاشفؔ مگر لوگوں کی فرمائش جو پہلے تھی سو اب بھی ہے

hamaari aapsi ranjish jo pahle thi so ab bhi hai

غزل · Ghazal

تپتے صحرا میں کوئی پھول کھلانے کے لئے اتنا بیتاب نہ ہو خاک اڑانے کے لئے داؤ پر جان لگا دی اسے پانے کے لئے اب مرے پاس بچا کیا ہے گنوانے کے لئے وضع داری کا تحفظ کوئی آسان نہیں کتنے سر کٹ گئے دستار بچانے کے لئے کچھ دیا یا نہ دیا ہم کو زمانے نے مگر کچھ نہ کچھ چھوڑ کے جائیں گے زمانے کے لئے میں نے بھی دیکھ لیا پیار بھری نظروں سے وہ بھی پر تول رہا تھا ادھر آنے کے لئے ہلکے لوگوں کو نہ ہم راز بنانا کاشفؔ سوکھے پتے ہیں فقط شور مچانے کے لئے

tapte sahraa mein koi phuul khilaane ke liye

غزل · Ghazal

کلیوں کی پرورش کا صلہ پا رہے ہیں ہم یارو بھری بہار میں مرجھا رہے ہیں ہم تیرے سوا نہیں ہے کوئی لمس آشنا باد صبا کو چھونے سے گھبرا رہے ہیں ہم جب رہنمائے شوق تو ہی تو ہے چار سو پھر کون سوچتا ہے کدھر جا رہے ہیں ہم اک بار اس نے ہم کو پکارا تھا نام سے مدت ہوئی پر آج بھی اترا رہے ہیں ہم ہر دل عزیز یوں ہی اچانک نہیں ہوئے برسوں اسی دیار میں رسوا رہے ہیں ہم جس دن سے تیرے وعدۂ فردا پہ شک ہوا اس دن سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں ہم کاشفؔ یہ بات کوئی نہ جانے خدا کرے کیوں اتنے بے قرار نظر آ رہے ہیں ہم

kaliyon ki parvarish kaa sila paa rahe hain ham

Similar Poets