bachche meri ungli thaame dhire dhire chalte the
phir vo aage dauD gae main tanhaa pichhe chhuT gayaa

Khalid Mahmood
Khalid Mahmood
Khalid Mahmood
Popular Shayari
3 totalshaayad ki mar gayaa mire andar kaa aadmi
aankhein dikhaa rahaa hai baraabar kaa aadmi
jise dekho chhupaa phirtaa hai 'khaalid'
jamaaat aa gai mevaat vaali
Ghazalغزل
یہاں سے ہے کہانی رات والی کہ وہ اک رات تھی برسات والی کہا تھا جو وہی کر کے دکھایا وہ برق بے اماں تھی بات والی بڑی لمبی پلاننگ کر رہی ہے ہماری زندگی لمحات والی کسی کی بھی نہیں ہوتی یہ دنیا کہ اس کی ذات ہے بد ذات والی ہمارا حوصلہ ہے زندگی سے لڑے جاتے ہیں کشتی مات والی نہ اب گھر میں وہ تہذیبی توازن نہ اب وہ کوٹھری جنات والی جسے دیکھو چھپا پھرتا ہے خالدؔ جماعت آ گئی میوات والی
yahaan se hai kahaani raat vaali
وقت قیام دست قضا نے نہیں دیا چلنے لگے تو ساتھ ہوا نے نہیں دیا پہلے ہی مرحلے میں قلم ہو کے رہ گئے دست ہنر کو ہاتھ دکھانے نہیں دیا گرنا تو کیا برا تھا مگر اس کو کیا کہیں جو گر گیا تو اٹھنے اٹھانے نہیں دیا اب ان کی کج روی سے شکایات ہیں ہمیں ہم نے ہی ان کو راہ پہ آنے نہیں دیا دو چار کاریں کوٹھیاں دس بیس لاکھ بس اس سے زیادہ خوف خدا نے نہیں دیا میں صرف ٹیلیفون کا احسان مند ہوں ان کا پیام باد صبا نے نہیں دیا اس یار شوخ چشم سے خالدؔ کا ارتباط اک راز تھا کہ جس کو چھپانے نہیں دیا
vaqt-e-qayaam dast-e-qazaa ne nahin diyaa
آنکھوں میں دھوپ دل میں حرارت لہو کی تھی آتش جوان تھا تو قیامت لہو کی تھی زخمی ہوا بدن تو وطن یاد آ گیا اپنی گرہ میں ایک روایت لہو کی تھی خنجر چلا کے مجھ پہ بہت غم زدہ ہوا بھائی کے ہر سلوک میں شدت لہو کی تھی کوہ گراں کے سامنے تیشے کی کیا بساط عہد جنوں میں ساری شرارت لہو کی تھی رخسار و چشم و لب گل و صہبا شفق حنا دنیائے رنگ و بو میں تجارت لہو کی تھی خالدؔ ہر ایک غم میں برابر شریک تھا سارے جہاں کے بیچ رفاقت لہو کی تھی
aankhon mein dhuup dil mein haraarat lahu ki thi
خطا گیا جو نشانہ کماں بدلتا ہے نہیں تمیز رہائش مکاں بدلتا ہے کہانی یہ تھی کہ سب ساتھ مل کے رہتے ہیں پھر اس کے بعد اچانک سماں بدلتا ہے ہم اس کی راہ میں آنکھیں بچھا کے دیکھ چکے مگر وہ جان کا دشمن کہاں بدلتا ہے امیر شہر تنوع پسند ہے خالدؔ لباس نو کے مطابق زباں بدلتا ہے
khataa gayaa jo nishaana kamaan badaltaa hai
رنگ و رامش زمزمے گل ہائے تر ہوتے ہوئے دل اکیلا اور اتنے ہم سفر ہوتے ہوئے آنسوؤں سے سرد ہو جاتی ہے ہر سینے کی آگ میرا دل آتش کدہ ہے چشم تر ہوتے ہوئے دل کی دنیا میں اندھیرا ہو تو کچھ روشن نہیں آنکھ چشم سنگ ہے شمس و قمر ہوتے ہوئے چشم آگے ایک چہرہ پاؤں گو چکر میں ہیں در بہ در ہوتا نہیں دل در بہ در ہوتے ہوئے حوصلہ ٹوٹا تو وہ عبرت کا منظر آ گیا اڑ نہیں پایا پرندہ بال و پر ہوتے ہوئے نصف دنیا بھوک سے اور پیاس سے مغلوب ہے دست و بازو ذہن و دل لعل و گہر ہوتے ہوئے ہر کس و ناکس پہ کر لیتا ہے فوراً اعتبار بے خبر کتنا ہے خالدؔ با خبر ہوتے ہوئے
rang-o-raamish zamzame gul-haa-e-tar hote hue
جہاں دار پہ وار چلنے لگا غلاموں کا دربار چلنے لگا ازل سے کسی شے میں گردش نہ تھی چلا میں تو سنسار چلنے لگا خدا رکھے امریکہ و روس کو میاں اپنا اخبار چلنے لگا تبسم تکلم جواں ہو گئے مبارک ہو گھر بار چلنے لگا ابھی دھوپ خالدؔ پہ آئی نہ تھی کہ دیوار دیوار چلنے لگا
jahaan-daar pe vaar chalne lagaa





