SHAWORDS
Khaavar Jilani

Khaavar Jilani

Khaavar Jilani

Khaavar Jilani

poet
14Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

روح کے دامن سے اپنی دنیا داری باندھ کر چل رہے ہیں دم بہ دم آنکھوں پہ پٹی باندھ کر یہ کہانی ایک ایسے سر پھرے موسم کی ہے خشک پتوں سے جو لے آیا تھا آندھی باندھ کر حق اگر کوئی نمو کا تھا تو وہ اس نے ادا کر دیا ہے بادلوں سے آبیاری باندھ کر صبح ہوتی ہے تو کنج خوش گمانی میں کہیں پھینک دی جاتی ہے شب بھر کی سیاہی باندھ کر اے مرے دریا اگر کوئی بھروسہ ہو ترا چھوڑ جاؤں میں تری لہروں سے کشتی باندھ کر گام اٹھتے ہی سفر نے پاٹ دی ساری خلیج رہروی نے ڈال دی اک سمت دوری باندھ کر میں سراسر ایک اندیشہ ہوں نقص امن کا مجھ کو رکھتا ہے لہٰذا میرا قیدی باندھ کر عجز گوئی پر پڑاؤ ڈال دیتی ہے مری لفظ یابی معنویت سے ہے تتلی باندھ کر کھل رہے ہیں سر زمین دل پہ جذبوں کے گلاب اڑ رہی ہے آج خوشبو خود سے تتلی باندھ کر جانے سینے میں بکاؤ شے ہے کیا جس کے لیے دوڑتی پھرتی ہیں سانسیں ریزگاری باندھ کر وا ہوئے ہوتے دریچے آج امکانات کے گر نہ رکھ دیتی ہمیں اپنی مساعی باندھ کر

ruuh ke daaman se apni duniyaa-daari baandh kar

غزل · Ghazal

بہتر کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کمی کہیں پوشیدہ کوئی رہ جاتی ہے من چاہی تصویر بنانے میں مجھ سے ہنر وری میں کچھ کوتاہی رہ جاتی ہے سیلاب آ جانے پر اس بستی کی ساری پختہ کاری کچی رہ جاتی ہے بننے والی بات وہی ہوتی ہے وہ جو بنتے بنتے یکسر بنتی رہ جاتی ہے رہ جاتی ہے آتے آتے آتی ساعت ہونی ہوتے ہوتے ہوتی رہ جاتی ہے وقت گزر جاتا ہے لیکن دل کی رنجش دل میں بیٹھی کی بیٹھی ہی رہ جاتی ہے چلتے رہ جاتے ہیں روز و شب کے دھندے گنگا الٹی سیدھی بہتی رہ جاتی ہے پھانک لیے جانے کو خاک مسافت کی راہوں پر ہی چھانی پھٹکی رہ جاتی ہے آ جاتی ہے برہا اور دلہنیاں چھت پر اپنے گیلے بال سکھاتی رہ جاتی ہے

behtar ki gunjaaish baaqi rah jaati hai

غزل · Ghazal

چلتے چلتے راہوں سے کٹ جانا پڑتا ہے ہوتے ہوتے منظر سے ہٹ جانا پڑتا ہے دیکھنا پڑ جاتا ہے خود کو کر کے ایک تماشائی اپنی دھول اڑا کر خود اٹ جانا پڑتا ہے خطاطی سے دور بھٹکنے والے سوچ کے دامن کو کورے کاغذ کے ہاتھوں پھٹ جانا پڑتا ہے سازینہ جب قدم بڑھاتا ہے اس کی پازیبوں کا کانوں کو جھنکار کی آہٹ جانا پڑتا ہے خواہش مر جائے تو اس کی چتا کو آگ دکھانے میں دھڑکن دھڑکن دل کے مرگھٹ جانا پڑتا ہے تاب نہیں ہو جس میں کانچ کو ریزہ ریزہ کرنے کی اس پتھر کو ٹکڑوں میں بٹ جانا پڑتا ہے خود کے متلاشی کو ایک نہ اک دن آخر کار اپنے بھولے بسرے ہوئے کی چوکھٹ جانا پڑتا ہے سچائی وہ جنگ ہے جس میں بعض اوقات سپاہی کو آپ مقابل اپنے ہی ڈٹ جانا پڑتا ہے اک چنگاری آگ لگا جاتی ہے بن میں اور کبھی ایک کرن سے ظلمت کو چھٹ جانا پڑتا ہے بات ریاکاری کے بن بن پاتی نہیں ہے خاورؔ اس دوزخ میں کروٹ کروٹ جانا پڑتا ہے

chalte chalte raahon se kaT jaanaa paDtaa hai

غزل · Ghazal

نافع ہے کچھ تو وہ کسی فیضان ہی کا ہے ورنہ تعلقہ مرا نقصان ہی کا ہے کلفت ہے سب کی سب یہ توقع کے نام کی جو بھی کیا دھرا ہے یہ امکان ہی کا ہے مال و منال دست گہہ حادثات کا رہتے ہیں گر بحال تو اوسان ہی کا ہے منظر وہ ہے کہ جو کبھی ششدر نہ کر سکے حیرت یہ ہے کہ دیدۂ حیران ہی کا ہے الزام خود ہوں میں یہاں ہستی کے نام پر میرا وجود اصل میں بہتان ہی کا ہے تفصیل میں تو سمٹا ہوا ہی تھا انکسار اجمال بھی یہ عجز کے عنوان ہی کا ہے آخر عیاں ہوا کہ مراسم کی ذیل میں اسباب دل شکستگی پیمان ہی کا ہے جب تک بہ دوش رہتا ہے رہتا ہوں گامزن میرا سفر حقیقتاً سامان ہی کا ہے اترے وہ ناؤ شوق سے ہو ڈوبنا جسے ساحل مزاج بحر کا طوفان ہی کا ہے آوارگاں کے واسطے کردار دشت کا انجام کار حیطۂ زندان ہی کا ہے جائے پناہ اس کی کوئی دوسری نہیں خاورؔ کہیں کا ہے تو بیابان ہی کا ہے

naafe hai kuchh to vo kisi faizaan hi kaa hai

غزل · Ghazal

مفصل داستانیں مختصر کر کے دکھائیں گے طوالت عمر بھر کی جست بھر کر کے دکھائیں گے جو سپنے دیکھ رکھے ہیں جہان دیدۂ وا نے انہیں تعبیر کے زیر اثر کر کے دکھائیں گے یہ وہ نمناکیاں ہیں جو ہوا دیں گی الاؤ کو یہ وہ آنسو ہیں جو خود کو شرر کر کے دکھائیں گے بھروسہ رہ گیا کچھ خاک کو ہم پر اگر تو ہم فنا کے سامنے جیون بسر کر کے دکھائیں گے تلفظ پر نہ ہو موقوف جب کچھ تو معانی کو کسی کے لفظ کیا زیر و زبر کر کے دکھائیں گے یہ بادل کیا دکھائیں گے ہوا کو مشتعل ہو کر یہ پتے پیڑ کو کیا در بہ در کر کے دکھائیں گے اجازہ ہو گیا معجز بیانی کا تو ہم تیرے اسی تخم تحیر کو شجر کر کے دکھائیں گے اگر پاتال بن جائے گا اس کی تہہ میں اتریں گے اگر چوٹی بنے گا اس کو سر کر کے دکھائیں گے گماں جو اوس کے قطروں کی صورت ہیں ابھی خاورؔ کسی دن وہ تمہیں خود کو بھنور کر کے دکھائیں گے

mufassal daastaanein mukhtasar kar ke dikhaaeinge

غزل · Ghazal

قدم قدم کا علاقہ ہے ناروا تک ہے فسون جور و جفا پیشہ جا بجا تک ہے گر ایک بار کا ہونا الم غنیمت تھا ستم تو یہ ہے کہ در پیش بارہا تک ہے دئیے کی لو سے نہیں واسطہ کسی کا کوئی اگر کسی کا کوئی ہے تو پھر ہوا تک ہے عمل ہے خود پہ عمل دار تا دم موقوف اور اس کا رد عمل اپنے التوا تک ہے صدائے شور و شغب ہے ادھر سماعت تک شنید گرد و جوانب ادھر صدا تک ہے مگر یہ کون بتائے سفر نوردوں کو کہ حد دشت جنوں ان کے اکتفا تک ہے اے بے قرارئ دل مجھ کو یہ خبر ہی نہ تھی کہ جو قرار کی سرحد ہے اتقا تک ہے خدا سے بعد میں رکھے ہوئے ہے دنیا کو وہ فاصلہ جو ہتھیلی سے اک دعا تک ہے کہیں پرے کی ہے حاجت روائی سے میری مرا سوال ضرورت سے ماورا تک ہے ہے تو ہی آنکھ مری اے جمال پیش نظر سو یہ تماشہ مرا اک تری رضا تک ہے نہیں ہے کوئی بھی حتمی یہاں حد معلوم ہر ایک انتہا اک اور انتہا تک ہے

qadam qadam kaa 'ilaaqa hai naa-ravaa tak hai

Similar Poets